انتخابی دنگل بج چکا

zaheer-babar-logoصدر ممنون حسین نے ملک میں 25 جولائی 2018 کو عام انتخابات کروانے کی منظوری دے دی ۔ایوان صدر کے ترجمان کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات ایک ہی دن منعقد کیے جائیں گے۔آئین کے تحت موجودہ حکومت کی مدت رواں ماہ کے آخر میں مکمل ہو رہی جس کے بعد ساٹھ روز کے اندر عام انتخابات کروانا ضروری قانونی تقاضا ہے۔واضح رہے کہ عام انتخابات نگران حکومت کے تحت منعقد کیے جاتے ہیں جو انتقالِ اقتدار تک اپنے فرائض سر انجام دے گی۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے پانچ سال پورا کرنا یقینا خوش آئند ہے۔ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ جمہوریت کا پودا ارض وطن پر اپنی جڑی مضبوط کرنے کی جانب گامزن ہے۔ عصر حاضر کی کسی بھی جمہوری ریاست کی تاریخ یہ بتانے کے لیے بہت کافی ہے کہ عوام کی حق حکمرانی کا خواب آسانی سے شرمندہ تعبیر نہیںہوا، جمہوریت خامیوں سے مبرا نہیں مگر اس کی ایک خوبی سب ہی خامیوں سے بالاتر ہے کہ اس میں مخصوص مدت کے لیے حکمرانوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور نئے زمام اقتدار ووٹ کے زریعہ منتقل کرنے کی روایت مستحکم ہے۔
تیسری دنیا کے کسی بھی ملک میں جمہوریت خامیوں سے خالی نہیں۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہیں جن میں عوام کا باشعورنہ ہونا،نظام میںطاقتور طبقات کی بالادستی سب سے بڑھ کر قانون کا بااثر لوگوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ۔ دراصل جمہوری نظام کو عصر حاضر کا بہترین نظام اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اس میںخاطر خواہ لچک موجود ہے۔ یہ لوگوں کی خواہشات اور ضرورتوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ مغربی دنیا میں جمہوریت کے بعد فلاحی ریاست کا تصور تیزی سے فروغ پذیر ہے یعنی حکومت عوام کی خدمت کے لیے کی جاتی نہ کہ مخصوص گروہ کے مالی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے ۔
وطن عزیز میں حقیقی معنوں میں عوام کو حق حکمرانی تعویض کرنے میں ابھی کئی مشکلات حائل ہیں۔ بادی النظر میں سب سے بڑی مشکل تو خود عام آدمی ہے جو تاحال ڈاکو اور لیڈر کے فرق کو نہیںسمجھا سکا۔ غربت اور جہالت کے مارے کروڈوں پاکستانیوں کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ان کے ووٹ کے زریعہ منتخب ہونے والے ہی دراصل ان کے حقوق پامال کرنے میں ملوث ہیں۔
اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ملک کی بیشتر سیاسی جماعتیں لمیڈ کمپناں ہیں، یہ مذہبی وسیاسی پارٹیاں مخصوص افراد کی ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی ہیں۔ طاقتور لوگ اسے اپنے مفادات کے لیے سالوں سے نہیں کئی دہائیوںسے استمال کررہے ۔ اقبال نے کہا تھا کہ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں، اسی اصول کی روشنی میں مملکت خداداد پاکستان میں حالات بدل رہے ۔ الیکڑانک ، پرنٹ اور سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا کی بدولت پرانے حربے اب سودمند نہیں رہے۔ شہر ہی نہیں دیہاتوں میںبھی لوگ اپنے حقوق سے آگاہ ہورہے۔
گزرے ماہ وسال کے برعکس ملکی جمہوریت میں کارکردگی دکھانے کا مطالبہ زور پکڑ چکا۔ دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات اس پس منظر میں ہونگے کہ لوگ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کس جماعت نے کہاں تک اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ شہبازشریف دس سال سے پنجاب کی وزارت اعلی کے منصب پر فائز ہیں مگر پانچ دریاوں کی سرزمین کے کسی بھی شہر میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔
بلاشبہ پاکستان تیزی سے بدل رہا۔ہر حکومتی ادارے خود کو دباو میں محسوس کررہا ۔ آئین اور قانون کی بالادستی محض باتوں تک محدود رکھنا مشکل ہورہا۔ سیاست دان ، عدلیہ، بیوروکریسی ، قومی ادارے حتی کہ خود میڈیا بھی کسی طور پر چیک اینڈ بیلنس کے نظام سے مبرا نہیں۔ دراصل یہی وہ کڑا معیار ہے جس میں دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں تمام سیاسی جماعتیں پرکھی جائیں گی۔ دوسروں کے برعکس پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے مشکلات بڑھ چکیں۔ گزرے ماہ وسال کے برعکس اس بار وہ وفاق اور پنجاب دونوں میںبرسر اقتدار رہی مگر عوامی توقعات پر خاطر خواہ پوری نہ اتر سکی۔ پانامہ لیکس میںمیاں نوازشریف کی نااہلی اور اب شریف خاندان کے بیشتر افراد کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات نے پی ایم ایل این کی رہی سہی ساکھ بھی خام میں ملا دی ۔
عام انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان ہونے کے باوجود نگران وزیر اعظم کا انتخاب عمل میں نہیں آسکا۔ ماہرین کے خیال میں معاملہ لیڈر آف ہاوس اور اپوزیشن کے درمیان ہی طے ہوجائے تو یہ پارلیمان کے لیے اچھا ہو گا ورنہ یہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا۔ 2013 کے انتخابات کے موقع پر بھی صورتحال کچھ خوش آئند نہ تھی جب پارلیمنٹ کے بجائے الیکشن کمیشن نے نگراں وزیراعظم کا نام چنا۔ قومی میڈیا پر مختلف جماعتوں کے ذرائع کے حوالے سے نگران وزیر اعظم کے لیے کئی ناموں کی باز گشت جاری ہے تاہم اعلانیہ طور پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کسی بھی نام کو سامنے لانے سے گریزاں ہے۔ معاملہ کچھ بھی ہو ایک بات تو طے ہوچکی کہ عام انتخابات میں ہرگز زیادہ دن نہیں رہ گے چنانچہ اس کے پرامن انعقاد کے لیے ہر خواہش اور دعا دونوں لازم ہوچکے ۔

کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نگراں وزیراعظم کی موجودگی آئینی ضرورت ہے لیکن انتخابات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا اور اس کے لیے آزاد الیکشن کمیشن پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور جہاں تک ناموں کی بات ہے وہ ہر نگراں سیٹ اپ سے پہلے سامنے آتے رہتے ہیں۔

Scroll To Top