بروقت انتخابات کا انعقاد بدستور خدشات کا شکار:6 مزید اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار

  • بلوچستان اسمبلی میں انتخابات اگست میں کرانے کی قرارداد جمع ،جولائی میں لوگ فریضہ حج کی ادائیگی کےلئے سعودی عرب میں ہو نگے ،مون سون کے باعث نقل مکانی بھی بڑھ جاتی ہے،متن
  • حلقہ بندیوں پر ہمارے تحفظات پرتوجہ نہ دی گئی ،تحفظات دور نہ ہوئے تو ایم کیوایم الیکشن کا بائیکاٹ کرسکتی ہے، فاروق ستار کا انتباہ

عام انتخابات

اسلام آباد(الاخبار نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے 13 اضلاع کی حلقہ بندیوں پر فیصلہ سنا دیا، مزید 6 اضلاع خاران، گھوٹکی، قصور، شیخوپورہ، بہاولنگر اور ہری پور کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دے دی گئیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے خانیوال، چنیوٹ، کرم ایجنسی، راجن پور، مانسہرہ ، صوابی، سیالکوٹ، رحیم یار خان، بنوں، جیکب آباد، گوجرانوالہ اور عمر کوٹ کی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستیں مسترد کی گئیں۔عدالت نے گزشتہ روز بھی 4 اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دی تھیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں حلقہ بندیوں سے متعلق 108 درخواستیں زیر سماعت ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہری پور، بہاولپور، خاران، گھوٹکی، قصور اور شیخوپورہ اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دے دیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو تمام اسٹیک ہولڈرز کو سن کراز سر نو حلقہ بندیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ 12اضلاع کی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستیں مسترد کردی گئیں جبکہ مزید 31 درخواستوں کی سماعت کل ہوگی۔عدالت نے گزشتہ روز بھی حلقہ بندیوں سے متعلق متفرق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے 4 اضلاع کی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دیا تھا جن میں جہلم، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ اور لوئر دیر کی حلقہ بندیاں شامل ہیں۔نئی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستیں مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والوں نے دائر کر رکھی ہیں۔ان درخواستوں میں الیکشن کمیشن کو فریق بناتے ہوئے مو¿قف اپنایا گیا ہے کہ قواعد کو نظر انداز کر کے سیاسی بنیادوں پر حلقہ بندیاں کی گئیں۔اٹک اور ایبٹ آباد سمیت مختلف اضلاع کی حلقہ بندیوں کے خلاف مزید 31 درخواستوں کی سماعت (کل ) جمعرات کو ہو گی۔۔۔۔۔ بلوچستان اسمبلی میں آئندہ عام انتخابات میں ایک ماہ کی توسیع کی قرارداد جمع کرادی گئی۔بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے اسمبلی میں قرارداد جمع کرائی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت آئندہ عام انتخابات میں ایک ماہ کی توسیع کرے۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہےکہ جولائی میں لوگ فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں ہوں گے اور جولائی میں مون سون بارشوں کےباعث بلوچستان سے لوگ نقل مکانی بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے لوگ اپنے حق رائے دہی سے محروم رہیں گے لہٰذا عام انتخابات اگست 2018کےآخری ہفتے میں کرائے جائیں۔۔ایم کیوایم پاکستان کے رہنما ءڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں پر احتجاج پرکان نہیں دھرا اور ایم کیوایم کے دفاتر ابھی تک واپس نہیں ملے اگر تحفظات حل نہ ہوئےتو ایم کیوایم الیکشن کے بائیکاٹ کااعلان کرسکتی ہے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ووٹر کی کامیابی ہے کہ ہمیں یہ نشان مل گیا، میرے ساتھی، دوست سب کا نشان پتنگ کا ہے، ہم کسی تعصب میں نہیں پڑنا چاہتے، عوام چاہتی ہے کہ رابطہ کمیٹی مل کر جلسہ کرے لیکن ایم کیوایم کا دوسرا گروپ الیکشن میں سنجیدگی نہیں لے رہا۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کا مینڈیٹ لے کر کسی اور کو دیا جارہا ہے، ہمیں مائنس کیا نہیں جارہا بلکہ کردیا گیا ہے، الیکشن ہماری بقا کی ضمانت نہیں دے سکتا، جوزیادتیاں ہمارے ساتھ ہوئیں سب کے سامنے ہے۔ایم کیوایم رہنما کاکہنا تھاکہ ہم الگ صوبے کا مطالبہ کرتے رہیں گے، 2 نہیں 100 سے زیادہ انتظامی یونٹ بننے کی ضرورت ہے، ہمیں الگ صوبے کی بات کرنے پر لعنتیں سننی پڑیں، ایم کیوایم کا ہرساتھی الگ صوبے کا خواہاں ہے، جب سب الگ صوبہ چاہتے ہیں تو پھر سب کو اپنے حقوق کے لیے لڑناہوگا۔فاروق ستار نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں پر احتجاج پرکان نہیں دھرا، میرا حلقہ مکمل ختم کرکے ڈیفنس،کلفٹن، لیاری سے ملادیا گیا،،اولڈسٹی ایریا کے کئی علاقوں کوڈسٹرب کردیا گیا۔ان کا کہنا تھاکہ مردم شماری درست نہیں ہوئی، ہمارے ساتھ الیکشن سے پہلے زیادتی ہورہی ہے، ایم کیوایم کے دفاتر ابھی تک واپس نہیں ملے، ایم کیوایم کے پاس جگہ نہیں ہے، تحفظات حل نہ ہوئے تو ایم کیوایم الیکشن کے بائیکاٹ کااعلان کرسکتی ہے۔

Scroll To Top