قومی ادارے نوازشریف کے نشانے پر ہیں

zaheer-babar-logo
سابق وزیرا عظم میاںنوازشریف اپنے خلاف ہونے والی قانونی کاروائی کو کرپشن کے خلاف قرار دینے کی بجائے بدستورسازش قرار دے رہے۔ مثلا احتساب عدالت کو زیر سماعت ریفرنس کے دوران میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ بتایا کہ نیب نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کرنے پر ان کے خلاف کرپشن کے ریفرنسز دائر کیے ۔ان کے بعقول آئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش میں وہ اور ان کا خاندان نشانے پر ہے۔“
دراصل سابق وزیر اعظم دانستہ طور پر اس حقیقت پر پردہ ڈال رہے کہ پانامہ لیکس بین الاقوامی سکینڈل ہے جس کا ملک کے کسی بھی ادارے سے کچھ لینا دینا نہیں۔ چنانچہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کو دیئے گئے پاناما پیپرز کیس کے فیصلے میں دی نیب کو شریف خاندان کے خلاف 3 مختلف ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کرنے کا حکم دیا جن میں ایون فیلڈ ریفرنس، العزیزہ اسٹیل ملز ریفرنس اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس شامل ہیں۔
اب میاں نوازشریف نے ایک اور انکشاف کیا ہے کہ کہ پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے انہیں مستعفی ہونے یا طویل چھٹی پر جانے کو کہا ان کے بعقول اس قسم کی دھمکیاں ریاست کے سربراہ کو تیسری دنیا کے ممالک میں بھی نہیں دی جاتیں۔سابق وزیرِاعظم نے الزام لگایا کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک ان کے خلاف سازش میں ملوث ہیں۔“
میاں نوازشریف کچھ میںکہہ لیں کہ پاکستان کا باشعور شہری ان سے سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ وہ لندن فلیٹ کے لیے رقم کی منی ٹریل کیوں نہیںدے رہے۔ سابق وزیر اعظم کرپشن کے خلاف ہونے والی کاروائی کو سازش قرار دیتے رہیں مگر اہل پاکستان کی اکثریت اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔وہ باخوبی سمجھ رہے کہ تین دہائیوں سے زائد عرصہ تک پاکستانی سیاست پر نمایاں رہنے والے اب اپنی کوتاہیوں اور بدعنوانیوں پرپردہ ڈالنے کے لیے کوشاں ہیں۔
میاں نوازشریف بدستور دفاعی اداروں کے خلاف بول رہے ،یہ جاننے بغیر کے اس کے نتیجے میں وہ عالمی قوتوں کی نگاہوں میں تو آجائیں گے مگر عوام کی نظروں میں اپنی قدر کھو دیں گے۔ایسے میں جب پاکستان مختلف محاذوں پر الجھا ہوا ہے دفاعی اداروں کو ہدف بنا کر ملک وملت کی کوئی خدمت نہیںکی جارہی۔
بظاہر میاں نوازشریف کہتے ہیں کہ وہ فوج کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ان کے بعقول وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ فوج کی کمزوری کا مطلب پاکستان کی دفاع کی کمزروی ہے مگر آئین پر قبضہ مٹھی بھر جرنیل کرتے ہیں اور اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں، لیکن بدنام پوری فوج کو کیا جاتا ہے۔“
ایک طرف عام انتخابات زیادہ دور نہیں رہ گے دوسری جانب میاں نوازشریف کے خلاف مقدمات کی کاروائی بھی اپنے منطقی انجام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ بار بار پوچھے جانے کے باوجود سابق وزیر اعظم کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے ۔ لندن فلیٹس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس بارے حسین نواز اور حیسن نواز سے پوچھا جائے۔ دوسال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود لندن جائیدادوں سے متعلق تفصیلات سامنے نہ لانا یقینا شکوک وشبہات پیدا کرچکا ۔
سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ میاں نوازشریف کا خود کو مظلو م ثابت کرنے کی کوشش جاری وساری رہ سکتی ہے۔ سابق وزیر اعظم سمجھتے ہیں کہ عوام میں فوج کے خلاف جذبات ابھار کر اپنی حمایت حاصل کرنے کے سوا ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔ مخالفین کے بعقول مسلم لیگ ن کے اپنے بیانیہ کے نتیجے میں وہ پنجاب کے لوگوں کو کس حد تک متحرک کرسکی ہے اس کے لیے 31مئی کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لینا ہوگا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ حکمران جماعت کے ان دنوں کے سب ہی جلسے سرکاری اثر رسوخ کی بنا پر ہورہے۔ ایس ایچ او ،پٹواری اور سب سے بڑھ کر ڈی سی کو لوگ اکھٹے کرنے کا ٹاسک دیا جاتا ہے۔
مسلم لیگ ن کی موجودہ صورت حال سے باخبر لوگ دعوی کررہے ہیںکہ حکمران جماعت مشکل ترین دور سے گزر رہی۔ اس کے خلاف ایسے ٹھو س شوائد کی بنا پر خود اس کی حکومت میں کاروائی جاری وساری ہے۔ میاں نوازشریف کی جاری پالیسی پر نظر رکھنے والے دعوی کررہے کہ آنے والے دنوں میں وہ قومی اداروں کے خلاف مذید حملے بھی کرسکتے ہیں۔ اپنی تمام تر ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے سابق وزیر اعظم خود کو بےگناہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
پانچ سال وفاق اور پانچ سال پنجاب میں حکومت کرنے کے باوجود میاں نوازشریف کے پاس عوام کو دینے کے لیے بہت کچھ تھا جو نہ دیا گیا۔ پنجاب کے چند بڑے شہروں میں میڑو کی شکل میں بڑے پر اجیکٹ ضرور بنے مگر کروڈوں افراد کی بنیادی ضرورت کی جانب توجہ نہ دی گی۔ یقینا یہ ملکی سیاسی تاریخ کا بڑا معجزہ ہوگا کہ الیکشن دوہزار اٹھارہ میں اتینے مسائل کے باوجود پی ایم ایل این اپنے حق میں لوگوں کو باہر نکالنے میں کامیاب ہوجائے۔ اب تک کے سروے یہی ظاہر کررہے کہ لوگوں کو سابق وزیر اعظم کے بیانیہ سے کہیںبڑھ کر اپنے ان مسائل سے سروکار ہے جو بدستور حل نہیں ہوپارہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پانچ سال گزارنے کے باوجود لوڈشیڈنگ کا مسلہ حل نہیں ہوسکا۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی ملک کے مختلف علاقوں میں سحر وافطار میںلوڈشیڈنگ کا جاری وساری رہنا مسلم لیگ ن کی ایسی ناکامی ہے جو اس پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

Scroll To Top