”مولانا فضل الرحمن سے معلوم کرنا چاہئے کہ رمضان میں خدا کی جھوٹی قسم کھائی جاسکتی ہے یا نہیں ۔۔۔ “

ہمہ تن گوش کی ڈائری

ہمارے کان کھڑے ہوگئے۔ اگرچہ شائیں شائیں کا ہلکا سا شور اب بھی حائل تھا لیکن آواز سنائی دے رہی تھی اور الفاظ بھی سمجھ میں آرہے تھے۔
پہلی آواز مریم بی بی کی تھی جو ہمیں سنائی دی۔ ” ابا حضور کہیں فوج والے ہمارا نیٹ ورک توڑنے کا ارادہ تو نہیں کررہے ؟ میری سوشل میڈیا ٹیم نے بڑی محنت کی ہے۔“
” اگر تمہارا اشارہ آصف غفور کی گفتگو کی طرف ہے تو انہیں زیادہ فکر اب منظور پشتین کی ہے۔ تمہاری ٹیم کی طرف دھیان کسی کا بھی نہیں جائے گا۔“ یہ میاںنوازشریف کی آواز تھی۔
” اباحضور۔۔ ۔ آپ تو زیادہ پڑھتے نہیں۔ دنیا بہت آگے جاچکی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آئی ایس آئی کے پاس بھی آئی ٹی کے حوالے سے جدید ترین سازو سامان ہوگا اور ہماری سوشل میڈیا پر جو سرگرمیاں ہیں ان سے منسلک لوگ پوری طرح آئی ایس آئی کے راڈار پر ہوں گے۔ پہلے میں فکر مند نہیں تھی کیوں کہ ہم حکومت میں بیٹھے تھے اور آئی بی تو بہرحال ہمارے کنٹرول میں تھی۔ اب مجھے پریشانی لاحق ہونے لگی ہے۔“
” اس کا حل یہ ہے بیٹی کہ تمہیں کچھ روز کے لئے اپنی ٹوٹینگ کی عادت کو قابو میں رکھنا ہوگا۔ یہ بھی ایک نشہ ہے ۔ صدر ٹرمپ کو بھی چڑھا ہوا ہے اور تمہیں بھی۔“
” ابا حضور۔۔۔ کہیں سچ مچ 25جولائی کو انتخابات نہ ہوجائیں۔ ہم شور تو یہ مچا رہے ہیں کہ انتخابات ملتوی نہیں ہونے دیں گے ۔لیکن انتخابات کا انعقاد ہمارے سارے دعوﺅں کا پول کھول دے گا۔ “ مریم بی بی نے کہا۔
” گھبراﺅ نہیں ہمارے بیرونی دوست ہمیں بے یارو مدد گار نہیں چھوڑیں گے ۔ تمہیں ابھی حسین حقانی کی صلاحیتوں کا اندازہ نہیں۔“ یہ نوازشریف کی آواز تھی۔
” ابا حضور۔۔۔ مجھے گزشتہ رات بڑا ڈراﺅنا خواب نظر آیا۔ ۔۔آ۔۔۔ آپ خدانخواستہ جیل میں ہیں۔ میں باہر کیا کروں گی؟“
” مجھے اپنی فکر نہیں بیٹی۔ مجھے جیل میں ڈالنا ان کے لئے آسان نہیں ہوگا۔ مجھے تمہاری فکر ہے ۔ تم نے جعلسازی کرتے وقت عقل سے کام کیوں نہ لیا۔؟ “ میاں صاحب نے کہا۔
” ابا حضور۔۔ ۔ میں نے آپ کی ہدایات پر عمل کیا تھا۔ ہمارے تو خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ نوبت یہاں تک آپہنچے گی۔ “ مریم بی بی نے کہا۔
” ایسی منحوس باتیں نہ کریں تو اچھا ہے۔ میرا دل کہہ رہا ہے کہ میں پھروزیراعظم بنوں گا۔“ میاں صاحب بولے۔
” آپ تو اب بھی خود کو وزیراعظم ہی سمجھ رہے ہیں ابا حضور۔۔۔ آپ کی بات بات سے وزارت عظمیٰ ٹپکتی ہے۔ ویسے کبھی کبھی مجھے بھی لگتا ہے کہ میں ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کررہی ہوں اور فضا وزیراعظم مریم نواز زندہ باد کے نعروں سے گونج رہی ہے۔“
” اگر میری باری آگئی تو اس کے بعد تمہاری بھی آئے گی۔ “میاں صاحب نے کہااور مریم بی بی بولیں۔
” آپ بھول رہے ہیں ابا حضورکہ آپ تاحیات نااہل قرار پاچکے ہیں۔ آپ کی باری اب خوابوں میں تو آسکتی ہے لیکن ۔۔۔ “ مریم بات مکمل نہ کرسکیں کیوں کہ میاں صاحب بول پڑے۔ ” میں دوتہائی اکثریت حاصل کرکے قانون بدل ڈالوں گا۔“
” کوئی فائدہ نہیں ابا حضور ۔۔۔ ہم قانون بدلتے ہیں اور یہ جج صاحبان ہمارے لائے ہوئے قانون کو ایسی حقارت سے ٹھوکر مارتے ہیں کہ میری ساری امیدیں ملیا میٹ ہوجاتی ہیں۔ “ مریم بولیں ۔
” خدا کرے کہ ریحام خان کا کارتوس چل جائے۔“ میاں صاحب بولے۔
” وہ تو چل گیا ہے ابا حضور۔۔۔ ہمیں ہی وضاحتیں دینی پڑ رہی ہیں کہ خدا کی قسم ہمارا کوئی تعلق نہیں۔“
” مولانا فضل الرحمان سے معلوم کرنا چاہئے کہ رمضان میں خدا کی جھوٹی قسم کھائی جاسکتی ہے یا نہیں ۔“ میاں صاحب نے کہا۔
” کوئی ضرورت نہیںابا حضور۔۔۔ یہ مولانا مجھے بڑا زہر لگتا ہے۔ ہمارے حق میں فتویٰ دے کرفوراً کوئی مطالبہ کردے گا۔ اس کا پیٹ بھرنا آسان نہیں۔“ مریم بولیں۔
” پھرکیا کیا جائے بیٹی ۔؟ تمہارے مشوروں پر چل چل کر یہاں تک آپہنچے ہیں۔ “ نوازشریف نے کہا۔
” آپ بھی مجھے ہی مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں؟“ مریم کی آواز میں شکوہ تھا۔
” میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے۔ ثاقب نثار کے باورچی سے رابطہ قائم کیا جائے ۔“ میاں صاحب نے کہا۔
” یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔؟ ہمیں 302سے ہر قیمت پر بچنا چاہئے۔“
” اوہو۔۔۔ تم غلط سمجھی ہو۔ ایسی بھی کوئی چیز ضرور ہوگی جس سے آدمی کا حافظہ غائب ہوجائے۔ کتنا مزہ آئے کہ میں سپریم کورٹ جاﺅں اور ثاقب نثار گیٹ پر آکر میرا استقبال کرے اورکہے کہ وزیراعظم صاحب آپ نے کیوں زحمت کی ، میں خود حاضر ہوجاتا۔۔۔۔
ابھی اتنی ہی بات ہوئی تھی کہ شائیں شائیں کے شور نے ہمارا بیانک رابطہ توڑ دیا۔۔۔

Scroll To Top