مولانا فضل الرحمن کی سیاست زوال پذیر ؟

zaheer-babar-logo

کئی دہائیوں سے قومی سیاست میں مولانا فضل الرحمن کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ جمیت علماءاسلام ف کے سربراہ بظاہر مذہبی شخصیت لگتے ہیں مگر درحقیقت وہ ایسے سیاست دان سمجھے جانے چاہیں جو جمہوری وغیر جمہوری ادوار سے قطع نظر ہر دور میں اقتدار میںاپنا حصہ وصول کرنے میں پیش پیش رہے۔ جمیت علماءاسلام ف کے سربراہ کی اس خوبی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ بندوق کے زریعہ حصول اقتدار کو اعلانیہ جائز نہیں سمجھتے شائد یہی وجہ ہے کہ جمیت علماءاسلام ف کے قائد کئی بار کالعدم تنظمیوں کے حملوں کا نشانہ بنے مگر خوش قسمتی کے ساتھ محفوظ رہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان مولانا فضل الرحمن کا حلقہ انتخاب ہے مولانا کئی بار اس حلقے سے کامیاب ہوئے مگر مقامی آبادی کی قابل زکر تعداد کو ایسی سہولیات میسر نہیں آسکیں جو مولانا کی سیاسی صلاحیتوں کے عین مطابق سمجھی جائیں۔ حالیہ دنوں میںمولانا فضل الرحمن قبائلی علاقوں کے حوالے سے اپنے مخصوص نقطہ نظر کے ساتھ سامنے آئے ۔ کہنے والے کہتے ہیں جمیت علماءاسلام نے سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف اور ان کی جماعت پر سالوں دباو برقرار رکھا کہ وہ فاٹا کا کے پی کے میںانصمام نہ ہونے دے۔ اس ضمن میں مولانا فضل الرحمن کو محمود خان اچکزئی کی بھی بھرپور حمایت حاصل رہی مگر بالاآخر انھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ قومی اسمبلی اور سنیٹ کے بعد فاٹا کا کے پی کے میںانضمام کا بل صوبائی اسمبلی سے بھی پاس ہوچکا۔ گذشتہ روز جب خبیر پختوانخوہ اسمبلی میں قبائلی علاقوں کے حوالے سے رائے شماری جاری تھی تو توقعات کے برعکس جے یو آئی ف کے کارکن پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں ملوث تھے جس میں دونوں اطراف سے لوگ زخمی ہوئے۔ اس پس منظر میں اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ فاٹا کا انضمام اسمبلی نے خود نہیں کیا بلکہ اس سے کرایا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے بعقول فاٹا کے معاملہ پر جو رویہ اختیار کیا گیا اس نے پاکستان کے مستقبل پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ پریس کانفرنس میں مولانا یہ دعوی کرتے ہوئے بھی نظر آئے کہ حکومت اور وزرا اعتراف کر چکے کہ فاٹا انضمام ہماری رائے اور حقائق کے خلاف ہے ان کے بعقول زمینی حقائق وہی ہیں جو فضل الرحمن کہتا آرہا ہے۔“
مولانا فضل الرحمن کو یہ شکوہ بھی ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے فاٹا انضمام نہ ہونے اور رواج ایکٹ پر کارروائی روکنے کی بھی یقین دہانی کرائی تھی۔ مذید یہ کہ جمیت علماءاسلام فاٹا میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کی توسیع پر بھی اتفاق نہیں کرتی۔
اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن فاٹا کے کے پی کے میںانضمام کے حوالے سے افغانستان کو ”ناراض “ نہ کرنے کے حق میں نہ تھے۔ ان کے بعقول اس پیش رفت کے نتیجے میں افغانستان کی جانب سے ” مشکلات“ آئیں گی۔
مولانا فضل الرحمن سے یہ امید کرنا خلاف حقیقت نہیںکہ وہ ارض وطن میںاتفاق ویکجہتی کی فضا پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔جمیت علماءاسلام ف کے رہنما کو نہیں بھولنا چاہے کہ قبائلی علاقوں میں قیام امن کے لیے ایک طرف خود قبائلی عوام نے جبکہ دوسری جانب ملک کے دیگر حصوں میں رہنے والے لوگوں نے قربانیاں دیں۔ سیکورٹی فورسز کے افسر ہوں یا اہکار درجنوں نہیںسینکڑوں جام شہادت نوش کرچکے۔ فاٹا کا علاقہ ستر سال سے مسائل کا شکار تھا۔ پاکستان کے کل کے لیے اپنا آج قربان کرنے والوں کو ان کا حق نہ دینا زیادتی تھی۔قبائلی علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لیے تاحال بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔اب امید کی جارہی کہ ایک سال کے اندر فاٹا میں انتخابات کرواکر منتخب لوگوں کو کام کرنے کا موقعہ دیا جائیگا۔
وطن عزیز اندرونی وبیرونی طور پر کئی مسائل کا شکار ہے۔ حالات کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ قومی سطح پر اپنی صفوں میں اتفاق واتحاد برقرار رکھا جائے۔ فاٹا کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کا نقطہ نظر اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ حامیوں کی تعداد میں اضافہ نہ کرسکے۔ ملک کی بیشتر سیاسی ومذہبی قوتیں قبائلی علاقوں کو کے پی کے میں ضم کرنے کے حق میں تھیں چنانچہ عین جمہوری اصول کے مطابق اکثریت کو فتح نصیب ہوئی۔
جمیت علماءاسلام ف کے سربراہ کو سیاسی امور پر رہنمائی نہیں دی جاسکتی مگر انھیں سمجھ لینا چاہے کہ اگر قبائلی عوام ان کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہیں تو قبائلی علاقوں میںہونے والے آئندہ انتخابات میں انھیں عوام کے پاس جانا چاہے تاکہ وہ اپنی حمایت ثابت کرسکیں ۔ اپنی شکست تسلیم کرنے کی بجائے اگر مگر چونکہ چنانچہ سے کام لینا جمیت علماءاسلام ف جیسی جماعت کے قدر آور رہنما کو ہرگز زیب نہیں دیتا۔قبائلی علاقوں میں سیاست ابھی کئی کروٹیں لے گی ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کل مولانا فضل الرحمن کا نقطہ نظر کو عوام قبول کرنا شروع کردیں مگر جو کام مولانا کو کرنا ہے وہ یہ ہے کہ باوقار انداز میں موجودہ صورت حال کا مقابلہ کیا جائے ۔ سمجھ لینا چاہے کہ ہر پاکستانی کا جینا و مرنا اس دھرتی سے ہی وابستہ ہے لہذا اس کے مفاد کو انفرادی اور گروہی تقاضوں سے بالاتر رکھ ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔پاکستان تیزی سے بدل رہا لہذا اس بدلے ہوئے ماحول میں گزرے ماہ وسال کے ہتکھنڈے کسی طور پر کارآمد ثابت نہیں ہونے والے۔

 

Scroll To Top