پاکستان کے نگران وزیراعظم اور پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کی نامزدگی اس قدر آسانی کے ساتھ کیسے ہو گئی ۔۔۔؟

ہمہ تن گوش کی ڈائری

ہم دو تین دن کے ناغے کے بعد آج اپنی بیانک بیٹریوں کو استعمال کرنے کا مصمّم ارادہ کئے ہوئے تھے کہ ہمیں اپنے جِن دوست جنابر کی آواز سنائی دی۔۔۔
” السلام علیکم بھائی ہمہ تن گوش ۔۔۔“
وعلیکم السلام بھائی جنابر۔۔۔ آپ کہاں سے ٹپک پڑے۔۔۔؟“ ہم نے کہا۔۔۔
” آپ کو ہم نے بتایا نہیں کہ ہم اپنی ریاست کے وزیر خارجہ مقرر کئے جاچکے ہیں ۔۔۔ ہمارا کام صرف دوسری ریاستوں سے تعلقات پر نظررکھنا نہیں ہم انسانوں کی دنیا کے ساتھ بھی رابطہ رکھتے ہیں تاکہ یہاں کے معاملات کے مطالعے سے جو علم حاصل ہو اسے ہم اپنے معاملات میں استعمال کرسکیں۔۔۔“ بھائی جنابر نے کہا۔۔۔ ” اسی سلسلے میں ہم ایشیائی ممالک کا دورہ کرکے واپس جارہے تھے کہ خیال آیا کہ آپ کی مملکت ِ خداداد کا چکر بھی لگالیں۔۔۔“
” بھائی جنابر۔۔۔ آپ لوگ یعنی جِن حضرات بھی روزے رکھتے ہیں۔۔۔؟“ ہم نے پوچھا۔۔۔
” ہم روزے رکھتے ہی نہیں ، روزوں کا احترام بھی کرتے ہیں۔۔۔ میں صرف اپنی ریاست کی بات کررہا ہوں جہاں مسلمانوں کی بڑی بھاری اکثریت ہے۔۔۔ یہاں روزہ رکھ کر کوئی جِن جھوٹ بولنے کا تصور تک نہیں کرسکتا۔۔۔ آپ کے ملک میں تو روزے بھی جھوٹے رکھے جاتے ہیں اور جھوٹے روزے رکھ کر جھوٹ بھی کمال یقین کے ساتھ بوالا جاتا ہے۔۔۔“ بھائی جنابر نے کہا۔۔۔
” اگر آپ کا اشارہ احتساب عدالت میں دیئے جانے والے بیانات کی طرف ہے تو ہم واقعی آپ کے سامنے سرشرم سے جھکائے رکھنے پر مجبور ہیں۔۔۔ “ ہم بولے۔۔۔
” کوئی بات نہیں بھائی ہمہ تن گوش ۔۔۔ ہماری ریاست میں بڑے بڑے جھوٹے مکار لالچی اور خود غرض حکمران آجاچکے ہیں۔۔۔ خدا کا شکر ہے کہ ایک عرصے سے یہاں ایک نیک اور راست گو قیادت برسراقتدار ہے۔۔۔ “ بھائی جنابر نے کہا۔۔۔
” دُعا کریں کہ ہمارے ملک میں بھی کچھ ایسا ہوجائے ۔۔۔ یہ لوگ جونکوں کی طرح ہمارے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں اور دور ہٹنے کا نام نہیں لے رہے۔۔۔ “ ہم نے کہا۔۔۔
” آپ کی بھائی عمران کے ساتھ دُعا سلام ہے۔۔۔؟ میرا مطلب ہے کہ ان کے کانوں تک کوئی بات پہنچا سکتے ہیں۔۔۔؟“ بھائی جنابر نے اچانک پوچھا۔۔۔
” جی نہیں بھائی جنابر۔۔۔ مگر ہمارے چیف صاحب کا رابطہ رہتا ہے۔۔۔ کیوں ؟ خیریت ؟“ ہم نے کہا۔۔۔
” ان سے کہیں کہ یہ محمود الرشید جیسے لوگوں سے خبردار رہیں۔۔۔ میاں برادران تو بڑے بڑے جنرلوں اور ججوں کو خریدنے کا ریکارڈ بھی رکھتے ہیں۔۔۔ محمود الرشید تو کوئی بڑا بزنس مین نہیں۔۔۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کی نامزدگی فوراً ہی ہوگئی ہے۔۔۔؟ کسی دوسرے صوبے کا نگران وزیراعلیٰ سامنے نہیں آیا۔۔۔ ‘ ‘ بھائی جنابر نے کہا۔۔۔
” آپ کہنا کیاچاہ رہے ہیں۔۔۔؟“ ہم نے پوچھا۔۔۔
”ہمارا گزر اس علاقے سے ہورہا تھا کہ اتفاق سے ہمارے کانوں نے ان کی باتیں سن لیں۔۔۔“ بھائی جنابر بولے۔۔۔
” کیا باتیں۔۔۔ ؟“ ہمارے کان ایکدم کھڑے ہوگئے ” بس یہ کہہ دینا کافی ہے کہ بھائی عمران سے کہیں کہ چوکنّے رہیں۔۔۔ ہم نے چھوٹے میاں صاحب اور محمود الرشید کو بڑی گرمجوشی کے ساتھ بغلگیر ہوتے دیکھا۔۔۔ اور پھر یہ الفاظ بھی سنے۔۔۔ میں آپ کا بے حد شکر گزار ہوں محمود صاحب ۔۔۔ آپ نے میرا کام آسان کردیا۔۔۔ اللہ آپ کو اس کی جزا ضرور دے گا۔۔۔“
” اس بات کا کیا مطلب بھائی جنابر۔۔۔؟“ ہم نے پوچھا۔۔۔
” کبھی کبھی آپ کا بھولپن کمال کا ہوتا ہے۔۔۔اس بات کا مطلب وہی ہے جو نظر آرہا ہے۔۔۔“ بھائی جنابر بولے۔۔۔
” کہیں آپ کا مطلب یہ تو نہیں ۔۔۔؟ اوہ مائی گاڈ۔۔۔!“ ہم بس اتنا کہہ سکے کہ بھائی جنابر کی آواز سنائی دی۔۔۔
” اچھا بھائی ہم گن گوش۔۔۔ خدا حافظ ہمیں جلد اپنی اقلیم میں پہنچنا ہے۔۔۔“
بھائی جنابر تو چلے گئے ۔۔۔ مگر ہمیں حیران پریشان چھوڑ گئے۔۔۔ ہم نے تہیہ کر لیا کہ جناب ناصر کھوسہ پر بھی نظر رکھیں گے۔۔۔ اور جناب ناصر الملک پر بھی۔۔۔ یہ نامزدگیاں اس قدر جلدی اور اتنی آسانی کے ساتھ کیسے ہوگئیں۔۔۔؟

Scroll To Top