یہ ایک بڑا اقدام ہوگا جس کے نتیجے میں قوم جان سکے گی کہ کون کتنا بڑا مجرم یا کتنا بڑا رہبر ہے

گزشتہ دنوں آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا سے ایک گفتگو میں حقائق کے ساتھ بیان کیا کہ چند ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا پر پاکستان دشمن عناصر کی یلغار ہوئی ہے اور اس یلغار کا مقصد پاکستان آرمی کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈہ کرنا ` ملک کے محافظوں کے بارے میں شکوک و شہبات پیدا کرنا اور ریاست کے مفادات کو سبوتاژ کرنا ہے ۔۔۔اس گفتگو میں میجر جنرل آصف غفور نے یہ سوال تو اٹھایا کہ منظور احمد نامی ایک گمنام شخص اچانک منظور پشین کے نام سے پوری دنیا کی توجہ کامرکز کیوں اور کیسے بنایا گیا`مگر یہ سوال جان بوجھ کر نظر انداز کرگئے کہ سوشل میڈیا میں نون لیگ سے تنخواہ وصول کرنے والی فوج ظفر موج مریم صفدر کی ” ولولہ انگیز انقلابی “ قیادت میں فوج کے کردار اور ریاست کے طے شدہ مفادات پر حملہ آور کیوں ہے۔۔۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ منظور پشین اور مریم صفدر ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں کیوں کہ ایسا کہنا پاکستان کے تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے شخص کی بیٹی پر ملک سے غداری کرنے کا الزام لگانے کے مترادف ہوگا۔۔۔ اقتدار کے حصول میں اندھا ہوجانا اور قومی مفادات کے خلاف محاذ بنانا ایک بات ہے اور جان بوجھ کر ملک و قوم کے خلاف غداری کا ارتکاب کرنا دوسری بات۔۔۔ مگر باہمی الزامات کے طوفان نے عوام کے دل و دماغ میں بھی طوفان بپا کردیا ہے۔۔۔ قوم بجا طور پر جاننا چاہتی ہے کہ ملک کی قیادت کرنے کے تین بڑے دعویداروں میں کون کہاں کھڑا ہے اور کس کا کتنا کردار اندھیروں میں لپٹا ہوا اور کتنا بے داغ ہے۔۔۔ یہ تین کردار میاں نوازشریف ` آصف علی زرداری اور عمران خان ہیں۔۔۔ اول الذکر دونوں نے برسہا برس ملک پر حکمرانی کی ہے اور دونوں پر سنگین نوعیت کی مالی بدعنوانی کے الزامات ہیں۔۔۔ آخری الذکر نے حکومت تو کبھی نہیں کی مگر حکمرانی کرنے کے امیدواروںمیں ان کی حیثیت اب سب سے آگے ہے۔۔۔ اُن پر اُن کے مخالفین نے مالی بداعمالیوں کی بجائے اخلاقی بداعمالیوں کے الزامات کے فائر کھول رکھے ہیں۔۔۔ اس امر کے بڑے مضبوط شواہد موجود ہیں کہ نوازشریف اپنے مخالفین کو ” مار گرانے “ کے لئے کردار کشی کا ہتھیار بڑی کثرت کے ساتھ استعمال کیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ ہتھیار انہوں نے بھٹو خاندان کے خلاف بھی فراوانی کے ساتھ استعمال کیا اور اب عمران خان ` ریحام خان اور عائشہ گلالئی جیسی توپوں کے نشانے پر ہیں۔۔۔
اب یہ بات ایک قومی ضرورت بن گئی ہے کہ ایک نہایت بااختیار اور خود مختار کمیشن قائم ہوجو تینوں ” امیدوارانِ اقتدار“ کے اعمال نامے کے بارے میں تمام حقائق معلوم کرکے قوم کے سامنے لائے۔۔۔ قوم کو یہ معلوم کرنے کا حق حاصل ہے کہ اس کے کس لیڈر نے کس کس انداز میں اس کے مفادات پر کاری ضربیں لگائی ہیں۔۔۔ اس کمیشن کو Truth Commission )سچ کا کھوجی(کا نام دینے میں کوئی ہرج نہیں۔۔۔ اس کمیشن کی تگ و دو کے نتیجے میں جو حقائق سامنے آئیں گے ان کی روشنی میں عوام پورے اعتماد کے ساتھ یہ فیصلہ کرسکیں گے کہ کون ان کا کتنا بڑا مجرم ہے اور کون اُن کی قیادت زیادہ بہتر انداز میں کرسکتا ہے۔۔۔

Scroll To Top