سویلین اداروں کو اختیارات کی منتقلی شروع

zaheer-babar-logo
فاٹا کے خبیرپختوانخواہ میں انضام کے بعد صورت حال میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے ۔ اس پس منظر میں کے پی کے ملاکنڈ ڈویژن میںپاک فوج نے اختیارات سول اداروں کو منتقل کرنے کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ اس سلسلے میں دو اضلاع دیر بالا اور دیر پائین میں دس چیک پوسٹوں پر سکیورٹی کے فرائض پولیس کے سپرد کردئیے گے ۔ مذکورہ علاقے میں تقریبا دس سال تک پاک فوج سکیورٹی کی ذمہ داری سرانجام دیتی رہی مگر اب دیر بالا کی ت تمام چیک پوسٹوں کو پولیس کے حوالے کیا جاچکا ،پورے ضلع میں شائد ہی کوئی چیک پوسٹ ایسی ہو جہاں فوجی اہلکار تعینات ہوں۔مگر دیر پائین میں ایسی چند ایک چیک پوسٹیں موجود ہیں جہاں پولیس کی مدد کےلیے فوجی اہلکار بھی تعینات ہیں۔
اس میںدوآراءنہیں کہ فوج کسی بھی علاقے میں مخصوص مدت تک ہی اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس کے بعد یہ سویلین حکام کی زمہ داری ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنے فرائض ادا کریں۔ ریکارڈ پر ہے کہ خود عسکری حکام کی جانب سے بھی کبھی بھی اس بات پر اصرار نہیں کیا گیا کہ وہ تادیر پولیس کے فرائض ادا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ فاٹا کو کے پی کے کا حصہ بنانے کی جتنی کوشش عسکری قیادت نے کی وہ سب کو معلوم ہے۔ درحقیقت جنرل راحیل شریف کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ ہی تھے جنھوں نے اعلانیہ طور پر کہا کہ قبائلی علاقوں میں رہنے والوں کو ان تمام حقوق سے نوازا جائے جو پاکستان کے کسی بھی صوبے میں رہنے والوں کے پاس ہیں۔ افسوس کہ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی جیسے سیاست دان فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کی مخالفت کرتے رہے جس کی ملک وملت کے مفاد کے حوالے سے کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
یقینا دس سال تک علاقے میں سکیورٹی کی ذمہ داری فوج کے سپرد رہی لیکن حالات میں بتدریج بہتری کے بعد بالاآخر یہ کام پولیس کیا جارہا ہے۔بظاہر کے پی کے صوبے کی پولیس اختیارات لینے کےلیے نہ صرف بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی مذید تربیت کا اہتمام بھی کیا گیا۔
نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پورا ملک کو ہر لحاظ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ، سینکڑوں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں گئیں مگر سب سے زیادہ نقصان خبیر پختونخواہ کے حصہ میں آیا۔ صوبے کے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی بلاشبہ ایسی رہی جس پر رشک کیا جاسکتا ہے ۔
ماضی کی غلط پالیسوں کے نتیجہ میں ملک وملت کو جو نقصان ہوا اس کی تلافی آسانی نہیں ہونے والی۔درحقیقت یہ پاکستانی قوم ہی تھی جس نے ایک طرف اپنے پیاروں کے جنازے اٹھائے تو دوسری جانب پوری قوت سے ان متشد نظریات کے خلاف سیہ سپر رہیں جو اصل میںاس کی جڑیںکھوکھلی کرنے کے درپے تھے۔
کسی بھی قوم کے عزم وہمت کا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ بحرانوں میں کس قسم کے ردعمل کا اظہار کرتی ہے۔مگر خبیر تا کراچی رہنے والے پاکستانیوں نے اپنے طرزعمل سے بتا دیا کہ وہ دشمن کی ایسی چالون کو ناکام بنانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں جن کا مقصد مادر وطن کو نقصان پہنچانا ہے۔ ہمیں سمجھ لینا چاہے کہ بانیاں پاکستان نے ہمارے لیے جس طرح کے ملک کا سوچا تھا ہم ابھی تک اس دیس کو ویسا نہیں بنا سکے۔ یقینا ہمارے ہاں کمزور طاقتور کے مقابلے میںبہت پچھے ہے ۔ رائج نظام حقیقت میں بااثر لوگوں کے مفادات کو تحفظ دے رہا۔ دراصل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ہم باخوبی جانتے ہیں کہ عام شہریوں میں ایسے مرد وخواتین پاکستانی ملک کے کونے کونے میںموجود ہیںجن کے پیارے کشت وخون کے واقعات میں اللہ کو پیارے ہوگے مگر ریاست نے ان کی داد رسی نہیں کی۔ ان بچاروں کی آواز نہ تو میڈیا پر سنائی دی اور نہ اقتدار کے ایوان اس جانب متوجہ ہوئے۔ پاکستان کی بقا وسلامتی کے لیے اپنی جانوں کے نذارنہ پیش کرنے والوں کو کسی طور نہیں بھلایا جاسکتا ۔ آج بھی وفاقی اور صوبائی سطح پر ایسے اقدمات اٹھائے جانے کی ضرورت ہے جو دہشت گردی کے متاثرین کی مشکلات کمی لاسکیں۔
اس ضمن میں اہل فاٹا کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ قانونی اور آئینی محاذ پر ان کے لیے جو کچھ کیا گیا وہ قابل تحیسن ہے مگر اب اس علاقے میں بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے تیزی سے اقدمات اٹھانے ہونگے۔ آئندہ عام انتخابات کے نتیجہ میں حکومت جس کی بھی بنے لازم ہے کہ وہ قبائلی عوام کے دکھوںکا مدوا کرنے کے لیے میدان عمل میں موجود رہے۔ کوئی اس پہلو کو فراموش ن کرے کہ کالعدم تحریک طالبان کے حامی کسی نہ کسی شکل میں اب بھی موجود ہیں۔ کالعدم تنظیم کی کوشش یہی ہے کہ وہ قبائل میں بے چینی اور اضطراب کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استمال کرے تاکہ ایک بار پھر بدامنی کو جگہ مل سکے۔
سیاسی ومذہبی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ عام انتخابات کے بعد اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر فاٹا میں میں تعمیراتی منصوبے جلد ازجلد پایہ تکیمل پر پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس ضمن میں عسکری قیادت سیاسی جماعتوں کو ہر مکن مدد دینے کے لیے تیار ہے ۔ پاک فوج سمجھتی ہے کہ جنتی جلدی قبائل کی مشکلات حل ہونگی اتینی تیزی سے ہی ملک بھر میںامن وامان کی صورت حال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

Scroll To Top