48سالوں میں کوئی ڈیم نہ بنا

zaheer-babar-logo
قومی سیاسی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اب تک عوامی مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے ایسی سنجیدگی دکھانے میںناکام رہی ہیں جس کی بجا طور پر ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے دعووں اور وعدوں کے باوجود عام آدمی بنیادی ضروریات زندگی کے لیے ترس رہا ہے۔ مثلا عالمی سطح پر پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں کیا جارہا جو آنے والے سالوں میں موسیماتی تبدیلی سے شدید انداز میں متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان تبدیلیوں میں پانی کا بحران سب سے نمایاں ہے جس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگے ہیں۔ایک طرف ملک میں عام انتخابات کی تیاریاں ہیں تو دوسری جانب کراچی تا خبیر پانی کا بحران اپنی تمام تر بدصورتی کے ساتھ سر اٹھا رہا ہے۔ اب پانی کے مسلہ کی گونج سپریم کورٹ تک جا پہنچی ہے ۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے قلت آب سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے ادوار میں کچھ نہیں کیا، دل کرتا ہے ڈیم بنانے اور ملک کا قرضہ اتارنے کے لیے چولہ لے کر چندہ مانگوں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ کو عزت دو کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق دیے جائیں، پانی کے مسئلے پر بلی کی طرح آنکھیں بند نہیں کرسکتے، ہمیں عملی طور پر کچھ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کا پانی ہم منرلز کے ساتھ سمندر میں ضائع کر رہے ہیں، ڈیمز بنانے کے بجائے ہم تو گڑھے ہی نہیں بنا سکے۔
چیف جسٹس کا یہ کہنا غلط نہیں کہ اگر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق آصف زرداری ملک میں پانی کے بحران کو ختم کرنے کے لیے کچھ کرتے تو حالات کسی نہ کسی حد تک بہتر ہوتے۔ خود کو تجربہ کار کہلانی والی دونوں سیاسی جماعتوں سے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ وہ پانی کے بحران کے حوالے سے مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہوئیں۔ اس سوال کو جواب دینا آسان نہیں کہ اگر مملکت خداداد پاکستان میںپانی نہ ہوا تو اس کی تعمیر وترقی کا کون سے دعوی سچ ثابت ہوسکتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ ماضی کی دو منتخب حکومتوں نے عام آدمی کو پانی کا ضیاع روکنے کے کے کسی قسم کی مہم شروع نہیں کی۔
پنجاب کے دس سال وزیر اعلی رہنے والے شہبازشریف میڑو اور اورینج ٹرین جیسے منصوبوں میں اربوں نہیںکھربوں روپے لگاتے رہے مگر صوبے کے عوام کے لیے کوئی چھوٹا بڑا ڈیم نہ بنایا گیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 2025 میں پانی کا سنگین بحران ملک میں آسکتا ہے۔ کالا باغ ڈیم نہ بننے پر دہائی دینے کی بجائے چھوٹے ڈیم بنانے کی جانب توجہ مبذول کرنے کی ضرورت تھی۔ پاکستان پیپلزپارٹی اب پاکستان مسلم لیگ ن پر الزام تراشی کررہی کہ وہ اس کے حصہ کا پانی نہیں دے سکی۔
چیف جسٹس کا کہنا غلط نہیں کہ ووٹ کو عزت دو کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔ پی ایم ایل این شائد یہ سمجھتی ہے کہ پانچ دریاوں کے باسیوں کو ہمیشہ کے لیے بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ یہ حوصلہ افزاءکہ شریف خاندان کی پالیسوںکے خلاف پنجاب سے آوازیں بلند ہوچکیں۔ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے موقعہ پر ایک طرف عوام کو بجلی میسر نہیں تو دوسری جانب پانی کا بحران سراٹھا چکا۔
سماعت کے موقعہ پر چیف جسٹس نے سینئر وکیل اعتزاز احسن کو معاون مقرر کرتے ہوئے کہا کہ اعتراز احسن آپ پانی کے حوالے سے 2، 3 دن میں پالیسی بنائیں۔ اسلام آباد میں پانی کی قلت اور ڈیمز بنانے پر شور مچا ہوا ہے، اعتزاز احسن پینے کے پانی اورپانی کے ذخیروں کے حوالے سے رپورٹ بنا کر دیں۔“
بیس کروڈ سے زیادہ آبادی والی اس ملک میں آنے والے دنوں میں پانی کامسئلہ خطرناک ناسور بن سکتا ہے۔
اس موقع پرعدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ٹینکرز مافیا حکومت کو پانی کا ایک پیسہ ادا نہیں کرتی، ملک ابرار، زمرد خان، ملک محبوب کو عدالت بلائیں اگر ان کے ٹیوب ویل ہیں تو انہیں بند کرادیں گے۔“
یاد رہے کہ 4 جون کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر میں پانی کی قلت کا ازخود نوٹس لیا ، اس سلسلے میں کراچی اور لاہور رجسٹریز معاملے میں بالترتیب 9 اور 10 جون کو سماعت بھی مقرر کی گئی جبکہ چیف جسٹس پانی کی قلت سے متعلق پشاور اور کوئٹہ رجسٹریز میں بھی سماعت کریں گے۔“
سپریم کورٹ میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ ہم پانی کی اسی صورتحال کو دیکھتے رہیں گے تو مر جائیں گے، پاکستان کی 20 فیصد شرح ترقی پانی پر منحصر ہے، 48 سال ہو گئے ملک میں کوئی ڈیم نہیں بنا۔“
بطور قوم سمجھ لینا چاہے کہ ہماری ترجیحات میں پانی کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ نگران حکومت یا عدالت عظمی ایک حد تک کردار ادا کرسکتی ہے مگر اصل زمہ داری وفاقی اورصوبائی حکومتوں کی ہے۔ عام انتخابات کے بعد آنے والے نئی حکومتوں کو پانی کا مسلہ حل کرنا ترجیح اول بنانا ہوگا۔ دوسری جانب یہ بھی امکان ہے کہ قومی میڈیا اور عدالت عظمی کی جانب سے بھی نئی حکومتوں کو اس کا پابند کیا جائے کہ وہ غیر ضروری اخراجات کی بجائے ھنگامی بنیادوں پر چھوٹے بڑے نئے ڈیمز بنائے تاکہ مسقبل کی ضروریات کو پیش نظر رکھاجائے۔ بادی النظر میں ملک بھر میں پانی کی فراہمی اور درختوں کا لگانا لازم ہوچکا، صرف اسی صورت میں آنے والی موسیماتی تبدیلیوں سے نمٹا جاسکتا ہے۔

Scroll To Top