” ایسا وقت نہیں آئے گا مریم۔۔۔ میں ڈوبوں گا تو وہ بھی میرے ساتھ ڈوبے گا۔۔۔“

ہمہ تن گوش کی ڈائریہم نے اپنی بیانک بیٹریوں کو چارج کیا اور فریکوئنسی سیٹ کرکے بیٹھ گئے۔۔۔ فضا میں کافی شور تھا اس لئے دیر تک شائیں شائیں ہی ہوتی رہی۔۔۔ اتفاق سے اسی وقت فون کی گھنٹی بجی اور ہم نے اپنی بیانک بیٹریوں کو آف کرکے فون کارسیور اٹھایا۔۔۔
” السلام علیکم بھائی ہمہ تن گوش۔۔۔“ یہ آواز سن کر ہم چونک پڑے۔۔۔ یہ ہمارے بڑے ہی پرانے اور گہرے دوست کی آواز تھی جنہیں ہم ” واقفِ حال “ کے نام سے یاد کیا کرتے تھے۔۔۔
” وعلیکم السلام بھائی واقفِ حال۔۔۔ آپ عالمِ بالا سے تو نہیں بول رہے ؟“ ہم نے جواب دیا۔۔۔
” جی نہیں بھائی ہمہ تن گوش۔۔۔ تاحال ہم خیر سے حیات ہیں۔۔۔ ہم دراصل دنیا کی سیرپر نکلے ہوئے تھے۔۔۔ آپ کا فون نمبر بھی تبدیل ہوچکا ہے اس لئے رابطہ نہیں ہوسکا۔۔۔ یہ نمبر آپ کی ڈائری پڑھ کر ہم نے اخبار سے لیا ہے۔۔۔ “ بھائی واقفِ حال بولے۔۔۔
” یقین کریں بھائی واقف ِ حال آپ کو بقید ِ زندگی جان کر ہمیں بے پناہ مسرت ہوئی ہے۔۔۔ آپ کی صحافتی سرگرمیوں کا کیا حال ہے۔۔۔؟“ ہم نے کہا۔۔۔
” ہماری سرگرمیاں شاہین صہبائی جیسی ہی ہیں۔۔۔ نہ تو پوری طرح ریٹائر ہوئے ہیں اور نہ ہی سرگرمِ عمل ہیں۔۔۔ پھر بھی خبریں بہت ہیں ہمارے پاس۔۔۔“ بھائی واقفِ حال بولے۔۔۔ ” مثلاً یہ کہ مریم بی بی ایک بار پھر اپنے ایک مقتدر رشتہ دار جنرل کی مدد حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔۔۔“
” ہم سمجھ گئے۔۔۔ لیکن اس کا فائدہ کیاہوگا۔۔۔؟ وہ پہلے بھی یہ کوشش کرچکی ہیں۔۔۔ منہ کی کھانی پڑی۔۔۔“ ہم نے کہا۔۔۔ جواب میں بھائی واقفِ حال بولے۔۔”بات دراصل یہ ہے کہ شریف فیملی ہماری فوج کے کلچر کے بارے میں بڑی سرسری معلومات رکھتی ہے۔۔۔ میاں صاحب کا نقطہ ءنظر ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ہر شخص کو خریدا جاسکتا ہے۔۔۔ خواہ وہ جج ہو یا جنرل۔۔۔ مگر اس مرتبہ انہیں ہر دروازہ بند ملا ہے۔۔۔چنانچہ انہوں نے بلند آواز میں شور مچانا شروع کردیا ہے کہ دروازہ کھولو ورنہ لوگوں کو بتا دوں گا کہ اندر کیا ہورہا ہے۔۔۔“
” خوب نقشہ کھینچا ہے آپ نے بھائی واقفِ حال موجودہ حالات کا۔۔۔“ ہم بولے۔۔۔
” میاں برادران کی تقدیر ا±ن سے روٹھ گئی ہے بھائی ہمہ تن گوش۔۔۔ اب یہ دیکھیں ناصر کھوسہ کا معاملہ۔۔۔ شہبازشریف کل تک کس قدر خوش تھے کہ آدھا الیکشن انہوںنے جیت لیا ہے۔۔۔ مگر بھائی محمود الرشید کا دلیرانہ تعان کام نہیں آیا۔۔۔ بھائی عمران خان کو کسی نے خبردار کردیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔۔۔“ بھائی واقف ِ حال بولے۔۔۔
” اِس نیک کام میں کچھ دخل ہمارا بھی ہے۔۔۔ پرسوں رات ہمارے جِن دوست بھائی جنابرتشریف لائے تھے تو انہوں نے ہمیں خبردار کیا کہ ناصر کھوسہ بھلے آدمی سہی لیکن ہیں میاں صاحبان کی آنکھوں کا تارا۔۔۔ بھائی محمود الرشید نے حقِ نمک تو ادا کیا ہے مگر خان صاحب کا نہیں۔۔۔ ہمیں قوی یقین ہے کہ ہمارے چیف صاحب نے کپتان کو خبردا ر کردیا ہوگا۔۔۔“
” اچھا بھائی ہمہ تن گوش۔۔۔ باقی باتیں ملاقات پر ہوں گی۔۔۔ ہمیں ایک کام سے جانا ہے کہیں۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔“
ہم نے بھی خدا حافظ کہا اور فون بند کرکے اپنی بیانک بیٹریوں کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔اس مرتبہ ہمیں مطلوبہ آواز تک پہنچنے میں دیر نہ لگی۔۔۔
” بیٹی۔۔۔ اب توتم خوش ہو۔۔۔ شہباز نے اعلانیہ طور پر نثار کو بچہ قرار دے دیا ہے۔۔۔ تمہیں بچی ہونے کا طعنہ دیا تھا نا نثار نے۔۔۔ تمہارے چچا نے بدلہ لے لیا ہے۔۔۔“
” آپ چچا جان کی باتوں میں نہ آئیں زیادہ ابا حضور۔۔۔ وہ آج نہیں تو کل کھڑے ہوجائیں گے کہ میں صرف نام کا صدر نہیں ہوں۔۔۔ جیسے صدر بھائی جان تھے ` ویسا ہی صدر میں ہوں۔۔۔ وہ وزیراعظم تھے تو مجھ میں کیا کمی ہے۔۔۔ ؟“ یہ مریم کی آواز تھی۔۔۔
” ایسا وقت نہیں آئے گا مریم۔۔۔ اگر میں ڈوبوں گا تو وہ بھی میرے ساتھ ڈوبے گا۔۔۔ پھر تم ہوگی اور یہ ملک ہوگا۔۔۔“ یہ میاں صاحب تھے۔۔۔
” مگر ابو جان۔۔۔ مجھے جج بشیر کے تیور صحیح نہیں لگ رہے۔۔۔ اگر مجھے بھی سزا ہوگئی تو۔۔۔؟“
”تو ہمارے وکیلوں نے کروڑوں کی فیس اپنا نام اخباروں میں چھپوانے کے لئے حاصل نہیں کی۔۔۔ تم فکر نہ کرو۔۔۔ “ یہ میاں صاحب کی آواز تھی۔۔۔”
یہ تو ٹھیک ہے ابا جان مگر۔۔۔“ آگے ہم کچھ نہ سن سکے کیوں کہ شائیں شائیں کا ایسا شور اٹھا کہ خدا کی پناہ۔۔۔ ہم نے ٹھنڈی سانس لے کر بیٹریاں آف کردیں۔۔۔

Scroll To Top