شیطان اور دیوتا 29-05-2013

kal-ki-baat

میڈیا میں عوام کو گمراہ کرنے کی اتنی ہی زیادہ صلاحیت اور قوت ہوتی ہے جتنی صلاحیت اور قوت خلقِ خدا کو گمراہ کرنے کی جھوٹے نبیوں اور خود ساختہ دینی رہنماﺅں کے پاس ہمیشہ سے رہی ہے۔ اس بات کا یہ مطلب ہوا کہ میڈیا فلاح و فیض بکھیرنے کا ذریعہ بننے کے ساتھ گمراہی اور کج روی پھیلانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
میں یہ بات کسی وسیع تناظر میں نہیں کررہا۔ گزشتہ شب میں ٹی وی پر ایک پروگرام سن رہا تھا جس کے مہمانِ خصوصی ملک کے ایک نہایت قابلِ احترام بزرگ صحافی تھے جو میرے بڑے پرانے دوست ہیں اور ماضی میں میرے خیالات جن کے خیالات کے ساتھ اکثر ٹکرایا کرتے تھے۔
آدمی کے خیالات تجربات کی وجہ سے بدلتے رہتے ہیں ۔ مگر خیالات کی یہ تبدیلی اگر مفادات کا تحفظ کرنے کے جذبے کے تابع ہو تو بہت زیادہ خوشگوار تاثر نہیں چھوڑتی۔
جن صاحب کی میں بات کررہا ہوں انہوں نے ایک ہی سانس میں چڑھتے سورج کی شان میں اتنا لمبا قصیدہ پڑھ ڈالا کہ میں دم بخود ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ جس متقی خاندان اور اس کے مومن فرزندوں کا ذکر وہ ناقابلِ یقین عقیدت اور احترام کے ساتھ کرتے رہے ¾ وہ اگر اسی قدر ” جو ہر ایمان و تقویٰ“ سے مالا مال ہوتا جس قدر میرے یہ دوست فرما رہے تھے تو ملک کے حالات اس قدر ابتر نہ ہوتے جس قدر آج نظر آرہے ہیں۔
یہ درست ہے کہ ہمیں لوگوں کو انتہاﺅں کے معیار پر نہیں پرکھنا چاہئے۔ نہ تو کوئی شخص مجسم ابلیسیت ہوتا ہے اور نہ ہی اس قدر فرشتہ سیرت کہ فرشتے بھی رشک کرنے لگیں۔ لیکن کالا رنگ بہرحال کالا اور لال رنگ بہرحال لال ہی ہوا کرتا ہے ۔ یہ ممکن نہیں کہ کسی چیز کا رنگ ہم کالا قرار دیں تو بھی درست ہے اور لال قرار دیں تو بھی درست ہے۔
ہمارے ملک میں لیڈروں کے حوالے سے جو پولرائریشن پائی جاتی ہے اس کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ ہمار ے ذہن منفی اور مثبت ۔۔۔ دونوں اقسام کے پروپیگنڈے کا اثر قبول کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی نظروں میں بھٹو ایک دیوتا تھا اور کچھ کی نظروں میں ایک شیطان۔ یہی صورتحال جنرل ضیاءالحق کے معاملے میں بھی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان نہ تو دیوتا ہوا کرتا ہے اور نہ ہی شیطان۔

Scroll To Top