تنازعے کا حل نئی دہلی کے پاس ہے اسلام آباد کے پاس نہیں 18-05-2013

kal-ki-baat
پاکستان میں امریکہ کے سابق سفیر کیمرون منٹر نے واشنگٹن میں ایک اہم فورم پر فرمایا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کے قیام کے لئے فضا مکمل طور پر ساز گار ہوچکی ہے۔ اس ضمن میں ان کی دلیل یہ ہے کہ میاں نوازشریف شروع سے ہی بھارت کے ساتھ پائیدار امن اور بہتر تعلقات کے خواہاں رہے ہیں۔ عمران خان بھی یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات زیادہ خوشگوار ہوں اور جنرل کیانی کانقطہ نظر بھی یہی ہے۔
جو بات کیمرون منٹر صاحب نظر انداز کرتے نظر آتے ہیں وہ یہ ہے کہ پاکستان کبھی بھی بھارت کے ساتھ تعلقات کشیدہ رکھنے کا حامی نہیں رہا۔پاکستان کے کسی بھی لیڈر نے آج تک یہ موقف اختیار نہیں کیا کہ بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات کشیدہ رہیں۔ اگر اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدگی کی سطح سے اوپر نہیں ابھر سکے تو اِس کی اِس کے علاو ہ کوئی وجہ نہیں کہ بھارت نے کبھی بھی پاکستان کے ساتھ حقیقی امن قائم کرنے کی طرف کوئی ایک مثبت قدم اٹھانے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔
برصغیر میں امن کو یرغمال بنائے رکھنے میں بھارت کے رہنماﺅں کا ہی بنیادی کردار ہے۔ اگر مسئلہ کشمیر پر کسی مثبت اور حقیقی پیش رفت کا معمولی سا عندیہ بھی نئی دہلی کی طرف سے دیا گیا ہوتا تو کیمرون منٹر کو متذکرہ بیان دینے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔
جب تک مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور اصولوں پر مبنی حل کی طرف بھارت کی کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آتی ¾ پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار تعلقات کا نعرہ محض ایک نعرہ ہی رہے گا جسے دونوں ملکوں کے لیڈر اپنی سیاسی مصلحتوں کی خاطر باقاعدگی کے ساتھ بلند کرتے رہیں گے۔
پاکستان کے لئے مسئلہ کشمیر کی نزاکت اور اہمیت سے چشم پوشی اختیار کرناممکن ہی نہیں۔ اگر کیمرون منٹر جیسے لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تو انہیں تائی پین کے معاملے میں امریکہ کی پالیسی کا جائزہ لینا چاہئے۔ بعض تنازعات کی جڑیں قوموں کی سلامتی میں دور تک گڑی ہوتی ہیں۔

Scroll To Top