فوج پاکستان کی جنگ لڑ رہی

zaheer-babar-logo

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام اپنی فوج سے محبت کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹے نعروں سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہر چیز کا جواب نہیں دے سکتے۔ میجر جنرل آصف غفور کا پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھے۔ بھارت زیادہ تر شہری آبادی کو نشانہ بناتا ہے جس کا بھرپور جواب دیا جاتا ہے۔“
پاکستان جن مسائل کا شکار ہے ان پر قابو پانے کے لیے فوج کے بطور ادارے اہمیت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اہل سیاست کو یہ پہلو نظر انداز نہیںکرنا چاہے کہ ماضی میںجو کچھ ہوا سو ہوا مگر اب سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق جاری وساری ہے۔ درپیش خطرات کے حوالے سے کیا یہ نظر انداز کرنے کے قابل ہے کہ گذشتہ 13 برسوں میں بھارت نے 2 ہزار سے زائد بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی لیکن پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ ریکارڈ پر ہے کہ 2013 سے رواں سال تک 48 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ اب گذشتہ ہفتے سیز فائر معاہدے عمل میںآیا ہے جس کے مسقبل کے بارے میں حتمی طور کچھ کہنا مشکل ہے۔
دراصل دشمن ہمیں اندرونی طور پر کمزور کرنے کے درپے ہے۔ باہمی اختلافات کو ہوا دے کر ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا جارہا ۔ مثلا لسانی اور سیاسی بنیادوں پر تنازعات کو ہوا دی جارہی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا خوش آئند ہے کہ صوبہ بلوچستان میں خوشحال بلوچستان پروگرام شروع کرنے سے وہاں دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی ۔ایک سوال کے جواب میں پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ سلمان بدینی نیٹ ورک کے خاتمے کے بعد بلوچستان میں حالات مزید بہتر ہوں گے۔ سلمان بدینی کی ہلاکت کے بعد ہزارہ کمیونٹی نے خوشی کا اظہار کیا ۔
خارجہ محاذ پر پاکستان کے لیے بڑی مشکل افغانستان میں امن وامان کی صورت حال ہے۔ پاکستان نے علاقائی اور عالمی طاقتوں کو اپنے طرزعمل سے ثابت کیا کہ وہ مسلہ نہیں بلکہ مسلہ کے حل کے لیے کوشاں ہے۔ اس پس منظر میں میجر جنرل آصف غفور کا کہنا درست ہے کہ امریکا کیساتھ تعلقات تھوڑے سے دبا کا شکار ہیں۔ ان کے بعقول ہماری خواہش ہے امریکا افغانستان سے کامیاب ہو کر واپس جائے۔“
بلاشبہ پاکستان کی شدید خواہش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ پڑوسی ملک میں امن وامان کی بہتری کا براہ راست فائدہ اس کو ہوگا مگر اب افغانستان حکومت اور اس کی سیکورٹی فورسز قابل رشک کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکیں۔
اس پس منظر میں پاکستان میں بشمول حقانی نیٹ ورک اور داعش جیسے گروہوں کے خلاف بھرپور کاروائی کی ہے۔ آپریشن ضربِ عضب اور پھر ردالفساد کے نتیجے میں بیشتر دہشت گرد گروہوں کا صفایا کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیںوہ کسی اور کے حصہ میں نہیں آئیں۔ حال ہی میں فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام تاریخی پیش رفت ہے لہذا اب امید کی جاسکتی ہے کہ دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے بعد بنے والی وفاقی اورصوبائی حکومتیں اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گی ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف چلائی جانے والی مہم پر تشویش کا اظہار سمجھ میں آنی والی بات ہے ۔اس میں دوآراءنہیں کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی اپنی افواج کو گالیاں یا سنگین الزامات عائد نہیں کریں گا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سوشل میڈیا میں لوگوں کی شناخت کا پتہ چلنا آسان نہیں چنانچہ اس ضمن میں سرکاری سطح پر ایسے ٹھوس اقدمات اٹھانے ہونگے جس سے قومی اداروں کے خلاف ہر قسم کی شرپسندی کو کنڑول کیا جاسکے۔
وطن عزیز میں جن سیاسی ولسانی قوتوں کے حکومتوں کے ساتھ اختلافات ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ انھیں آئین اور قانون کے دائرے میںرہ حل کرنے کی کوشش کرے۔ اس روش کی کسی طور پر حمایت نہیں کی جاسکتی کہ ذاتی اورگروہی مفادات کو قومی تقاضوں پر قربان کردیا جائے۔ آج ارض وطن میںجمہوریت کا سفر جاری وساری ہے۔ اظہار خیال کی آزادی سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا چنانچہ ہونا تو یہ چاہے کہ ہر کوئی اپنا مقدمہ حدود وقیود کے اندر رہ کر لڑے۔
سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی مثال سب کے سامنے ہے۔ وہ جس انداز میں عدلیہ اور دفاعی اداروں کے خلاف لب ولہجہ اختیار کیے ہوئے ہیں اس کا سر اسر نقصان ان ہی کو ہوتا نظر آرہا ہے۔ سمجھ لینا چاہے کہ خبیر تا کراچی ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان سے محبت کرنے والوں کی تعداد میں کمی ہونے کی بجائے اس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ایسا اب ممکن نہیں رہا کہ ملک کے خلاف زہر اگل کر کوئی فرد یا جماعت اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرلے ۔
وطن عزیز میںاب ادارے اپنی حدود کے اندر رہ کر اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس ضمن میں نمایاں کردار پاک فوج کا ہے ماضی میں جو ہوا سوا ہوا مگر اب ایسا ممکن نہیں نظر آتا کہ کہیں بھی کسی بھی شکل میں آئین اور قانون سے ماورا کوئی اقدام اٹھایا جائے۔ درحقیقت یہی پالیسی قومی اداروں کو ملک کے باشعور حلقوں میں نمایاں مقام کی حامل بنا چکی۔

Scroll To Top