سفید خلیوں کی افزائش سے کینسر کی لاعلاج مریضہ مکمل صحت یاب

a

کینسر کے علاج کے لیے مریض کے اپنے سفید خلیات کی افزائش کی جاتی ہے۔ فوٹو : فائل

 واشنگٹن: سائنس دان مریض کے اپنے ہی سفید خلیات کی افزائش کر کے اسے کینسر کے آخری اسٹیج سے نجات دلانے میں کامیاب ہوگئے۔

سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کینسر کے آخری اسٹیج کے مریضوں کے لیے کسی خوشخبری سے کم نہیں۔ امریکا میں کینسر کے آخری اسٹیج کی مریضہ جوڈی کے جسم سے کینسر کے خلاف کار آمد سفید خلیات کو نکال کر اُن کی افزائش کر کے دوبارہ مریضہ کے جسم میں 90 بلین سفید خلیات داخل کیے گئے۔ ان خلیوں نے حیران کن طور پر کینسر کو مات دے دی اور اب جوڈی کے جسم میں کینسر کا نام و نشان تک نہیں ہے۔

امریکا کے نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ میں جگر کے کینسر میں مبتلا فلوریڈا کی رہائشی 49 سالہ جوڈی کو نئی تھراپی نے نئی زندگی عطا کردی۔ جوڈی کو ڈاکٹرز نے تین ماہ کا وقت دے دیا تھا لیکن اب جوڈی مکمل طور پر صحت یاب ہیں۔ کینسر انسٹی ٹیوٹ میں مریضہ کے جسم میں موجود کینسر کے خلاف مزاحمت کرنے والے سفید خلیات کی کم تعداد کی افزائش کر کے 90 بلین خلیات تیار کرلیے گئے اور پھر ان خلیات کو مریضہ کے جسم میں داخل کیا گیا۔

امریکا کے نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ تھراپی اب بھی تجرباتی مراحل میں ہے جسے ہر قسم کے کینسر کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم ابھی اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تھراپی کینسر کے علاج میں ایک انقلاب ثابت ہو گی جس سے آخری اسٹیج کے مریضوں کو بھی فائدہ ہوگا۔

واضح رہے کہ انسانی جسم میں کسی بھی بیماری سے نبرد آزما ہونے کے لیے مدافعتی نظام میں سفید خلیات کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے لیکن کینسر کے مرض میں یہ تعداد گھٹ کر بہت کم رہ جاتی ہے چنانچہ محققین بچے کچھے سفید خلیات کو مریض کے جسم سے نکال کر اس کی افزائش کرتے ہیں اور جب ان خلیات کی تعداد کینسر کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوجاتی ہے تو اسے مریض کے جسم میں داخل کردیا جاتا ہے۔ جسے ’لیونگ ڈرگ‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ کینسر پر ریسرچ کے بڑے سینٹرز میں ہی تیار ہوسکتی ہے۔

Scroll To Top