جس طرح سینیٹ انتخابات ہوئے ،جمہوریت اس کی متحمل نہیں ہوسکتی ، شاہد خاقان عباسی

  • حکومت نے پہلے دن سے ہی آزادی صحافت کا فیصلہ کیا، صحافی بتائیں ہم نے ذمے داری پوری کی یا نہیں، طے کیا تھا صحافیوں کےلئے کوئی سیکریٹ فنڈ نہیں ہوگا
  • تنقید ضرور کریں ، اچھے کام بھی سامنے لائیں ، ہتک عزت کے دعوے سے کسی کی صرف پگڑی اچھالی جا سکتی ہے، خطاب

شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ جس طرح بلوچستان کی حکومت آئی اور سینیٹ انتخابات ہوئے جمہوریت اس کی متحمل نہیں ہوسکتی ،حکومت نے پہلے دن سے ہی آزادی صحافت کا فیصلہ کیا، صحافی بتائیں ہم نے ذمے داری پوری کی یا نہیں، طے کیا تھا صحافیوں کےلئے کوئی سیکریٹ فنڈ نہیں ہوگا ،تنقید ضرور کریں ، اچھے کام بھی سامنے لائیں ، ہتک عزت کے دعوے سے کسی کی صرف پگڑی اچھالی جا سکتی ہے، میڈیا جھوٹی خبر کی خود تردید شائع کرے ،بڑی مشکلات آئیں ، حکومت نے ترقی کا سفر جاری رکھا، 2013 کے پاکستان کو بہت بہتر حالت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ،جدید دنیا میں سنسر شپ نہیں چل سکتی۔ بدھ کو آل پاکستان نیوز پیپرزسوسائٹی ( اے پی این ایس) کی ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اے پی این ایس کے ایوارڈز کی تقریب تاریخی حیثیت کی حامل ہے اور اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اے پی این ایس کی تقریب سے خطاب میرے لئے باعث فخر ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ جب سے ہماری حکومت قائم ہوئی تو ہم نے پہلے دن یہ فیصلہ کیا تھاکہ صحافت اور رپورٹنگ میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہو گی ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ حکومت نے پہلے دن سے ہی آزادی صحافت کا فیصلہ کیا، صحافی بتائیں ہم نے ذمے داری پوری کی یا نہیں، طے کیا تھا کہ صحافیوں کے لیے کوئی سیکریٹ فنڈ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تنقید ضرور کریں لیکن اچھے کام بھی سامنے لائیں، حقائق پر مبنی رپورٹنگ ملک کے لیے بہت اہم ہے، کوشش رہی کہ صحافت پر کسی قسم کا دباو¿ نہ ڈالیں، آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ آج تک ہتک عزت کے کسی کے دعوے کی رقم کسی نے وصول نہیں کی، ہتک عزت کے دعوے سے کسی کی صرف پگڑی اچھالی جا سکتی ہے، میڈیا جھوٹی خبر کی خود تردید شائع کرے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے فاٹا اور گلگت بلتستان جیسی اصلاحات کیں لیکن مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہا کہ ہم نے سمت کا تعین کردیا ہے، دعا ہے کہ ملک میں آزاد اور شفاف انتخابات ہوں، ملک شفاف انتخابات سے نہ بننے والی حکومت کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ جس حکومت کو عوام کی تائید حاصل نہ ہو وہ حکومت ملک کے لیے بہتر نہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح بلوچستان کی حکومت آئی اور سینیٹ انتخابات ہوئے، جمہوریت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بڑی مشکلات آئیں لیکن حکومت نے ترقی کا سفر جاری رکھا، 2013 کے پاکستان کو بہت بہتر حالت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسینے کہا کہ جدید دنیا میں سنسر شپ نہیں چل سکتی، سوشل میڈیا کے دور میں سنسر شپ بے سود کام ہے،سنسر شپ سے وقتی فوائد ہوسکتے ہیں لیکن ملکی مفاد میں نہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ کوشش رہی ہے کہ صحافت پر کسی قسم کا دباﺅ نہ ڈالا جائے۔وزیر اعظم نے کہاکہ میری یہ ذاتی خواہش رہتی ہے کہ اخبارات اور میڈیا میں کچھ مثبت خبریں بھی آنی چاہئیں تاکہ حکومت کی کارکردگی اجاگر ہو کیونکہ اشتہارات سے اس کو صحیح طریقے سے اجاگر نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ مثبت رپورٹنگ ملک و قوم کی ترقی کے لئے ضروری ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ منفی خبریں سن سن کر پریشان رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میرا اور میڈیا کا تعلق سب کے سامنے ہے اور آپ سب جانتے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ جب منفی خبریں چھپتی ہیں تو ان کا اثر بھی ہوتا ہے تاہم میری یہ خواہش ہے کہ اسی طرح مثبت خبریں بھی چھپنی چاہئیں تاکہ حکومت کی کارکردگی سے عوام کو آگاہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت دن میں کام کرتی ہے اور رات کو میڈیا پر اپنے کئے گئے کاموں کا دفاع کرتی ہے اور اس طرح صرف ہمارے ہی ملک میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی وزیر کےلئے جہاں قابلیت ضروری ہے وہاں پر اس کےلئے میڈیا ہینڈلنگ بھی ضروری ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میری خواہش ہے کہ میڈیا رپورٹس مثبت اور بامقصد ہونی چاہیے اور نیوز آئٹمز میں حکومت اورملک کے حوالے سے مثبت خبریں بھی عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔ انہوں نے کہاکہ اخبارات کو چلانا ناممکن بنتا جا رہا ہے اور اس حوالے سے حکومت کا کردار بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اخبارات کو اشتہارات فراہم کرکے ان کے اظہار رائے کی آزادی پر اثر انداز نہیں ہوئی اور ہم نے ہمیشہ توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اشتہارات کے نرخوں میں شفافیت قائم رکھی گئی ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات صارفین کے لئے قیمتوں کے حساس اشاریے (سی پی آئی) کے حوالے سے ایک کمیٹی قائم کریں جو معاملات کا جائزہ لے تاکہ اخبارات کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ سی پی آئی معاشرے کے تمام افراد پراثر انداز ہوتا ہے اوراس کی انڈیکسیشن کا کوئی نظام موجود ہونا بہت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں خود احتسابی اور قوانین پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پرسوں ہم حکومت میں نہیں ہوگے لیکن ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم اپنے خلاف تمام معاملات میں غیر جانبدار رہے۔ ہمیں تنازعات سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ جس طرح آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ملک کے لئے ضروری ہیں اسی طرح غیر جانبدار اور آزاد میڈیا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب ذوالفقار علی بھٹو نے لواری ٹنل کا افتتاح کیا تو میں دسویں جماعت میں پڑھتا تھا ۔ اب چالیس پینتالیس سال کے عرصے کے بعد ہماری حکومت نے 28 ارب روپے کی لاگت سے یہ منصوبہ مکمل کیا ہے۔ اسی طرح گوادر میں بھی کئی منصوبوں پر آٹھ آٹھ افتتاحی تختیاں لگی ہوئی ہیں لیکن کام صرف ہم نے مکمل کیا اور ترقی کا سفر جاری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت نے کئی شعبوں میں اصلاحات بھی متعارف کرائی ہیں اور اگر اللہ نے موقع دیا تو خدمات کاسفر مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔

Scroll To Top