پانی کا بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ خطرناک ہورہا

zaheer-babar-logo
وطن عزیز کے جن شہروں میں پانی کا بحران سر اٹھا رہا ہے ان میں راولپنڈی اسلام آباد نمایاں ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق خان پور ڈیم میں پانی کی سطح کم ہونے کے بعد ڈیڈ لیول سے صرف 20 فیصد اوپر رہ گئی جو یہ بتانے کے لیے بہت کافی ہے کہ جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کو پانی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ جڑواںشہروں کی اہمیت کے باوجود پانی جیسے اہم مسلہ کو حل کرنے کے لیے کسی بھی سطح پر ٹھوس کوشش نہیںکی گی۔ اب پانی کے ذخائر کم ہونے پر حکام کی جانب سے خطرے کا اظہار کیا جارہا اور سی ڈی اے و راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈز کو ہدایات جاری کی گی ہیں کہ وہ پانی کے محفوظ کرنا شروع کردیں۔دوسری جانب ڈیم انتظامیہ کے بعقول پانی جمع کرنے والے علاقوں میں بارشیں نہ ہونے، گرم اور خشک موسم پانی کے زخائر میںکمی کا باعث بنا ہے۔
آبی ماہرین کے بعقول ملک میں حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف کوئی بھی اس مسلہ کی سنگینی کا ادراک کرنے کے تیار نہیں بلکہ درحقیقت حکومت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے پانی کے ذخائر سے کھیل رہی ۔جڑواں شہروں کو پانی فراہم کرنے والے ڈیم میں پانی کے ذخائر ڈیڈ لیول سے صرف 20 فٹ اوپر رہ چکا ۔ تشویشناک یہ ہے اگر اگر بارش نہیں ہوتی تو یہ پانی صرف ایک مہینے تک استعمال کیا جاسکے گا۔حکام کے مطابق پانی کی یومیہ طلب 146 کیوسک ہے جبکہ اس کی رسائی اس سے کہی کم صرف 45 کیوسک یومیہ ہے۔
وطن عزیز میں پانی کے بحران کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 27 ملین سے بھی زیادہ پاکستانی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اورتقریبا 40 ملین پاکستانیوں کے پاس بیت الخلا دستیاب نہیں۔ماہرین کے مطابق آنے والے ماہ وسال میں پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، اس قلت کے سبب کاروبار، کھیت اور آبادیوں کو قحط جیسی سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان دنیا کے ان 180 ممالک کی فہرست میں 36 ویں نمبر پر ہے جہاں پانی کی کمی کی وجہ سے حکومت، معیشت اور عوام تینوں شدید دباو میں ہیں ۔
امریکی ادارے ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کے چند سال قبل ہونے والے ایک سروے کے مطابق پاکستان بہت تیزی سے پانی کے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ زراعت کے ساتھ ساتھ گھریلو اور صنعتی استعمال کے لئے موجود پانی بھی بہت تیزی سے ختم ہورہا ہے۔ اب قحط سے بچنے کے لیے پانی کو محفوظ بنانا اور اسے درست طریقے سے استعمال کرنا ہی مسلہ کا حل کہا جارہا۔
سنگاپور پاکستان کے مقابلے میں زیادہ پانی کے مسائل کا شکار ہے ۔ وہاں تازہ پانی کی جھیلیں یا ذخائر موجود نہیں اورپانی کی طلب فراہمی سے زیادہ ہے مگر اس کے باوجود بہتر منصوبہ سازی ، عالمی معاہدوں اور ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کی وجہ سے سنگاپورکا شمار بہترین واٹرمنیجرز میں ہوتا ہے۔مملکت خداداد پاکستان میں 60سال پہلے فی فرد 50 لاکھ لیٹر پانی دستیاب تھا مگر پانچ گنا کمی کے بعد یہ مقدار 10 لاکھ لیٹر رہ گئی ہے۔
اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ سن ساٹھ اور ستر کے عشرے میں تعمیر کئے گئے منگلا اور تربیلا ڈیمز کے بعد ملک میں پانی کا ذخیرہ کرنے کا کوئی پروجیکٹ نہیں بنایا گیا جس کے سبب صرف 120 دن تک کا ہی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے ۔دوسری جانب گندے پانی اور ناقص صفائی کی وجہ سے ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا 39 ہزار بچے ہیضے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ملک میں پانی کی کمی کی نمایاں وجوہات میں بڑھتی ہوئی آبادی ، شہروں کی طرف ہجرت، کھیتوں میں زیادہ پانی کی ضرورت والی کاشت کاری، صنعتوں کا پھیلاو، ناقص انفرااسٹرکچر اور بوسیدہ پانی کی لائن سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشوں کے کم یا زیادہ ہونے اور گلئیشرز کے پگھلنے کی وجہ سے ملکی زراعت کا شعبہ جو پانی کا 96 فیصد استعمال کرتا ہے متاثر ہوگا۔ اب تک کسی بھی حکومت نے پانی کا رخ موڑنے یا ذخیرہ کرنے کے لئے اسٹوریج کا مناسب انتظام نہیں کیا۔ حالات یہ ہیں کہ زیادہ بارشیں اورسیلابوں کی وجہ سے فصلوں کو نقصان پہنچتا ہے اور زمین میں کٹاو کی وجہ سے کاشت کاری مشکل ہورہی۔
ماہرین کے خیال میں مسلہ تب ہی حل ہوسکتا ہے جب حکومت پانی کے ذخائر اور انفرا اسٹرکچر میں اضافہ، پانی کے مسائل کے بارے میں شعور پیدا کرے بارش کے پانی سے کاشتکاری کا رججان بیدار کیا جائے۔ بلاشبہ پانی کی طلب اور فراہمی کے سلسلے میں حکومت کے ساتھ انفرادی سطح پر ہر شخص کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ زیادہ پانی کی فصلوں اور سیلابی پانی سے متعلق سخت قوانین بنانے ہوں گے۔
اعلی ترین سطح پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کی وجہ سے بارش کے پانی سے کاشتکاری، گرے واٹر کی ری سائیکلنگ، واٹر پرائسنگ، پانی کے ذخائرمیں اضافے اور سب سے بڑھ کر پانی کی آلودگی میں کمی کے اقدامات کو فروغ ملے ۔
مسلم لیگ ن کی حکومت جہاں دیگر کئی شعبوں میں ناکام ہوئی ہے وہی ملک میں پانی کے زخائر کو محفوظ بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدمات نہیں اٹھائے گے۔ پنجاب میں خادم اعلی سینکڑوں ارب روپے سے میڑو اور اورینج ٹرین جیسے منصوبے بناتے رہے مگر پانی جیسی بنیادی ضرورت کی فراہمی کے معاملہ میں وہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے ۔

Scroll To Top