نئی صبح اور خون کا غسل

aaj-ki-baat-new

پانچ برسوں میں قومیں کہیں کہیں سے جا پہنچا کرتی ہیں۔اس صدی کے آغاز میں جب طیب اردگان کی پارٹی ترکی میں برسراقتدار آئی تو اس کے حالات آج کے پاکستان سے کم ابتر نہیں تھے مگر پانچ برس بعد ترکی چھلانگیں مارتا آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔
پانچ برس قبل میں نے ایک کالم ” نئی صبح اور خون کا غسل“ کے عنوان سے لکھا تھا۔ اس کالم کو آج میں اس تبصرے کے ساتھ دہرا رہا ہوں کہ اب یہ قوم ایسی نئی صبح کی متحمل نہیں ہوگی جو اندھیروں کی چادر میں لپٹی ہوئی ہو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک نئی صبح کے تعاقب میں میں نے کئی عہد پیچھے چھوڑ دیئے۔ صبحیں تو بے حساب آئیں لیکن اندھیروں نے کبھی پیچھا نہ چھوڑا۔ ظہورِ ایوب کو بھی میں نے نویدِ سحر سمجھا۔ ظہورِ بھٹو بھی میری سوچ میں نویدِ صبح تھی۔ لیکن ہر بار نوید تو آئی لیکن صبح نہ آسکی۔ وہ صبح جس کا انتظار میری نسل کو تو چھ دہائیوں سے ہے ہی ` مگر میر ی نسل کے بعد کاروبارِ مملکت میں ابھرنے والی نسلوں کو بھی ہے۔
آج ہم ایک بار پھر اک نئے دور کا سورج اُفق پر نمودار ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ چند روز کے اندر مرکز اور صوبوں میں نئی حکومتیں قائم ہوجائیں گی۔ میاں نوازشریف تیسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم بنیں گے۔ میں بھی اپنے باقی ہم وطنوں کی طرح اپنے اندر اِن امیدوں کا پودہ سیراب کررہا ہوںکہ اس مرتبہ صبح کے تعاقب میں ویسے اندھیرے نہیں ہوں گے جیسے اندھیروں میں بھٹک بھٹک کر ہم روشنی کی پہچان سے بھی عاری ہوچکے ہیں۔اِس مرتبہ ملکی سیاست میں ایک نیا فیکٹر شامل ہوا ہے ۔ اور وہ فیکٹر ہے عمران خان اور اُن کی تحریک کا۔
اگر اِس مرتبہ بھی ہمارے مقدر میں وہی کچھ ہوا جس کے ہم عادی ہوچکے ہیں تو پھر ہمارے سامنے ایک ہی راستہ رہ جائے گا۔ ملک کا مقدر اپنے حکمرانوں سے چھین کر خود اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہوگا کہ کسی قوم نے اپنی فلاح کے لئے اپنے آپ کو خون کا غسل دیا ہو!

Scroll To Top