ہماری جمہوریت کب تک ناجائز بچے پیدا کرتی رہے گی؟

aj ni gal new logo
لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے نے سیاسی جماعتوں کی صفوں میں کھلبلی مچا دی ۔ اس فیصلے کی رو سے الیکشن کمیشن کے ترمیم شدہ نام زدگی فارم کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا اور الیکشن کمیشن کو حکم دیا گیا تھا کہ اُسی فارم پر درخواستیں لی جائیں جس میں امیدوار کو اپنے بارے میں وہ تمام تفصیلات بتانے کا پابند بنایا گیا تھا جن کا تعلق اس کے اخلاقی اور مالیاتی اعمال سے ہو۔جب میاں نواز شریف اس بنا پر نا اہل قرار پائے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ دوسرے الفاظ میں دروغ گوئی اور خیانت کے مرتکب ثابت ہوئے ۔۔ تو سیاسی لیڈروں کو یہ دونوں الفاظ ”زہر “ لگنے لگے۔ چنانچہ سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک خفیہ ڈیل ہوئی جس کے نتیجے میں ” صادق“ اور”امین “ ہونے یا نہ ہونے کا جھگڑا ہی ختم کر دیا گیا۔فارم سے ایسی تمام شقیں ایک ترمیم کے ذریعے نکال دی گئیں جن سے امیدوار کا صادق اور امین ہونا لازمی قرار پاتا۔ یہ مجرمانہ کارروائی فارم کو آسان بنانے کا جواز پیش کر کے کی گئی۔۔
یہ معاملہ الیکشن کمیشن اور نون لیگ دونوں ایک ساتھ سپریم کورٹ میں لے گئے۔ الیکشن کمیشن لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی وضاحت چاہتا تھا اور نون لیگ کے لیڈر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ایسا معاملہ اٹھانا انتخابات میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کرن لیگ سے پراپیگنڈے کا یہ جواز چھین لیا ہے کہ انتخابات کو ملتوی کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی حیثیت سے مشتبہ کردار کے حامل اصحاب کو یا مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے امیدواروں کو کلین چٹ دلانے کی اس سازش میں ایاز صادق ایک مرکزی کردار تھے۔اب وہ لاہور ہائیکورٹ کی جج صاحبہ عائشہ پر برس رہے ہیں کہ انہوں نے گڑا مردہ اکھاڑنے کی جسارت کیوں کی ۔
بات انتخابات میں تاخیر کی نہیں، بات یہ ہے کہ نون لیگ اور پی پی پی کی مرکزی قیادت کو اپنا ”نامہ¿ اعمال“ ریکارڈ پر لانا پڑتا جو وہ نہیں چاہتی۔ آپ خود ہی سوچیں کہ شریف فیملی کے امیدوار یا بلاول ہاو¿س کے مکین فارم میں اپنی جائیداد اور اپنے کاروبار کی تمام تفصیلات کیسے بیان کر پاتے؟
میرا دعویٰ ہے کہ اگر لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رہتا تو زرداری صاحب اور بلاول بھٹو کے لئے انتخابات میں حصہ لینا جان جوکھوں کا کام بن جاتا۔ شریف فیملی تو پہلے ہی غلط بیانی اور دروغ گوئی کے نتائج بھگت رہی ہے۔۔میرا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کے لئے بے حد مشکل ہوگا کہ چوروں، ڈاکوو¿ں،سمگلروں اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو حقِ قانونی سازی اور حقِ حکمرانی دے دے۔
مجھے نہ تو کسی نجومی کی کسی ایسی پیشگوئی اور نہ ہی ماہر موسمیات کی کسی ایسی وارننگ کا علم ہے کہ 25جولائی 2018کے بعد دنیا میں بھونچال آجائے گا جو پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل کے لئے زہرِ قاتل ثابت ہوگا۔۔
عقل یہی کہتی ہے کہ تمام تصفیہ طلب متنازعہ مسائل کو حل کر کے ہی عام انتخابات کرائے جائیں۔ ۔ سب سے بڑا حل طلب مسئلہ اِس الیکشن کمیشن کا متتازعہ ہونا ہے۔
الیکشن کمیشن کا کردار ہماری تاریخ میں ہمیشہ متنازعہ رہا ہے جس وجہ سے اس کے پیدا کردہ بچے زیادہ تر ناجائز قرار پائے ہیں۔
ہماری جمہوریت کب تک ناجائز بچے پیدا کرتی رہے گی۔

Scroll To Top