اثاثوں اورغیر ملکی شہریت بارے بتاناہوگا

از۔۔ ظہیرالدین بابر

سپریم کورٹ نے آئندہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں امیدواروں کے لیے بیان حلفی کو لازمی قرار دیا ہے جس میں وہ تمام معلومات درج ہوں گی جو اس کے اثاثوں اور غیر ملکی شہریت کے بارے میں ہوں گی۔ اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ سامنے آچکا جس میں انتخابی دنگل میں اترنے والے امیدواروں کو اپنے بارے میں تمام تفصیلات جمع کروانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس پس منظر میںگذشتہ روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے الیکشن کمیشن کو اس بیان حلفی کا متن تیار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ۔کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور الیکشن کمیشن کی نظرثانی کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت عظمی کا دو ٹوک انداز میں کہنا تھا کہ بیان حلفی کے متن کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کے بعد تین روز میں امیدواران بیان حلفی ریٹرنگ افسران کے پاس جمع کروا سکیں گے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس بیان حلفی میں امیدوار کی طرف سے کوئی حقائق چھپائے گئے تو ایسا تسلیم کیا جائے گا کہ یہ حقائق سپریم کورٹ سے چھپائے گئے ہیں اور ایسا کرنے والے کے خلاف توہین عدالت سمیت دیگر قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔جناب جسٹس ثاقب نثار کے بعقول ووٹرز کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے امیدوار کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ووٹرز کو آنکھوں پر پٹی باندھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
وطن عزیز میں کہنے کو تو جمہوریت ہے مگر تاحال یہ ایسا نظام ہے جس میں طاقتور افراد ہی من مانی کرتے چلے آرہے ۔ ہر انتخاب کے موقعہ پر حقیقی معنوں میںووٹ لینے کی بجائے ایسا انتطام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں وہ باآسانی ایوانوں تک پہنچ سکیں۔ اب تک ایسا کئی بار ہو اکہ کسی حلقے میں عوام نے ووٹ کسی کو دیا مگر جیتا کوئی اور ۔ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات بارے پاکستان تحریک انصاف کا احتجاج ریکارڈ پر ہے مگر باخبر حقلے بضد ہیں کہ تاحال حالات میں کوئی نمایاں بہتری نہیں ہوسکی۔
ہمیں کھلے دل سے تسلم کرلینا چاہے کہ تادم تحریر پٹواری اور تھانے دار کی سیاست آج بھی پورے عروج پر ہے ۔ پنجاب اور سندھ کی حد تک یہ کہا جاسکتا ہے کہ روایتی سیاسی جماعتوں نے ایسا نیٹ ورک تشکیل دے رکھا ہے کہ وہ ہر انتخاب کے موقعہ پر باآسانی اپنی امیدوار کامیاب کروا لیتی ہیں۔
(ڈیک)ماضی کے برعکس اس بار امید کی جارہی کہ سپریم کورٹ کے جناب جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمی ممکن حد تک کوشش کریں گی کہ وہ عناصر اسمبلیوں میں براجمان نہ ہوسکیں جو مطلوبہ معیار پر پورے نہیں اترتے۔ دراصل اب تک کے رونما ہونے والے واقعات پر طائر انہ نظر یہ اعتراف کرنے کے لیے کافی ہے کہ الیکشن کمیشن ایک بار پھر اپنی آئینی زمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ناکام نظر آتا ہے(ڈیک)۔ حیرت انگیز طور پر الیکشن کمیشن کے اعلی عہدوں پر موجود حضرات اس سے لاتعلق ہیں کہ پاکستان کے باشعور شہری ان کی کارکردگی بارے کیا رائے رکھتے ہیں۔ درحقیقت کسی بھی ادارے کو اختیارات پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کیے جاتے بلکہ اکثر وبیشتر مذکورہ ادارے کی انتھک کوششوں کے باعث ہی وہ خود منواتا ہے۔ مملکت خداداد پاکستان کے الیکشن کمیشن اس حقیقت کو دل وجان سے تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ پاکستان کے روشن اور محفوظ مسقبل کی زمہ داری بڑی حد تک اس کے کندھوں پر ہے چنانچہ اسے محدود مفادات کی بجائے وسیع تر تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہے۔
شائد یہی وجہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی بجائے سپریم کورٹ میدان میں موجود ہے۔ گذشتہ روز کی سماعت کے موقعہ پر عدالت نے درخواست گزار اور قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کون سی ایسی معلومات ہیں جو اپنے ووٹرز سے مخفی رکھنا چاہتے ہیں۔اس پر پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کیے بغیر سپریم کورٹ میں کیسے آ گئے۔انھوں نے کہا کہ ابھی ان کی درخواست پر اعتراضات ختم نہیں ہوئے۔فاضل بینچ کے سربراہ نے اہم ریمارکس بھی دئیے کہ عدالت عظمی لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دیا جانے والا حکم امتناعی واپس بھی لے سکتی ہے پھر چاہے میڈیا پر یہ خبر ہیڈ لائن کے طور پر لی جائے“۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اب اس میں کوئی شک وشبہ نہیں رہا کہ انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند امیدوار یہ بتانے کے لیے تیار نہیں کہ ان کے اثاثے کیا ہیں، وہ دوہری شہریت رکھتے ہیں یا اقامہ رکھتے ہیں یا پھر انھوں نے کوئی قرض معاف کروایا ہے کہ نہیں۔
واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے انتخابی اصلاحات ایکٹ سنہ2017 کے تحت امیدواروں کے نامزدگی فارم میں کم معلومات کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالت نے واضح کیا کہ عام انتخابات بروقت ہوں گے اور کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ عام انتخابات شفاف ہوں گے اور ایک اچھی قیادت ملک کو میسر ہو گی۔

Scroll To Top