علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ پر غصہ اتارنے کا نادر موقع ! 24-05-2013

kal-ki-baat
پاکستان میں بعض ایسے لوگ آج کل بڑے اہم مقامات پر فائز نظر آتے ہیں جن کے اندر ایک عرصے سے علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ کے خلاف شدید” غصہ “ پلتا اور پنپتا چلا آرہا ہے۔
علامہ اقبال ؒ کے خلاف ان کے اندر شدید برہمی اور نفرت اس لئے پائی جاتی ہے کہ انہوں نے برصغیر میں ایک ایسی مسلم مملکت کے ظہور کا خواب دیکھ کر ایک ” فتنے “ کا بیج بویا تھا جو دور ِ جدید میں ” ریاست مدینہ “ کا عکس بن جائے۔
اور قائداعظم ؒ پر اپنے اندر وہ شدید برہمی اس لئے محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے سیاسی ورثے میں صرف 11اگست 1947ءکی ہی تقریر کیوں نہ چھوڑی اور اپنے پیچھے ایسے فرمودات اور ارشادات بھی کیوں چھوڑ گئے جن کی موجودگی میں انہیں روشن خیال دین سے بے گانہ لبر ل قرار دینا خاصا مشکل کام بن گیا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی کوئی شخص آج کل اتفاقات ِ زمانہ کے نتیجے میں قسمت کا دھنی بن کر پاکستان کی وزارت مذہبی امور پر آ قابض ہوا ہے۔ یہ قبضہ اگرچہ عارضی ہے اور جیسے ہی وزیراعظم کھوسو تاریخ کو پیار ے ہوں گے یہ صاحب بھی لوگوں کے حافظے سے غائب ہوجائیں گے۔ مگر اپنے موجودہ اختیار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موصوف نے علامہ اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ کے خلاف اپنا برسوں کا غصہ ان کی تصاویر اپنی وزارت کے دفتر سے اتروا اور کباڑ خانے میں پھنکوا کر اتارا ہے۔
دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ مذہبی امور کی عمارت ایک مقدس جگہ ہے` وہاں ایسے گنہگاروں کی شبیہہ کو سجا کر رکھنا ہر گز مناسب نہیں۔ میرا نہیں خیال کہ موصوف بہت زیادہ جاہل ہوں گے اور ان کے علم میں یہ بات نہیں ہوگی کہ دفتر محض ایک دفتر ہوتا ہے ` اسے مسجد کا درجہ نہیں دیا جاسکتا ۔ انہوں نے یہ تاویل اپنے اندر کے غصے کو جائز ثابت کرنے کے لئے گھڑی ہے۔
میرے علم میں یہ بات نہ آتی ` اگر میری نظروں سے برادرم زاہد ملک کا وہ دردناک ”احتجاج نامہ “ نہ گزرا ہوتا جو انہوں نے وزیراعظم کھوسو کو ارسال کیا ہے اور جس میں انہوں نے وزارت مذہبی امور کی نگرانی پر فائزاِن ” صاحب ِجہل“ کے شرمناک اقدام پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے مقدر میں ایسا وزیر بھی لکھا تھا جسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ علامہ اقبال ؒ اور قائداعظمؒ کے ساتھ اس ملک کے عوام کتنی عقیدت رکھتے ہیں۔

Scroll To Top