یوم تکبیر کے ساتھ منسلک پانچ نام 28-05-2013

kal-ki-baat
پورے پندرہ برس قبل آج کے روز یعنی 28مئی1998ءکو پاکستان باقاعدہ طور پر دنیا کی ایٹمی کلب کارکن بن گیا۔ شاید میرے اس بیان میں سے شاونزم یا رومانوی تخیل پسندی کی ” بو “ آرہی ہو لیکن میں سمجھتا ہوں کہ صدیوں تک اقوام عالم میں دوسرے درجے کی غلامانہ زندگی بسر کرنے والی دنیائے ہلال کے لئے 3بجے دوپہر بروز28مئی 1998ءایک لحاظ سے آزادی کی نوید کا لمحہ تھا۔
اک نئی تاریخ کو جنم دینے والے اس عہدِ ساز لمحے کا کریڈٹ میاںنوازشریف کو بھی ضرور ملناچاہئے ` کیوں کہ تب وہی وزیراعظم تھے اور مغربی دباﺅ کا مقابلہ انہوں نے ہی کیا تھا۔ لیکن پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے پیچھے جو ولولہ انگیز داستان ہے اس کے دو مرکزی کردار زیڈ اے بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں۔ ان کے بعد جنہوں نے اس عظیم منصوبے کی آبیاری کی وہ جنرل ضیاءالحق مرحوم اور جناب غلام اسحاق خان مرحوم تھے۔ ہمارے ہیروز کی اس فہرست میں شامل ہونے والے آخری فرد میاں نوازشریف تھے۔ میں اس قابلِ فخر اور نتائج آفرین کردار کاذکر یہاں نہیں کروں گا جو ہماری آئی ایس آئی نے اس خواب کو حقیقت بنانے میں ادا کیا۔
آج اگر پاکستان کو ایک ناقابل تسخیر مملکت قرار دیا جاتا ہے تو اس کا کریڈٹ ہمیں اپنے ہر ہیرو کو دیناچاہئے۔
جہاں تک محترمہ بے نظیر بھٹو کا تعلق ہے انہوں نے بھی پاکستان کو ایک ناقابل تسخیر مقام تک پہنچانے میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کیا۔ یہ کردار میزائل پروگرام کے فروغ میں ادا کیا گیا۔آج ہمیں جہاں آنے والے وزیراعظم میاں نوازشریف کی خدمات کا اعتراف کرناچاہئے وہاں زیڈ اے بھٹو جنرل ضیاءالحق اور غلام اسحاق خان کی خدمات کو بھی بھولنا نہیں چاہئے۔ جہاں تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا تعلق ہے وہ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں اور قوم کے لئے باعثِ صد افتخار شخصیت کا درجہ رکھتے ہیں۔

Scroll To Top