عوام کا فیصلہ! 14-05-2013

kal-ki-baat
عام انتخابات اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ جو کچھ ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اب یہ بحث کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ جو نتائج سامنے آئے ہیں وہ کیوں سامنے آئے ہیں اور جن نتائج کی لوگوں کو توقع تھی وہ کیوں سامنے نہیں آسکے۔ 10مئی 2013ءکی رات تک جو تجزیے کئے گئے ان میں سے کوئی بھی درست ثابت نہیں ہوا۔ خود مسلم لیگ (ن)کے کیمپ میںبھی کسی کو یہ توقع نہ تھی کہ اس کی کامیابی اس قدر غیر معمولی ہوگی۔ اس ضمن میں یہاں میں ایک مثال دینا چاہوں گا۔۔۔ ایک ایسے ذہین طالب علم کی جو امتحان کا ایک پرچہ حل کرکے نکلا تو اس سے پوچھا گیا۔ ” کیسا رہا ؟ “ جواب میں اس نے کہا ۔ ” پانچ میں سے صرف چار سوال حل کرسکا۔ ایک سوال وقت کی کمی کی وجہ سے رہ گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 80میں سے کتنے نمبر ملتے ہیں ` ستر یا ساٹھ۔۔۔؟“
جب چند ہفتوں کے بعد نتیجہ سامنے آیا تو اس پرچے میں فاضل طالب علم نے 85نمبر حاصل کئے تھے ۔۔۔!
مسلم لیگ (ن)بھی پچاسی نمبر لے کر کامیاب ہوئی ہے !
لیکن میں اسے تحریک انصاف کی شکست نہیں سمجھتا۔ جذبات اور خواہشات سے ہٹ کر دیکھاجائے تو 2013ءکے نتائج2008ءکے نتائج سے مختلف نہیں۔2008ءمیں عوام نے جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں اور مسلم لیگ (ق)کی حکمرانی کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ اور تب یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی کہ یہ ووٹ کس کے حق میں دیا گیا ہے ۔ یہ بات درست ہے کہ نتائج کا فائدہ اُس حکمران اتحاد یا ٹولے نے اٹھایا جو گزشتہ چند ہفتوں سے یہ شور مچار رہا ہے کہ ” ہم قومی سیاست کا لبرل اور روشن خیال چہرہ ہیں`اور انتہا پسند حلقے ہمارے خلاف سازش کررہے ہیں۔“
11مئی 2013ءکو عوام نے متذکرہ ٹولے کی سیاست اور سوچ کو پوری آہنی قوت کے ساتھ مسترد کردیا۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ عوام کے فیصلے کا نشانہ صدر آصف علی زرداری بنے جن کی حکمرانی نے گزشتہ پانچ برس کے عہد کو قوم کی تاریخ کاتاریک ترین عہد بنا دیا۔
یہ سارا موضوع بڑے طویل تجزیے کا متقاضی ہے۔ آج میں صرف یہ کہوں گا کہ عوام نے بڑی بھاری اکثریت سے اس سوچ کو مسترد کردیاہے جس کا فروغ گزشتہ حکومت کے دور میں ہوا۔ مسلم لیگ (ن)اور تحریک انصاف کے درمیان جو مخالفت ہے وہ نظریاتی تصادم کی بنیاد پر نہیں۔ دونوں جماعتوںکا سیاسی و نظریاتی قبلہ تقریباً ایک ہی ہے۔ ملک کے ” نام نہاد “ ترقی پسند حلقے یا طبقے دونوں کو ہی ” انتہا پسندی “ اور ” مذہبی رحجانات “ کی ” بنیاد “ پر ٹارگٹ کررہے تھے (اور ہیں)قوم نے اپنا مینڈیٹ ان دونوں کے حق میں دے کر یہ بات واضح کردی ہے کہ پاکستان کا مطلب لا الہ الا اللہ ہی ہے۔۔۔
قدرت اور عوام نے میاں نوازشریف کے کندھوں پر بڑی بھاری ذمہ داری ڈال دی ہے۔ جہاں تک جناب عمران خان کا تعلق ہے وہ ایک بہت بڑے امتحان سے سرخرو ہو کر نکلے ہیں۔ تحریک انصاف اس سے بڑی کامیابی حاصل کرسکتی تھی لیکن یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک جس جماعت کا مذاق اڑایا جاتا تھا وہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔
یہ کہنا غلط ہے کہ عمران خان تبدیلی لانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ جو تبدیلی پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر پوری دنیا کو نظر آرہی ہے اس کے اصل محرّک عمران خان ہی ہیں اور اس کا حقیقی کریڈٹ ہمارے کپتان کو ہی جاتا ہے۔

Scroll To Top