جنگل میں منگل 04-06-2013

یکم جون 2013ءکو نومنتخب اسمبلیوں میں حلف برداری کی تقاریب کو ہمارے ٹی وی چینلز نے پوری مہارت کے ساتھ قوم کے سامنے پیش کیا۔ صرف مجھے ہی نہیں بہت سارے دیگر لوگوں کو بھی کچھ دیر کے لئے گماں ہوا کہ آئندہ مقابلہ ہائے حسن اور فیشن شو وغیرہ کسی فائیو سٹار ہوٹل میں منعقد کرانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ` اس کام کے لئے اسمبلیاں ہی کافی ہوں گی۔ اس بات کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ میرا اور وینا ملک کو اسمبلیوں میں داخلہ مل گیا ہے ` ہماری وہ خواتین جنہیں ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادتیں دخترانِ پاکستان کی نمائندگی کے لئے پارلیمنٹ میں بھیجتی ہیں وہ کسی بھی لحاظ سے کسی میرا یا کسی وینا ملک سے کم پرُکشش اور کم فیشنبل نظر آنا نہیں چاہتیں۔دلچسپ بات اس ضمن میں یہ ہے کہ جو خواتین ادھیڑ عمری سے بھی آگے جاچکی ہیں وہ صنف نازک کی نمائندگی کے لئے اسمبلیوں میں اس ” اہتمام “ کے ساتھ پہنچتی ہیں کہ اُن پر ” نوخیزی “ اور ” جواں سالی “ کا گماں ہو۔پاکستان کی جمہوریت کے ساتھ یہ سنگین مذاق جنرل پرویز مشرف نے دنیا میں ملک کا ” سافٹ امیج“ نمایاں طور پر پروجیکٹ کرنے کے لئے کیا تھا۔ جنرل صاحب خود بھی خاصے ” خوش نظر “ ” خوش ذوق“ اور ” صاحب دل “ قسم کے آدمی ہیں۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ جنگل میں ہی منگل کا سماں پیدا کردیا جائے۔
پاکستان کا ” سافٹ امیج “ دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے محترمہ حنا ربانی کھر کو وزیر خارجہ بنایا گیا۔ اور اس پر بھارتی اخبارات نے تبصرہ اِن الفاظ میں کیا۔ ” اس مرتبہ پاکستان نے charm- offensiveکا سہارا لیا ہے۔“ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ہماری اسمبلیوں کو اپنا کام قانون سازی تک ہی محدود رکھنا چاہئے ۔ اور انہیں مقابلہ ءحسن یا فیشن شوز کے لئے استعمال کرنا کسی بھی لحاظ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نقیبوں کو زیب نہیں دیتا۔۔۔

Scroll To Top