غیر ذمہ دارانہ پوائنٹ سکورنگ کا چسکہ! 31-05-2013

kal-ki-baat
تقریباً پونے دو برس قبل کی بات ہے ۔ ایک غیر رسمی گفتگو کے دوران میں نے ایک بڑے قومی لیڈر سے کہا۔ ” یہ دورِ خرابی بدی کی تمام علامتوں سمیت تاریخ کے کباڑ خانے میں پھینک ہی دیا جائے گا ` مگر آئندہ جو بھی حکومت آئے گی اس کا سب سے بڑا چیلنج ایک نئے عہد کی تعمیر کے لئے ٹھوس معاشی منصوبے تیار کرنا اور ان پر عمل درآمد کرنا نہیں ہوگا ` نہ ہی اس کا بڑا چیلنج تعلیم اورصحت کے شعبوں میں ایک بڑی پیش رفت کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوگا۔“
”پھراس کے سامنے بڑا چیلنج کیا ہوگا۔؟ “اس بڑے قومی لیڈر نے پوچھا۔
” اِس میڈیا کا سامنا کیسے کیا جائے جو ایک طرف اصلاح تبدیلی اور انقلاب کی بڑی قوت کے طور پر سامنے آچکا ہے دوسری طرف اپنے اندر تخریب ` غیر ذمہ داری اور فتنہ پروری کی بے پناہ صلاحتیں بھی رکھتا ہے ۔“ میں نے جواب دیا ” میرے خیال میں آئندہ وہی حکومت اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی جو میڈیا کے جن کو بوتل میںبند کرنےکی صلاحیت سے محروم نہیں ہوگی۔“
میری اس بات کا انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ آج مجھے وہ بات گزشتہ شب وہ جرح سن کر یاد آرہی ہے جو دو بڑے ٹی وی اینکرپرسنز نے تحریک انصاف کے ترجمانوں پر پاکستان پر ہونے والے ڈرون حملوں کے حوالے سے کی۔
” اب تو خیبر پختون خواہ میں آپ کی حکومت قائم ہوچکی ہے۔ ڈرون حملے رکوائیں اور دہشت گردوں کو لگا م دیں۔ “ دونوں اینکرپرسنز نے تقریباً ایک ہی قسم کے طنزیہ لہجے میں ایک ہی نوعیت کا استدلال پیش کیا۔
” حضور یہ کام حکومت ِ پاکستان کا ہے۔ کیا صوبے کی حکومت پولیس کی مدد سے امریکہ پر حملہ کرنے یا ملک کی خارجہ پالیسی تیار کرنے کا اختیار رکھتی ہے ؟ “ تحریک انصاف کے شفقت محمود نے دونوں اصحاب کو ایک ہی جواب دیا۔
جن دو اینکرپرسنز کی بات میں کررہا ہوں وہ کامران شاہد کی طرح شو بوائز نہیں ہیں۔ان کا ایک صحافتی پس منظر بھی ہے۔ مگر میڈیا کو گزشتہ کچھ عرصے سے غیر ذمہ دارانہ ” پوائنٹ سکورنگ “ کرنے کا جو چسکا پڑ چکاہے وہ آسانی سے نہیں جائے گا۔

Scroll To Top