مولانا کی شرانگیز پیشکش 15-05-2013

kal-ki-baat
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایک بار پھر قوم کو اپنا حقیقی چہرہ دکھا دیا ہے۔ جیسے ہی انتخابات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے اور لمحہ بہ لمحہ یہ تاثر مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا کہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے طور پر ابھر رہی ہے اور صوبے میں حکومت بنانے کا پہلا استحقاق اسی کا ہوگا ` مولانا فضل الرحمن نے فوری طور پر میاں نوازشریف سے رابطہ قائم کیا اور انہیں دعوت دے ڈالی کہ کے پی کے میں بھی وہ خود حکومت بنائیں۔ اور یہ کام اس لئے مشکل نہیں ہوگا کہ جے یو آئی ` قومی وطن پارٹی اور آزاد امیدواروں کی حمایت اسے حاصل ہوگی۔
مولانا کی یہ پیشکش تمام صحتمندجمہوری روایات کی نفی کرتی ہے اور اسے فوری طور پر میاں صاحب نے یہ کہہ کر مسترد کردیاکہ کے پی کے کا مینڈیٹ چونکہ عمرا ن خان کوملا ہے ` اس لئے وہاں حکومت بنانے کا پہلا حق تحریک انصاف کاہی ہے۔
میاں صاحب کا یہ موقف جس قدر خوش آئند ہے ` اسی قدر شرمناک مولانا فضل الرحمن کی ہوسِ اقتدار ہے ۔ وہ متذکرہ شرانگیز پیشکش کرتے وقت یہ بھول گئے کہ مسلم لیگ (ن)کو مرکز میں حکومت بنانے کے لئے جے یو آئی کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی ضرورت نہیں۔
مولانا کو بلوچستان میں بھی پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے ` اس لئے امکان اس بات کا ہے کہ اگلا کچھ وقت ”مولانا “کو اقتدار کی ”برکات “ سے محرومی کی حالت میں گزارنا پڑے گا۔اسی وجہ سے مایوس ہو کرانہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے مینڈیٹ کوقبول نہیں کرتے کیونکہ یہ مینڈیٹ دھاندلی کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔
شاید وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے عوام فضل الرحمان کو مولانا کہنے کی عادت ترک کردیں۔

Scroll To Top