ملک کی سب سے بڑی تخریبی قوت ! 16-05-2013

kal-ki-baat

تبدیلی کا نعرہ عمران خان نے لگایا تھا اور قوم کی ایک بہت بڑی اکثریت نے اسے لبیک کہا۔ نیا پاکستان کا نعرہ بھی عمران خان نے لگایا اور اس نعرے کو بھی زبردست پذیرائی ملی۔ خوش آئند بات یہاں یہ ہے کہ ان دونوں نعروں کو ملک کی سب سے بڑی جماعت نے بھی اپنے انتخابی منشور میں شامل کرلیا۔ قومی امور میں نئی نسل کی شرکت کو پہلی مرتبہ ترجیحات میں اولیت دی گئی۔ اس کا کریڈٹ بھی اگرچہ عمران خان کو جاتا ہے لیکن مسلم لیگ)ن(نے بھی نئی نسل کو بڑے بھرپورانداز میں اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا۔
یہ درست ہے کہ تحریک انصاف اس انداز کا طوفان بن کر قومی سیاست پر نہ چھا سکی جس کا خواب عمران خان اور ان کے لاکھوں حامیوں نے دیکھا تھا۔ یہ بھی درست ہے کہ اگر انتخابی عمل پوری طرح شفاف ہوتا تو تحریک انصاف کی کامیابی کا گراف کہیں زیادہ اونچا ہوتا۔ مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی درست ہے کہ تحریک انصاف اِن انتخابات کے نتیجے میں ملک کی دوسری بڑی سیاست قوت بن کر ابھری ہے۔ یہ کوئی معمولی نوعیت کی کامیابی نہیں۔ اوراس ضمن میں جمہوریت کے مستقبل کے لئے حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ میاں نوازشریف نے تمام ” انتخابی رنجشیں “ تاریخ کے کباڑ خانے میں پھینک کر اس حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے کہ اگر ” ملک کی تعمیر “ کا ایجنڈا لے کر آگے بڑھنا ہے تو عمران خان اور تحریک انصاف سے فرار ممکن نہیں۔
گزشتہ شب مستقبل کے وزیراعظم میاں نوازشریف شوکت خانم میموریل ہسپتال میں عمران خان کی عیادت کے لئے پہنچے۔ اور اس خوش آئند ملاقات میںدونوں رہنماﺅں نے جس مثبت قومی جذبے کے ساتھ ملکی مفادات کو اولیت دینے کے عزم کا ارادہ کیا و ہ ہر لحاظ سے لائقِ ستائش ہے۔۔۔
میں پہلے بھی یہ بات لکھ چکاہوں کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی تمام تر سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ان تمام سیاسی قوتوں کو بڑا فعال کردار ادا کرنا ہوگا جو نظریہ ءپاکستان پر ایمان رکھتی ہیں۔
اگر مسلم لیگ )ن(اور تحریک انصاف کے درمیان اشتراک فکر و عمل قائم ہوگیا تو یہ قوم بہت جلد اس دلدل سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے گی جس میں گزشتہ عہدِ خرابی کے دوران اسے دھکیلا گیا تھا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جو سیاسی قوتیں اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لئے سازشوں کے جال بچھا تی رہتی ہیں ان کا قلع قمع کردیا جائے۔ میری نظروں میں ملک کی سب سے بڑی تخریبی قوت مولانا فضل الرحمن ہیں۔

Scroll To Top