پاکستان پر پھر دباو ڈالا جارہا ہے

zaheer-babar-logo

خیال کیا جارہا ہے کہ امریکہ ایک بار پھر اففانستان میں قیام امن کی کوششوں کا آغاز کرنے جارہا۔اس ضمن میں نمایاں پیش رفت یہ ہوئی کہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان میں سیاسی مفاہمت کے حوالے سے ٹیلی فونک بات چیت کی ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ انکل سام دل وجان اس نظریے پر یقین رکھتا ہے کہ کابل میں امن وامان جیسے بنیادی ہدف کے حصول میں پاکستان کا کردار کلیدی نوعیت کا ہے۔ امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان ہیتھر نوئرٹ نے سماجی رابطوں کی وئیب سائٹ پر کہا ہے کہ وزیرِ خارجہ نے جنوبی ایشیا میں ساری دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بغیر کسی امتیاز کے کارروائی کی اہمیت پر بات کی ہے۔“
بہترین سفارتکاری اسے ہی کہا جاتا ہے جس میں فریق مخالف کو الجھا کر رکھا جائے یہی وجہ ہے کہ امریکہ ایک طرف پاکستان سے تعاون کا خواستگار ہے تو دوسری جانب آئے روز پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا۔
عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کی اہمیت کم کرنے میں بھارتی لابی پیش پیش ہے۔ یقینا اس مہم میں اسے کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں کی درپردہ حمایت حاصل ہے۔ دشمن کا دشمن دوست ہوا کرتا ہے اسی فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے بھارت ان تمام ملکوں کے قریب ہے جن کے بالواسطہ یابلاواسطہ طور پر پاکستان سے اختلافات ہیں۔
یہ پہلو اہم ہے کہ رواں ماہ ہی یعنی 24 جون کو پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اپنائی گئی اپنی حکمتِ عملی بتائے ہوئے اور اب تک کیے گئے اقدامات سے اس تنظیم کو آگاہ کرنا ہے۔ مبصرین کے خیال میں اگر مذکورہ تنظیم پاکستان کے اقدامات سے مطمئن نہ ہوئی تو پاکستان کو بلیک لسٹ میںڈالا جانا خارج ازامکان نہیں۔
یقینا یہ صورت حال ملک کے کئی سنجیدہ حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے۔ اعلی امریکی شخصیت کا اس موقعہ پر رابطہ کرنا بذات خود ایک پیغام ہے بادی النظر میںاس موقعہ پر امریکی حکام کے رابطے کا مقصد اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ پاکستان پر مزید دبا ڈالا جائے۔ سالوں سے امریکہ پاکستان پر الزام لگاتا چلا آرہا کہ حقانی نیٹ ورک کے محفوظ ٹھکانے پاکستان میں ہیں جو افغانستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
اگر مگر کے باوجود اس تلخ سچائی سے صرف نظر نہیں کیاجاسکتا ککہ پاکستان بین الاقوامی طور طور مسائل کا شکار ہے۔ مبصرین کے خیال میں سفارتی تنہائی اس کے معاشی مسائل میں بہت اضافہ کردے گی ۔ ملکی معیشت زبوں کا حالی کا شکار ہے جس کے لیے پاکستان کو فوری طور پر کم از کم سات ارب ڈالرز کی ضرورت ہے۔ اس پس منظر میں یہ کہا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کو افغانستان کے استحکام میں اہم کردار ادا کر نے کا کہا جائیگا جس کے لیے وہ اپنا کردار خاموشی سے ادا کرسکتا تاکہ اسے بلیک لسٹ میں شامل نہ کیا جائے۔ یاد رہے کہ پاکستان کا قومی مفاد اس وقت یہ ہے کہ اسے اس لسٹ میں شامل نہ کیا جائے اور اس کے لیے پاکستان زیادہ سے زیادہ اقدمات اٹھانا خارج ازمکان نہیں۔
ادھر افغان صدر اشرف غنی نے ستائیس رمضان سے ایک ہفتے کے لیے طالبان کے خلاف عسکری کارروائیاں نہ کرنے کا اعلان یک طرفہ طور پر کیا ہے۔کابل میں افغان صدارتی دفتر سے جاری بیان کے مطابق یک طرفہ سیز فائر کے اس فیصلے میں القاعدہ اور داعش کو شامل نہیں کیا گیا۔
خیال کیا جارہا ہے کہ اشرف غنی کے اس اقدام کو امریکہ کی درپردہ حمایت حاصل ہے ۔ ایک بار پھر امریکہ یہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں کسی نہ کسی حد تک امن قائم ہو تاکہ اس کی مشکلات کم ہوسکیں۔ ماضی میں طالبان بار بار یہ تقاضا کرتے رہے کہ جب تک غیر ملکی افواج ان کی سرزمین سے چلی نہیں جاتیں وہ کسی طور پر مذاکرت میں پیش رفت نہیں دکھائیں گے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ طالبان افغان حکومت سے کس قدر سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کرنا چاہ رہے ہیں۔ ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ مذاکرتی عمل کئی بار شروع ہوا اور پھر ختم ہوگیا۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کا جنرل قمر جاوید باجوہ کو فون اور افغان صدر کا طالبان کے لیے یک طرفہ طورپر سئزفائر کا اعلان باہم مربوط عمل ہے مگر امریکہ اور افغانستان کو پاکستان پر ضرورت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہے۔ یقینا افغانستان میں قیام امن پاکستان کی بھی ضرورت ہے مگر یہ کہنا مبالغہ آرائی ہوگا کہ افغان طالبان پر پاکستان فیصلہ کن دباوڈال سکتا ہے۔افغانستان کی تاریخ پر طائرانہ نظر یہ بتانے کے لیے بہت کافی ہے کہ اس سرزمین پر غیر یقینی ہی مسقل رہی ہے چنانچہ آنے والے دنوں میں کسی بھی مثبت منظر نامے کی توقعررکھنا احتیاط کی متقاضی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین سے پرتشدد گروہوں کو ختم کرنے کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ کم وبیش ستر ہزار شہری اور سیکورٹی فورسز کے لوگ شہید ہوئے ، ہزاروں عمر بھر کے لیے معذور ہوگے ، اربوں روپے کی املاک کا نقصان ہوا۔ مگر پڑوس میں براجمان امریکہ سمیت غیر ملکی افواج اسے افغانستان میں امن وامان کے ساتھ منسلک کرکے دیکھ رہیں جس کے نتیجے میںپاکستان کی قربانیوں کا اس طرح ہرگز اعتراف نہیں کیا جارہا جس کی بجا طور پر ضرورت ہے۔

Scroll To Top