اسد درانی نے کون سی نئی بات کہی

zaheer-babar-logo

پاک فوج نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب کے معاملے کی باضابطہ تحقیقات کا اعلان کردیا ہے۔یاد رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر اسد دارنی نے ‘دی سپائی کرونکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوژن آف پیس’ نامی کتاب را کے سابق سربراہ ایس اے دلت کے ساتھ مل کر تحریر کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے بتایا گیا کہ اسد درانی کو پیر کو اس کتاب کے تناظر میں اپنی پوزیش واضح کرنے کے لیے جی ایچ کیو بلایا گیا تھا۔جس کے بعد اب اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کے لیے فوج کے ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں فارمل کورٹ آف انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔“
پاکستان اور بھارت کے تعلقات تقسیم ہند سے لے کر اب تک پچیدہ ہیں۔ ظاہر ہے اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ کہ انتہاپسند ہندو سمجھتا ہے کہ برصفیر پاک وہند میں تقسیم کا زمہ دار وہ مسلمان تھا جس نے تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہا۔تشدد پسند ہندووں کے خیال میں اگر ہندوستان کے ٹکڑے نہ ہوتے تو اکھنڈ بھارت کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے کے لیے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ یقینا یہ بھارت کے متشدد گروہ کی سیاسی آراءہے جس کے ٹھیک ہونے کا نہ ہونے سے متعلق بحث کی جاسکتی ہے۔
سرحد کے اس پار اور اس پار رہنے والا ہر باشعور شخص اس پر یقین رکھتا ہے کہ جنگ کسی مسلہ کا حل نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں میں خطے غربت سے نیچے زندگی گزرانے والوں کو اس وقت تک بنیادی ضروریات زندگی میسر نہیں آسکتیں جب تک دونوں طرف سے امن قائم کرنے کا معصم ارادہ نہیں کرلیا جاتا ۔ یہ بات زھن نشین رکھنی چاہے کہ دونوں ہمسائیوں ملکوں میں خوشگوار تعلقات کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تنازعات کو پس پشت ڈال دیا جائے بلکہ اختلافات ہونے کے باوجود ان شعبوں میں آگے بڑھا جاسکتا ہے جن میں گنجائش موجود ہے ۔
جنرل ریٹائر اسد درانی کے سلسلے میں اٹھائے گے اب تک کے اقدمات کی روشنی میں یہ امید کی جارہی کہ فارمل کورٹ آف انکوائری میں تحقیقات کے بعد اس بات کا تعین کیا جائیگا کہ آیا اس فرد کا کورٹ مارشل کیا جائے یا نہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق متعلقہ حکام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا جائے۔ اس پر وازتِ داخلہ کا موقف سامنے آچکا کہ کہ اس ضمن میں متعلقہ حکام کو ہدایات جاری ہوچکی ہیں۔
سپائی کرونکلز: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الوژن آف پیس’ اسد درانی اور انڈیا کے خفیہ ادارے ‘را’ کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے انڈیا اور پاکستان کی صورتحال کے پس منظر میں مشترکہ طور پر تحریر کی ہے۔
کتاب دبئی، استنبول اور کٹھمنڈو میں ان دونوں کی ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو پر مبنی لکھا ہے۔ دراصل
جنرل ریٹائر درانی کی جانب سے را کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر لکھی جانے والی کتاب سامنے آنے کے بعد قومی سیاستدانوں کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی ۔سینیٹ کے سابق چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی کا سینٹ میں یہ دیا جانے والا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ کہ اگر یہ کتاب کسی عام شہری یا پاکستانی سیاستدان نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر لکھی ہوتی تو آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا۔ادھر سابق وزیر اعظم اور حکمراں جماعت کے قائد نواز شریف نے لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی اس کتاب پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا ۔
دنیا بھر میں بڑے عہدوں پر رہنے والی شخصیات اپنے تجربات بیان کرنے کے لیے کتاب لکھنے کی روایت موجود ہے۔اس ضمن میں اہم یہ ہے کہ اکثر وبشیتر ان کی تحریروںسے اتفاق یا اختلاف کرنے والے سامنے آتے ہیں ۔ بادی النظر میں جنرل ریٹائر درانی کا بڑا قصور یہ ہے کہ انھوں نے را کے سابق سربراہ کے ساتھ مل کر جو کتاب لکھی اس میں بعض کے خیال میں ایسی باتیںبھی تھیں جو شائد نہیں ہونی چاہیں تھیں۔ ایک تبصرہ یہ کہ سابق آئی ایس آئی کے سربراہ نے کچھ نیا نہیں کہا ۔ ان کی کم وبیش سب ہی باتیںایسی ہیں جو کوئی اور زمہ دار شخصیت کسی نہ کسی موقعہ پر کہہ چکیں لہذا یہ کہنا غلط ہوگا کہ جنرل اسد درانی کسی نئے انکشاف کے مرتکب ہوئے ۔
ایک اور معاملہ یہ بھی ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی 1990 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے مقدمے میں بھی ملوث ہیں جس میں انھوں نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سمیت دیگر سیاست دانوں کو بھاری رقوم دینے کا اعتراف کرچکے ۔
اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ وطن عزیز میں روایتی سوچ میں تبدیلی آرہی تو شائد یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔ ہر بالغ نظر معاشرے کی طرح ہمارے ہاں بھی اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی بات کی جارہی ۔ ایک رائے کے حامی اور مخالف دونوں اپنا نقطہ نظر بیان کررہے۔ آنے والے دنوں میں یہ امید کرنا غلط نہ ہوگا کہ ہم ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے تاکہ پاکستان کو حقیقی جمہوری ریاست بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرسکیں۔

Scroll To Top