وزیراعظم تو میں بنوں گا ! 06-06-2013

kal-ki-baat

میاں نوازشریف تیسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم بن گئے ہیں۔ اس مرتبہ جن حالات میں انہیں جمہورِ پاکستان کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہوا ہے وہ ڈھکے چھپے نہیں۔ کوئی ایسا مسئلہ یا بحران نہیں جس کا سامنا ملک نہیں کررہا۔ اور پوری قوم اپنی سیاسی وابستگیوں سے بے نیاز ہو کر میاں نوازشریف سے ایک فعال اور نتائج آفریں دورِ حکومت کی بلند توقعات وابستہ کرچکی ہے۔اگر یہ کہاجائے کہ ملک میں ایک نئی قیادت ظہور پذیر ہورہی ہے توغلط نہیں ہوگا۔میاں نوازشریف نئے ہر گز نہیں لیکن عمران خان کے ظہور نے انہیں ایک نیا عزم وارادہ اور ایک نیا اندازِ فکر وعمل اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
میاںنوازشریف کے ساتھ میری سیاسی وابستگی کبھی نہیں رہی۔ مگران کے ساتھ ذاتی حیثیت سے میرا تعلق خاصا پرانا ہے۔ اور اس تعلق کا آغاز 34برس قبل ہوا تھا جب ہم دونوں ایئر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال میں کام کررہے تھے۔ میں 1979ءمیں ملک کی اس وقت کی سب سے بڑی ایڈورٹائزنگ ایجنسی اورینٹ کے شمالی ونگ (لاہور اسلام آباد)کا سربراہ تھا۔ میاں نوازشریف کے ساتھ میری پہلی ملاقات اورینٹ کے لاہور آفس میں ہی ہوئی تھی۔اس ملاقات کے نتیجے میں جو تعلق قائم ہوا اس کی وجہ سے جب میں نے جون1981ءمیں اپنی ایڈورٹائزنگ ایجنسی میڈاس کی بنیاد رکھی تو اس کی افتتاحی تقریب کی صدارت میاں صاحب نے ہی کی۔ مہمان خصوصی اس تقریب میں وفاقی وزیراطلاعات راجہ ظفر الحق تھے۔ تب میاں نوازشریف پنجاب کے وزیر خزانہ تھے۔1984ءکے غیر جماعتی عام انتخابات میں جب میاں نوازشریف نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز عوامی سطح پر کیا تو انہیں ایڈورٹائزنگ کے شعبے میں پیشہ ورانہ خدمات میڈاس اور میں نے ذاتی طور پر مہیا کیں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک میٹنگ میں میرے اور میاں صاحب کے علاوہ منو بھائی اور پروفیسر شعیب ہاشمی بھی موجود تھے جو میڈاس ٹیم کا حصہ تھے۔گفتگو کے دوران شعیب صاحب نے کہا۔ ”میاںصاحب ایڈورٹائزنگ میں اتنی قوت ہے کہ اس کے ذریعے معجزے رونما کرائے جاسکتے ہیں۔“
” کس قسم کے معجزے ۔؟ “ میاں صاحب نے مسکرا کرپوچھا۔
” آپ اس ملک کے وزیراعظم بن سکتے ہیں ۔“ میں نے برجستہ جواب دیا۔
میاں صاحب مسکرائے اور قدرے توقف کے بعد بولے ” وزیراعظم تو میں بنوں گا۔“
یہ بات کہتے وقت میاں صاحب کے لب و لہجے میں جواعتماد تھا وہ مجھے آج بھی یاد آرہا ہے۔تقریباً سات برس بعد برادرم شعیب ہاشمی نے صبح صبح مجھے فون کیا۔ ” معجزہ رونما ہوگیا۔ میاں صاحب آج وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا رہے ہیں۔“ اب یہ معجزہ ایک بار پھر رونما ہورہا ہے۔ بارہ تیرہ برس قبل میاں صاحب کا سیاسی کیریئر ختم سمجھا جارہا تھا۔ اب ملک کی تقدیر ایک بار پھر ان کے ہاتھوں میں آچکی ہے۔سیاسی طور پر میں ہمیشہ میاں صاحب کے مخالف کیمپ میں رہا ہوں۔ اور اس کی وجہ میری مخصوص سیاسی سوچ ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ایک قومی لیڈر کی حیثیت سے میاںصاحب کا عروج ایک طلسماتی داستان سے کم دلچسپ نہیں۔قائداعظمؒ کے بعد پاکستان میں جن بڑے لیڈروں کا قومی سطح پر عروج ہوا ہے ان میں زیڈ اے بھٹو کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو ` میاں نوازشریف اور عمران خان مرکزی اہمیت کے حامل ہیں۔

Scroll To Top