ریحام خان استعمال ہوئیں

zaheer-babar-logoعمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے اپنی کتاب کی اشاعت کے لیے جس وقت کا انتخاب کیا ہے کہ وہ ان کے مقاصد بیان کرنے کے لیے بہت کافی ہے۔ دوسری طرف ریحام خان کی مبینہ کتاب اشاعت سے پہلے سے منظر عام پر آچکی جس کے نتیجہ میں سنگین سوالات اٹھائے جارہے ۔ عمران خان کے علاوہ ان کے دوستوں پر جو الزامات لگائے گے اس کی توقع کسی بھی باضمیر شخص سے نہیںکی جاسکتی۔ سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ اور پاکستان تحریک انصاف کی دیگر خواتین سے متعلق جو زبان استمال کی گی وہ بلاشبہ افوسناک ہونے کے علاوہ قابل مذمت بھی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے زمہ داروں کا یہ دعوی بڑی حد تک درست نظر آتا ہے کہ اس کھیل کے درپردہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر مسلم لیگ ن کے اہم لوگ ہیں جو عام انتخابات کے موقعہ پر عمران خان کی کردار کشی کر کے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دعوی بھی کیا جارہا ہے کہ ریحام خان کے شہبازشریف ، حمزہ شہباز ، مریم نواز کے ساتھ ساتھ احسن اقبال سے بھی ملاقاتیں یا روابط ہیں۔
کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میںدل نہیں ہوا مگر ریحام خان نے اپنی کتاب میں مبینہ طور پر جس طرح عمران خان اور ان کے قریبی لوگوں کو نشانہ بنایا اس کے بعد کہا جاسکتا کہ ہمارے ہاں سیاست میں شرم وحیاءکا بھی فقدان ہے۔ معروف ادکار اور اینکر پرسن حمزہ عباسی پوری قوت سے ریحام خان کے منصوبہ کے سامنے سینہ سپر ہیں ۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کے بعقول انھیں ریحام خان کی کتاب سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ ٹی وی انٹرویو میں کہہ چکے کہ انھیں افسوس ہے کہ مسلم لیگ ن نے ریحام خان کو استمال کیا اور وہ استمال ہوگئیں۔
پی ٹی آئی کے سربراہ کی سابق اہلیہ کی کتاب کو ملک کا مخصوص میڈیا اٹھا رہا ہے،ظاہر ہے یہ بلاوجہ نہیں۔ ادھر ریحام خان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ لندن میں موجود ہیں ، قومی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کررہیں کہ ان کی کتاب میں مختلف شخصیات بارے بہودہ الزام تراشیوں کے سبب لندن میں اب تک کوئی بھی پبلیشر ان کی کتاب پرنٹ کرنے کو تیار نہیں، مایوس ہوکر انھوںنے ترکی کے بعض پبلیشر سے بھی رابطہ کیا مگر کسی نے حامی نہیںبھری۔ سابق کپتان وسیم اکرم نے ریحام خان کی کتاب میں اپنی مرحوم اہلیہ کے بارے میں لکھے گے الفاظ پر قانونی نوٹس بھجوا دیا ۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ پیسے بنانے کے لیے ریحام خان نے یہ سب کچھ کیا ان کے بعقول وہ کسی صورت پچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ آخر تک جائیں گے۔
ادھر ملتان کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور اینکر پرسن ریحام خان کی تحریر کردہ کتاب کی رونمائی کے خلاف دائر درخواست پر حکم امتناع جاری کردیا۔
ملتان کے سول جج نے دائر درخواست پر ریحام خان، حسین حقانی اور پیمرا کو 9 جون کو جواب طلب کرلیا۔
درخواست گزار غلام مصطفی نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ کتاب کی اشاعت مبینہ طور پر حقائق کے خلاف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کی شخصیت کو تباہ کرنے کے لیے کتاب لکھی ۔درخواست گزار کے بعقول عمران خان کے کردار پر کیچڑ اچھال کر الیکشن سبوتاز کیے جانے کا خطرہ ہے۔
اس سارے قصہ میں سابق سفیر حسین حقانی کا کردار بھی نمایاں ہے۔ سوشل میڈیا پر امریکہ میں مقیم مشکوک کردار کے حامل حسین حقانی اور ریحام خان کی تصاویر سامنے آچکیں۔یہ بھی دعوی کیا جارہا کہ حسین حقانی کو خاص طور پر ریحام خان کی مدد کے لیے میدان میں اتارا گیا ۔ حیرت انگیز طور پر ریحام خان کے پاس ان تمام سوالوں کا جواب موجود نہیں جو قومی میڈیا ان سے بار بار پوچھ رہا ہے حتی کہ وہ ریکارڈ پر یہ بھی کہنے کو تیار نہیں کہ ان کی کتاب میں کسی بھی شخصیت کی کردار کشی نہیں کی گی۔ حوصلہ افزاءیہ ہے کہ ملک کے سنجیدہ حلقے ریحام خان کی مبینہ کتاب کو افسوسناک قرار دے کر مسترد کررہے۔اختلافات اپنی جگہ مگر عمران خان کی سابق اہلیہ نے جس طرح مسلمہ اخلاقی اصولوں کو پامال کیا اس کی ہر ایک کی جانب سے مذمت کی جارہی ۔ ریحام خان صحافی ہونے کے علاوہ خواتین کے حقوق کی علمبردار ہیں مگر کی لکھی ہوئی کتاب ان کی شخصیت کو مکمل طور پر منفی انداز میں پیش کرگی۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی سیاست میں یہ امید کرنا صیح نہ ہوگا کہ یہاں کی سیاست میں اچانک اعلی اخلاقی قدروں کو جگہ دی جائے چنانچہ مایوس ہونے کی بجائے امید رکھنی چاہے کہ آنے والے دنوں میں حالات بتدریج بہتر ہونگے۔ جان لینا چاہے کہ سیاست کسی بھی معاشرے کا عکس ہوا کرتا ہے ہم سماجی طور پر کئی خرابیوں کا شکار ہیں لہذا سیاست دان بھی ایسے ہی سامنے آئے جو انفرادی اور گروہی مفادات کے اسیر ثابت ہوئے۔سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ ریحام خان کی کتاب اشاعت سے پہلے ہی مسترد کردی گی تاہم اس بات کی تحقیق کرنا ضروری ہے کہ وہ کون سے عناصر تھے جو انھیں ایسی کتاب لکھنے پر آمادہ کرگے ۔
انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں ریحام آن پی ایم ایل این ایجنڈا کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا تھا۔

Scroll To Top