کیوبا کے پانچ کھلاڑیوں کو ریپ کے جرم میں سزا

تمام مجرمان کو دو جولائی کو فن لینڈ جنوبی شہر سے گرفتار کیا گیا تھا جب ایک خاتون نے ان پر ہوٹل میں ریپ کا الزام عائد کیا تھا

فن لینڈ کے شہر ٹیمپیئر میں منعقدہ ورلڈ لیگ ٹورنامنٹ کے دوران کیوبا کی قومی والی بال ٹیم کے پانچ کھلاڑیوں کو ایک مقامی خاتون کے ریپ کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔

چار کھلاڑیوں کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جن میں ٹیم کا کپتان بھی شامل ہے جبکہ ایک کھلاڑی کو ساڑھے تین سال قید کی سزا ہوئی ہے۔

ان تمام مجرمان کو دو جولائی کو فن لینڈ کے جنوبی شہر سے گرفتار کیا گیا تھا جب ایک خاتون نے ان پر ہوٹل میں ریپ کا الزام عائد کیا تھا۔

ابتدائی طور پر آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا تاہم دو کو بعدازاں رہا کر دیا گیا تھا۔

مزید ایک کھلاڑی کو ٹیمپیئر کی عدالت نے اگست کے اواخر میں رہا کر دیا تھا۔

کیوبا کی قومی والی بال ٹیم ریو اولمپکس سے قبل منعقدہ اس ٹورنامنٹ میں شرکت کر رہی تھی اور اسی ہوٹل میں ریپ کا واقعہ پیش آیا جہاں یہ کھلاڑی ٹھہرے ہوئے تھے۔

تمام افراد نے اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی تھی اور ان کا اصرار تھا کہ خاتون نے رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

ان الزامات کے بعد ٹیم کے دو کوچوں کو بھی برطرف کر دیا گیا تھا۔

ان کھلاڑیوں کے ٹیم میں شامل نہ ہونے کے باوجود کیوبا کی ٹیم نے ریو اولمپکس نے شرکت کی تھی اور اسے تمام میچوں میں شکست ہوئی تھی۔

Scroll To Top