31 ویں تاریخی آئینی ترمیم منظور

zaheer-babar-logo

فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضام کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں منظور کیا جانا بلاشبہ تاریخی اقدام ہے ۔ کم وبیش ستر سال سے فاٹا کے رہنے والوں کو قومی دھارے میں شامل ہونا تاخیر سے ہی سہی مگر ہر لحاظ سے قابل تحسین ہے ۔ اس بل کی خاص بات یہ ہے کہ مذکورہ بل حکمراں جماعت مسلم لیگ اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان افہام و تفہیم کے بعد پیش کیا گیا۔ فاٹا اصلاحات بل کی منظوری کی کی حمایت 229 ووٹ آئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ایک منحرف رکن نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
رواں ماہ کے آخر تک اپنی آئینی مدت پوری کرتی قومی اسمبلی نے جو بل پاس کیا ہے یقینا اس کے دور رس نتائج پاکستان کے لیے بہت مثبت ہوں گے ۔ یہ اہم ہے کہ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ڈھائی سال پہلے ایک کمیٹی بنی جس کا نتیجہ اب سامنے آیا۔ یقینا یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ جمہوریت میںمعاملات بتدریج آگے بڑھتے ہیں۔ اسمبلی سے بل پاس کروانے کے لیے اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے جو ظاہر ہے آسان نہ تھا ۔
فاٹا کے عوام نے جو قربانیاں دیں اس کی مثال قومی تاریخ میں نہیںملتی۔ روس اور افغانستان کی جنگ ہوںیا پھر امریکہ اور طالبان کی لڑائی ہر بات قبائلی علاقوں کے رہنے والے مصائب کا شکار رہے۔ فاٹا کا خبیر پختوانخواہ میں انصمام مسلہ کا مکمل حل نہیں بلکہ یہ اس علاقے کے لوگوں کی مشکلات حل کرنے کی ابتدا ہے۔
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مذکورہ بل پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہ اس کے نتیجے میں عام انتخابات تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے بلکہ یہ وقت پر ہی منعقد کیے جائیں گے۔“
فاٹا بل کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بلدیاتی کے علاوہ صوبائی انتخابات کے علاوہ سینیٹ اور قومی اسمبلی سے متعلق بھی اظہار خیال کیا گیا۔ بل کی منظوری کے بعد امید کی جارہی ہے کہ قبائلی علاقوں میں جو مسائل موجود ہیں ان کو ختم کرنے کے لیے تیزی سے اقدمات اٹھائے جائیں گے۔
(ڈیک) فاٹا کا کے پی کے میں انصمام دراصل پاکستان کی جیت ہے۔اس سے دشمن کی وہ چال بڑی حد تک ناکام ہوگی کہ وہ فاٹا میں غیر یقینی صورت حال برقرار رکھے۔ فاٹا کو فوری طور پر علیحدہ صوبہ بنانا قابلِ قبول تجویز نہ تھی کیونکہ جنگ سے تباہ حال علاقے فی الحال اس کے لیے تیار ن تھا۔
ادھر فاٹا سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی جو اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں، انہیں ڈر ہے کہ فاٹا اور خیبرپختونخوا کے انضمام کی وجہ سے انہیں فنڈز ملنا مشکل ہوجائے گا۔“
قبائلی علاقوں میں ضرب عضب اور پھر اب درالفساد کی صورت میں سیکورٹی فورسز نے جو قربانیان دی ہیں یہ اسی کی بدولت ہے کہ امن وامان کی صورت حال میں نمایاں بہتری آئی۔ یقینا لاکھوں قبائلیوں نے قیام امن کے لیے جس طرح گھر بار چھوڈا وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ عصر حاضر میں شائد ہی کسی علاقے کے مکینوں نے ایسی قربانی دی۔ علاقے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے جو کاروائیاں کی گئیں یقینا اس کے نتیجے میں علاقہ مکینوںکو مشکلات پیش آئیں۔ درحقیقت ٹی ٹی پی کی شکل میں ایسا گروہ قبائلی علاقوں میںموجود تھا جو علاقے کے لوگوں میں گھل مل گیا تھا چنانچہ یہ یقینا مشکل تھا کہ کس طرح عام آدمی اور تشدد پسند عناصر کو ایک دوسرے سے علحیدہ کیا جائے۔
اب جبکہ قبائلی علاقوںمیںمنعظم تشدد پسند گروہوں کے ٹھکانے نہیں رہیں تو لازم تھا کہ وہاں تعمیر وترقی کے نئے سفر کا آغاز کیا جاتا۔ قبائلی عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کی اجازت دی جاتی جس کے نتیجے میں ان کے مسائل میںکمی واقعہ ہوتی۔ کے پی کے میں فاٹا کا انصمام ابتدا ہے ۔ اس اقدام کی حمایت اور مخالفت کرنے والے دونوں گروہوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اب اصلاح احوال کی کوششوں کا ساتھ دیں۔ محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ قبائلی عوام کی مشکلات حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ دونوں رہنماوں کا ٹریک ریکارڈ ایسا نہیں کہ انھوں نے کبھی عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں کے لیے آگے بڑھ کر کردار ادا کیا ہو،اس کے برعکس وہ سیاست برائے سیاست کا کھیل کھیلتے رہے جو ان کی ذات کو تو فائدہ دیتی رہی مگر ان کے حمایتی عوام اس سے بڑی حد تک محروم ہی رہے۔ فاٹا اصلاحات بل کے تحت سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار قبائلی علاقوں تک بڑھایا جائے گا جبکہ ملک میں رائج قوانین پر فاٹا میں عملدرآمد ممکن ہو سکے گا۔
ایف سی آر قانون کا خاتمہ ہوگا اور صدرِ پاکستان اور گورنر خیبرپختونخوا کے خصوصی اختیارات بھی ختم ہوجائیں گے۔فاٹا بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں فاٹا کی نشتیں 12 سے کم ہوکر 6 ہوجائیں گی، جبکہ خیبر پختونخواہ کا قومی اسمبلی میں موجودہ حصہ 39 سے بڑھ کر 45 نشستیں ہو جائے گا۔ اسی طرح سینٹ میں فاٹا کی 8 نشتیں ختم ہوجائیں گی اور ساتھ ہی سینٹ اراکین کی کل تعداد 104 سے کم ہوکر 96 رہ جائے گی۔اسی طرح قومی اسمبلی میں اراکین کی کل تعداد 342 سے کم ہوکر 336 ہوجائے گی جن میں جنرل نشستیں 226، خواتین کے لیے 60 جبکہ اقلیتی نشستیں 10 ہوں گی۔

Scroll To Top