سپریم کورٹ: ایک ماہ میں ہونیوالے تقرر و تبادلے عدالتی فیصلے سے مشروط

  • صوبائی حکومتوں کو گزشتہ ایک ماہ کے دوران گریڈ 17اور اس سے اوپر کے افسران کے تقرر و تبادلوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • وزیر اعلیٰ کے دفتر کے لوگوں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جارہا ہے ،حکومت کو جاتے جاتے یہ تبادلے کرنے کی کیا ضرورت تھی ‘چیف جسٹس ثاقب نثارکا استفسار

سپریم کورٹ

لاہور( این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے الیکشن کمیشن کی جانب بھرتیوں پر پابندی کیس کی سماعت کرتے ہوئے چاروں صوبوں میں ایک ماہ کے دوران کیے گئے افسران کے تبادلوں کو عدالتی فیصلے سے مشروط کر دیا۔ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں الیکشن کمیشن کی جانب سے بھرتیوں اور تبادلوں پر پابندی کیس کی سماعت کی ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے دفتر کے لوگوں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جارہا ہے ،حکومت کو جاتے جاتے یہ تبادلے کرنے کی کیا ضرورت تھی یہ کام نگران حکومت یا الیکشن کمیشن بھی کر سکتا تھا ،عدالت نے قرار دیا کہ ایسے تمام تبادلوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے تمام صوبائی حکومتوں کو پچھلے ایک ماہ میں گریڈ 17اور اس سے اوپر کے افسران کے تقرر و تبادلوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کو عدالتی فیصلے سے مشروط کر دیا۔چیف جسٹس پاکستان نے قرار دیا کہ ان تبادلوں کا جائزہ لے کر فیصلہ دیں گے۔

Scroll To Top