”کاش میں عرب اور عجم کے درمیان آگ کے پہاڑ کھڑے کرسکتا !“

aaj-ki-baat-new

آج ماہ ءرمضان کا دوسرا جمعہ ہے۔۔۔ میرے نزدیک ایک مسلمان کا ہر دن مقدّس ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا رشتہ گھٹتا بڑھتا نہیں۔۔۔ اور نہ ہی ایک دن کی نیکیاں دوسرے دن کی نیکیوں سے کم تر ہوتی ہیں۔۔۔ مگر ہمارے دین میں ” ارتکازِ فکر“ کے لئے علامتوں کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔۔۔ مثال کے طور پر کعبہ شریف بھی ایک علامت ہے۔۔۔ حجرِا سود بھی ایک علامت ہے ۔۔۔ مجھے یہاں حضرت عمر فاروق ؓ کے وہ الفاظ یاد آتے ہیں جو انہوں نے حجرِاسود کو پہلی بار بوسہ دیتے وقت ادا کئے تھے: ” خدا کی قسم تم محض ایک پتھر ہو میں تمہیں اس لئے چوم رہا ہوں کہ میرے آقا ﷺ نے تمہیں چوما ہے۔۔۔“
اگر یہ کہا جائے تو بے جانہیں ہوگا کہ حضرت عمر ؓ انتہاﺅں کے آدمی تھے۔۔۔ ایک انتہا وہ تھی کہ تلوارلے کر اس شخص کا سر قلم کرنے کے لئے نکلے تھے جس نے قریش کے خداﺅں کی معبودیت کو للکارا تھا۔۔۔ اور ایک انتہا وہ مشورہ تھا جو انہوں نے جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں دیاتھا۔۔۔” سب کا سر قلم کردیاجائے۔۔۔ اور سر قلم کرنے کی ذمہ داری ہر قیدی کا قریبی رشتہ دار ادا کرے۔۔۔“
آنحضرت ﷺ کا ہر صحابی ؓ میرے نزدیک روشنی کا مینار ہے۔۔۔ اور تمام خلفائے راشدہ اپنی اپنی جگہ عظیم باطل شکن اور عظیم عہد ساز تھے۔۔۔ لیکن حضر ت عمر ؓ کا مقام اس لئے منفرد ہے کہ ان کے پیش رو حضرت ابوبکر ؓ کی مدتِ خلافت بڑی مختصر تھی اور وہ بھی مرتدین اور نبوت کے جھوٹے دعویداروں کی سرکوبی کرتے گزری۔۔۔ عملِ حکمرانی کو منشائے خداوندی اور سنّتِ محمدی ﷺ کے سانچے میں ڈھالنے کی عظیم ذمہ داری بہرحال حضرت عمر فاروق ؓ نے ادا کی۔۔۔ اور کچھ اِس انداز میں ادا کی کہ ریاستِ مدینہ اسلامی عدل اور اسلامی مساوات کا نمونہ بن گئی اور اللہ اکبر کی صدائیں ہزاروں میل دور کی فضاﺅں میں بھی شب و روز گونجنے لگیں۔۔۔
حضرت عمر فاروق ؓ سے منسوب یہ مقولہ ” عہدِ فاروقی “ کا پورا نقشہ کھینچتا ہے۔۔۔
” اگر کوئی کتا بھی دَجلہ کے کنارے تک بھوکا مر جائے تو ذمہ دار خدا کی نظروں میں عمر ہوگا۔۔۔“
یہ محض لفاظی نہیں۔۔۔ وہ سوچ ہے جو خدا کی حاکمیت کے تصور کو عملی جامہ پہناتی ہے۔۔۔
میں جب آج کا کالم لکھنے بیٹھا تو میرے ذہن میں صرف یہ بات تھی کہ آج جب کہ میں یہ الفاظ قلمبند کررہا ہے جمعتہ المبارک کا دن ہے۔۔۔ مگر بات حضرت عمر فاروق ؓ کی طرف چلی گئی ۔۔۔ اس وجہ سے چلی گئی کہ انقلابِ محمدی ﷺ کے ساتھ نامِِ عمر ؓ اسی طرح جڑا ہوا ہے۔۔۔جس طرح گوشت کے ساتھ کھال جڑی ہوتی ہے۔۔۔ اور بات حضرت عمر ؓ کی ہو تو میرا ذہن اُن الفاظ کی طرف جائے بغیر نہیں رہتا جو اس بطلِ جلیل نے قادسیہ کی فتح پر سجدہءشکر ادا کرنے کے بعد کہے تھے۔۔۔
” اے اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایک کمزور لشکر کو ایک عظیم طاقت پر غلبہ عطاکیا۔۔۔ لیکن کاش میں آج عرب اور عجم کے درمیان آگ کے پہاڑ کھڑے کرسکتا۔۔۔“
ایک صحابی نے اس بات کا مطلب پوچھا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا۔۔۔
” مجھے ڈر ہے کہ عرب کی تہذیب پر عجم کی تہذیب غلبہ نہ پالے۔۔۔ کہیں اسلام عربی سانچے سے نکل کر عجمی سانچے میں نہ ڈھل جائے۔۔۔“
اس بات کی تشریح یوں کی جاتی ہے کہ ہر غیر عرب کوعجم کہا جاتا تھا۔۔۔یہ تشریح غلط ہے۔۔۔ عراق کو عجم نہیں کہا گیا ۔۔۔شام کو عجم نہیں کہا گیا۔۔۔ صرف ایران کو عجم کہا گیا۔۔۔
ایران کو عجم اس لئے کہا گیا کہ اس سرزمین سے شہنشاہوں کی ایک فاتح تہذیب کی داستانیں جڑی ہوئی تھیں۔۔۔ یہ فاتح تہذیب ان قوموں کی تہذیب نہیں تھی جنہیں ” اہل کتاب“ کہا جاتا ہے۔۔۔ کیا یہ سچ نہیں کہ فتح قادسیہ کے بعد کا اسلام آہستہ آہستہ اِس ”فاتح “ تہذیب کے سانچے میں ڈھلتا چلا گیا۔۔۔ اور عربوں کا اللہ آہستہ آہستہ عجمیوں کا خدا بن گیا ؟

Scroll To Top