یہ لیڈر عمران خان کی طاقت نہیں عمران خان اِن لیڈروں کی طاقت ہیں

aaj-ki-baat-newشاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے درمیان جھڑپ کی جو خبریں آئی ہیں ان میں کتنی صداقت ہے یہ میں نہیں جانتا ` مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ دونوں کے درمیان رقابت کا ہونا ایک فطری امر ہے۔۔۔ شاہ محمود قریشی نے تحریک انصاف میں شمولیت جہانگیر ترین سے ذرا پہلے اختیار کی تھی ۔۔۔ جب جہانگیر ترین پارٹی میں آئے شاہ محمود قریشی اپنے آپ کو چیئرمین کا نائب یا جانشین قرار دے چکے تھے۔۔۔ ویسے بھی انہیں عہدہ بھی وائس چیئرمین کا ہی ملا۔۔۔ جہانگیر ترین کی شمولیت ذرا مختلف طریقے سے ہوئی ۔۔۔ میں پوری اتھارٹی کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ جہانگیر ترین کو تحریک انصاف میں لانے کے لئے خود عمران خان نے ذاتی طور پر کوششیں کیں۔۔۔ مجھے وہ رات اچھی طرح یاد ہے جب ہم پشاور سے واپس اسلام آباد آرہے تھے تو عمران خان راستے میں اتر گئے۔۔۔ جہاں وہ اترے وہ جہانگیر ترین کی رہائش گاہ تھی۔۔۔
” آپ لوگ دفتر جائیں اور گاڑی واپس یہیں بھیج دیں۔۔۔ یہاں میری بڑی اہم ملاقات ہے جو پارٹی کے لئے بے حد اہمیت کی حامل ہے۔۔۔ “ عمران خان نے کہا۔۔۔
دو گھنٹے بعد عمران خان تحریک انصاف کے دفتر پہنچے جہاں میں ان کا انتظار کررہا تھا۔۔۔ وہ بے حد خوش نظر آرہے تھے۔۔۔
”بڑی اچھی خبرہے۔۔۔ جہانگیر ترین نے ہماری ٹیم کا حصہ بننے کا فیصلہ کرلیا ہے۔۔۔“
میں نے اس بات کا ذکر صرف یہ بتانے کے لئے کیا ہے کہ جہانگیر ترین کی عمران خان کی نظروں میں کتنی اہمیت ہے۔۔۔ وجہ یہ ہرگز نہیں کہ وہ کپتان کی اے ٹی ایم مشین ہیں۔۔۔ یہ بات صرف پروپیگنڈہ ہے۔۔۔ پیسہ کبھی کپتان کا مسئلہ نہیں رہا۔۔۔ انہوں نے شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے پراجیکٹ کسی اے ٹی ایم مشین کی بدولت مکمل نہیں کئے۔۔۔ عمران خان کا نام خود ایک اے ٹی ایم مشین ہے۔۔۔
عمران خان کو ہمیشہ Talentیا اہلیت کی تلاش رہی ہے۔۔۔ شاہ محمود قریشی ایک سیاسی اثاثہ ہوں گے مگر اسد عمر اور جہانگیر ترین دونوں بعض ایسی قابلیتوں کے حامل ہیں جن کی ضرورت عمران خان کو بے پناہ ہے۔۔۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ ایک ڈاکٹر ہی ڈاکٹر ہوتاہے اور ایک انجینئر ہی انجینئر ہوتا ہے۔۔۔ اسد عمر اور جہانگیر ترین ڈاکٹر اور انجینئر ہیں جبکہ شاہ محمود قریشی ایک سیاستدان۔۔۔
جو بات یہاں اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ اگر یہ تینوں نہ بھی ہوتے تو تحریک انصاف کا طوفان اسی طرح اٹھتا اورعمران خان اس طوفان پر اِسی طرح سوار ہوتے جس طرح آج ہیں۔۔۔ تحریک انصاف کا کوئی بھی لیڈر عمران خان کی طاقت نہیں۔۔۔ عمران خان ہر ایک کی طاقت ہیں۔۔۔
اس لئے یہ اندازے لگانا کہ جانشینی یا ولی عہدی کے امیدواروں کے درمیان جھگڑے تحریک انصاف کو نقصان پہنچاسکتے ہیں کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔۔۔

Scroll To Top