25جولائی 2018ءکو انتخابات ہوئے تو وہ جمہوریت نہیں لائیں گے ۔۔۔ جمہوریت لانے والے انتخابات میری رائے میں اس کے بعد ہوں گے ۔۔۔

aaj-ki-baat-new
آپ اسے میری خواہش کہیں یا میرا ایمان کہیں یا میری دیوانگی کہیں۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تقدیر اپنی تبدیلی کا عمل تب شروع کرپائے گی جب یہاں جمہوریت کا نفاذ ہوگا۔۔۔ اور جمہوریت کا نفاذ اُن انتخابات کے بعد ہونے والے انتخابات سے ہوگا جن کا اعلان صدر مملکت ممنون حسین نے فرمایا ہے۔۔۔
پہلا سوال جو آپ کے ذہن میں اٹھے گا وہ یہ ہوگا کہ جمہوریت تو خیر سے پہلے ہی یہاں نافذ ہے ’ میں کس جمہوریت کی بات کررہا ہوں۔۔۔
اگرچہ یہاںانتخابی عمل کئی مرتبہ دہرایا گیا ہے۔۔۔ کئی مرتبہ لوگ گھروں سے نکلے ہیں ¾ اور جاکر ڈبوں میں اپنے ووٹ ڈالے ہیں ‘ مگر جمہوریت کے نفاذ کا انتظار اِس ملک کو سات دہائیوں سے ہے۔۔۔ سات دہائیوں کا ذکر آپ نے میاں نوازشریف کے منہ سے بھی سنا ہوگا۔۔۔انہیں بتایا گیا ہے کہ ” پاکستان کو بنے ستّر برس سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے اوراس کی زندگی کے ستّر کے ستّر برس فوج کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہوئے ہیں۔۔۔ فوج نے کبھی گولیاں چلوا کر لیاقت علی خان کو مار ڈالا تو کبھی بھٹو کی گردن میں پھانسی کا پھندا ڈلوادیا۔۔۔ فوج کا تو کام ہی اچھی بھلی منتخب حکومتوں کو گرانا اور وزرائے اعظم کو گھر بھیجنارہا ہے۔۔۔ فوج نے ہی ملکی ترقی کا پہیہ روکنے کے لئے مجھے نکالا ہے۔۔۔ فوج کا یہاں کوئی کام ہی نہیں ہے ’ سوائے اس کے کہ جمہوریت کاگلہ گھونٹتی رہے۔۔۔“
میں تیقّن کے ساتھ نہیں کہہ سکتاکہ میاں صاحب کے ہاتھ میں یہ بیانیہ کن لوگوں نے تھمایا ہے۔۔۔ مگر یہ جانتا ہوں کہ جو بات وہ خود نہیں کہہ سکے وہ انہوں نے چوہدری احسن اقبال سے کہلوائی ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ ” اب ہمیں بموں میزائلوں اور گولہ بارود کی ضرورت نہیں۔۔۔ اب صرف اکنامک ویژن کی ضرورت ہے۔۔۔“
یہ لوگ جب جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو میرے ذہن میں ایک ایسی آوارہ عورت آتی ہے جو کبھی کسی کے ساتھ اور کبھی کسی کے ساتھ شب بسری کرتی ہے۔۔۔ اور جس کی کوکھ سے کبھی کوئی زرداری تو کبھی کوئی نواز جنم لیتا ہے۔۔۔ میں نے یہاں گیلانی ¾ راجہ پرویز اشرف اور خاقان عباسی وغیرہ کا نام نہیں لیا۔۔۔ اس لئے کہ یہ موصوفہ کے وہ بچے ہوتے ہیں جو وہ کُوڑے کے ڈھیر سے اٹھاتی ہے۔۔۔
جن ستّر سالوں کی بات میاں صاحب کرتے ہیں ان میں سے 35برس تو ایسے رہے جب حکمران طبقے کی بات ہوتی تھی تو فوراً ” شریف فیملی “ اور ” بھٹو ۔زرداری فیملی “ کے نام ذہن میں آتے تھے۔۔۔ اِن میں صرف نو برس ایسے تھے جب جنرل پرویز مشرف کا طوطی بولا۔۔۔ تب بھی غلبہ اسی ” جمہوریت “ کا رہا جس کی اولاد یہ سب لوگ ہیں۔۔۔پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ )ق(لگا ہو یا )ن(خیر سے زاہد حامد ¾ ہارون اختر ¾ دانیال عزیز ¾ طلال چوہدری اور طارق عظیم وغیرہ دونوں میں جلوہ افروز نظر آتے ہیں۔۔۔
یہ آوارہ عورت جمہوریت نہیں جو اِدھر اُدھر سے بچے لیتی رہتی ہے۔۔۔ اور یہ بچے تقریباً سارے کے سارے پیدائشی سردار ’ خان’ صاحبزادے ’ چوہدری ¾ ملک اور وڈیرے ہوتے ہیں۔۔۔ اور یہ مل کر اپنے ”بڑے “ کا انتخاب کرتے ہیں جو وزیراعظم کہلاتا ہے۔۔۔
اس نظام کو صدیاں پہلے برطانیہ نے متعارف کرایا تھا۔۔۔ ابتداءمیں اسے Elected Oligarchy )منتخب امراءکی حکومت(کہا گیا بعد میں جمہوریت کہلائی۔۔۔
جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں جمہوریعنی عوام خود اپنے ووٹوں سے اپنے لیڈریا حکمران کا انتخاب کریں۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت آئی تو چھوٹے صوبے احساسِ محرومی کا شکار ہوجائیں گے۔۔۔ 35برس سے نوازشریف دندناتا پھررہا ہے۔۔۔ چھوٹے صوبوں نے خود کو احساس محرومی کا شکار کیوں نہیں کیا۔۔۔؟
جب جمہوریت آئے گی تو ہر چھوٹا بڑا صوبہ یا انتظامی یونٹ اپنے لیڈر یا حکمران کا انتخاب خود کرے گا۔۔۔ جب حکومت ہر ضلع اور شہر تک اپنی ہوگی تو ”احساسِ محرومیت “ سوائے زرداریوں اور نوازوں وغیرہ کے اور کسی کو نہیں ہوگا۔۔۔
25جولائی 2018ءکو انتخابات ہوئے تو وہ جمہوریت نہیں لائیں گے۔۔۔ جمہوریت لانے والے انتخابات میری رائے میں اس کے بعد ہوں گے ۔۔۔

Scroll To Top