یہ جنگ ضرور جیتی جائے گی 01-06-2013

kal-ki-baat
ایک اینکر پرسن افلاطون سقراط ارسطو مارکس فرائڈ اور ایڈم سمتھ کی اجتماعی دانش کی تصویر بنے اپنے مہمانوں سے سوالات پوچھ رہے تھے۔ ایک مہمان کا تعلق تحریک انصاف سے تھا ۔ اُن سے موصوف نے کہا ” آپ اپنے آپ کو لبرل سمجھتے ہیں یا نہیں۔ ؟ اگر آپ لبرل ہیں تو جماعت اسلامی سے اتحاد کیوں کیا ہے ۔ اگر نہیں تو کھل کر دنیا کو بتادیں کہ آپ بھی نفاذ ِشریعت چاہتے ہیں۔“
تحریک انصاف کی ترجمانی کرنے والے صاحب نے کیا جواب دیا وہ میرے موضوع کا حصہ نہیں۔ نہ ہی میرے موضوع کا حصہ وہ سوال ہے جو متذکرہ اینکر پرسن نے جناب آفتاب شیرپاﺅ سے پوچھا۔ ” کیا آپ بھی جماعتِ اسلامی کی شریعت نافذ کرنے کے حق میں ہوگئے ہیں ؟
میرا مقصد یہا ں متذکرہ اینکر پرسن اور اس کے دیگر ہمنواﺅں سے یہ سوال پوچھنا ہے کہ کیا اسلام جماعتِ اسلامی کی ایجاد ہے۔ یا کیا اسے جماعتِ العلمائے اسلام نے ایجاد کیا ہے؟ یا پھر کیا اس کے موجد طالبان ہیں؟
دوسرا سوال میں اِن سے یہ پوچھنا چاہوں گا کہ کیا قرآن حکیم دائیں بازو کی کتاب ہے ؟ یا پھر بائیں بازو کی؟
اس ضمن میں زیادہ مناسب شاید یہ سوال ہو کہ کیا آپ قرآن حکیم کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں یا نہیں آپ خدا کو دل سے مانتے بھی ہیں یا نہیں ؟
اسی ضمن میں یہ سوال بھی خود بخود اٹھے گا ۔ ” اگر آپ خدا کو بھی مانتے ہیں اور قرآن حکیم کو خدا کا کلام بھی سمجھتے ہیں تو پھر جب بات خدائی احکامات کی تعمیل اور خدائی قوانین کے نفاذ کی آتی ہے ` تو آپ کے لب ولہجے میں طنزتمسخر اور حقارت کا پہلو کیوں نمایاں ہوجاتا ہے ؟ “
تو بات یہ ہے کہ یہ سب لوگ درحقیقت ریاکار ہیں۔ ریا کاری کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ریا کاری ان بڑی بڑی داڑھیوں کے پیچھے بھی چھپی ہوتی ہے جنہیں اپنے چہروں پر سجا کر کچھ لوگ اپنی دینداری کا بھرم قائم کرتے ہیں۔ اور ریا کاری ہمارے ان دانشوروں کے علم و فضل کے پیچھے بھی چھپی ہوتی ہے جو اپنے آپ پر لبرلزم کا لیبل چسپاں کرلیتے ہیں۔
اگر خدا ہے اور محمد اس کا حتمی اور آخری پیغام لانے والے نبی ہیں تو خدا کی قسم پاکستان میں قرآنی تعلیمات کا نفاذ ہو کر رہے گا۔
اگر اس کے لئے فرزندان و دخترانِ توحید و رسالت کو دشمنانِ حق کے خلاف ایک خونی جنگ بھی لڑنی پڑی تو لڑی جائے گی۔ نہ صرف یہ کہ یہ جنگ لڑی جائے گی یہ جنگ انشاءاللہ جیتی بھی جائے گی !

Scroll To Top