جمہوریت کا تحفظ صرف اچھی فعال اور نتائج آفرین حکمرانی سے کیا جاسکتا ہے ! 05-06-2013

kal-ki-baat
ہمارے سیاستدان اور قائدین کرام چاہتے ہیں کہ قوم اس بات پر بارگاہِ الٰہی میں سجدہءشکر ادا کرے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب جمہوری حکومت نے ایک منتخب جمہوریت حکومت کو اقتدار منتقل کیا۔ اور ایک منتخب پارلیمنٹ نے نہایت باوقار اور پرُامن انداز میں ایک منتخب پارلیمنٹ کی جگہ لی۔
بلاشبہ جمہوری نظامِ حکومت کے لئے یہ ایک اچھی نوید ہے۔ لیکن قوم کو دلچسپی اس بات سے زیادہ ہوگی اور ہے کہ جو پانچ سالہ منتخب جمہوری دور گزر گیا وہ ملک و قوم کو دے کیا گیا۔ کیا آج کا پاکستان پانچ برس پہلے کے پاکستان سے زیادہ خوشحال ہے ۔؟ کیا دودھ کی جن نہروں کا پانچ برس قبل کوئی نام و نشان نہیں تھا وہ آج فراوانی کے ساتھ چہار سُو بہہ رہی ہیں؟
اِن سوالات کو بلند آواز پوچھنا قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔
یہ درست ہے کہ یہ پانچ سال لگ بھگ ایک درجن ارب پتیوں کو کھرب پتی بنا گئے ` لگ بھگ سو کروڑ پتی خاندانوں کو ارب پتی خاندانوں کی صف میں کھڑا کرگئے اور لگ بھگ ایک ہزار خاندانوں کو نئی نئی دولتمندی کی برکات سے فیضیاب کرگئے لیکن عوام نے بھوک ننگ افلاس محرومی بے بسی اور اندھیروں کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔
عوام کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ حکمران ` حکومت کس نظام کے تحت کررہے ہیں انہیں دلچسپی اس بات سے ہے کہ انہیں حکمرانی کے نتیجے میں ریلیف کیا مل رہا ہے ` ان کے شب و روز میں بہتری کیا آرہی ہے ` اور ان کے مقدر میں لکھے گئے اندھیرے کتنے کم ہورہے ہیں۔
عوام کو اپنی خوشحالی ` اپنے ملک کی ترقی اور اپنے مستقبل کا تحفظ چاہئے ۔ اگر یہ سب کچھ انہیں جمہوریت کے ذریعے ملتا ہے تو جمہوریت زندہ باد۔۔۔ اور اگر یہ سب کچھ انہیں کسی اور طرزِ حکومت سے ملتا ہے تو وہ طرزِ حکومت زندہ باد ۔
جہاں تک محمود خان اچکزئی کے اس بیان کا تعلق ہے کہ اب تمام سیاست دانوں کو عہد کرنا چاہئے کہ اگر انہیں برسراقتدار رکھنے والے نظام کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تو وہ ایسی ہرکوشش کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے تو یہ بڑا قابلِ تحسین بیان ہے ۔ مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جن قوتوں کو اچکزئی صاحب نے یہ انتباہ دیا ہے ` وہ قوتیں جب بھی حرکت میں آتی ہیں` عوام نہ صرف یہ کہ ان کے پیچھے امیدیں باندھے کھڑے ہوتے ہیں بلکہ گھی کے چراغ بھی جلا رہے ہوتے ہیں ۔
جمہوریت کا تحفظ صرف اچھی فعال اور نتائج آفرین حکمرانی سے کیا جاسکتا ہے !

Scroll To Top