قوم کا ہاتھ اب اِن بندوقچیوں کی گردنوں تک پہنچ ہی جانا چاہئے 23-05-2013

kal-ki-baat
یہ اس قوم کی بدنصیبی ہے کہ یہ شخص ایک ایسی سیاسی جماعت کا سربراہ ہے جو ملک کے چوتھے بڑے ووٹ بنک کی حامل ہے اور جسے ملک کے سب سے بڑے اور کلیدی شہر پر عملی طور پر بڑا موثر کنٹرول حاصل ہے۔ کبھی کبھی اس شخص پر سوجھ بوجھ رکھنے والے مدبر سیاستدان کا گماں ہوتا ہے اور کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ شخص سر سے پاﺅں تک ” غلاظت “ بدکلامی اور بازاری پن “ ہو۔ قوم کے لئے اس شخص کا وجود بدقسمتی کی بات یوں ہے کہ اسے ملک کے تقریباً دو کروڑ کی آبادی رکھنے والے شہر پر ویسا ہی کنٹرول حاصل ہے جیسا ایک پائلٹ کو اس جہاز پر ہوتا ہے جسے وہ چلارہا ہو۔ اگر کسی جہاز کے مسافروں کو یہ گماں ہوجائے کہ پائلٹ کو اپنے ذہن پر کوئی کنٹرول نہیں(دوسرے الفاظ میں وہ اپنا ذہنی توازن کھو چکا ہے)تو ان کا کیا حال ہوگا۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران ایم کیو ایم کے قائد نے جو عامیانہ رویے اپنے خطابات میں روا رکھے ہیں اور جو گندی زبان استعمال کی ہے اس پر اس جماعت کے لاکھوں ووٹر اور کارکن سخت ندامت محسوس کررہے ہوں گے ۔ المیہ یہ ہے کہ اُن کے سامنے ندامت محسوس کرنے کا بھی آپشن موجود نہیں کیوں کہ وہ سانس تک لینے کے لئے اس شخص کی منشا کے محتاج ہیں جو ہزاروں میل دور ایک غیر ملک میں بیٹھا ان کے شب و روز کنٹرول کرتا ہے۔
اگر کوئی شخص سراٹھاتا ہے تو اس کا خاتمہ کرنے والی گولی کو چلنے کے لئے زیادہ وقت درکار نہیںہوتا۔
گزشتہ دنوں ایک ایسی ہی گولی نے تحریک انصاف کی ایک سینئر رہنما خاتون زہرہ شاہد کی زندگی کا چراغ گل کردیا۔
اس گولی کی زد سے کوئی بھی شخص زیادہ دور نہیں ہوتا ¾ خواہ اس کا تعلق ایم کیو ایم سے ہی کیوں نہ ہو۔
گولیاں خود بخود نہیں چلا کرتیں۔
انہیں چلانے والے ہاتھ کہیں نہ کہیں سے ضرور نمودار ہوتے ہیں۔
اِس شخص کے پے رول پر سینکڑوں ایسے بندوقچی کراچی کے کونوں کھدروں میں چھپے ہوئے ہیں جن کا کام” منتخب “ نشانوں پر گولی چلانے کے سوا اور کوئی نہیں۔
وقت آگیا ہے کہ زندگی کو خوف و دہشت کا گہوارہ بنائے رکھنے کی بجائے لوگ اٹھیں اور ان سینکڑوں بندوقچیوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں جن کا خوف پورے اہلِ کراچی کی نیندیں حرام کئے رکھتا ہے۔

Scroll To Top