آئی ایس آئی اور ”را“ کے سابق سربراہ امن کے متمنی

zaheer-babar-logo

پاکستان اور بھارت میں دوستانہ تعلقات کی خواہش سرحد کے آر پار بسنے والے ہر اس شخص کے دل میں ہے جو جنگ کی ہولناکی اور امن کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ جس طرح جنگجو مزاج رکھنے والے کسی بھی شعبے میں ہوسکتے ہیں بعینہ امن پسند ہونے کے لیے کوئی مخصوص پس منظر رکھنا ضروری نہیں ۔ اس کی تازہ مثال یوں ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دولت نے اپنی حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ پاک بھارت مذاکرات کے نئے آغاز کے لیے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو دورے پر مدعو کریں۔یہ بات انہوں نے اپنی کتاب کے اجرا کے موقع پربھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
”دا سپائی کرونیکل: را، آئی ایس آئی اینڈ دی الیوژن آف پیس نامی تصنیف،“ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل اسد درانی اور بھارتی ہم منصب نے مشترکہ طور پر تحریر کی ہے ۔سابق را چیف اے ایس دولت کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں سفارتی اور دفاعی میدان میں نئے زاویے آزمائے جارہے ہیں، کچھ دن قبل تک کون سوچ سکتا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر سے بات کرنے پر آمادہ ہوجائیں گے۔ان کے بعقول ہمیں بھی عمومی سوچ سے ہٹ کر دیکھنا ہوگا جیسا کہ سابق بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کہا کرتے تھے کہ پاک فوج کے سربراہ کو مدعو کیا جائے اور پھر نتائج دیکھیں۔“
عصر حاضر میں بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہورہیں۔ دنیا کے گلوبل ویلج بن جانے کے باعث مختلف قومیں ایک دوسرے کے قریب آرہیں۔ اختلافات کی بجائے تعاون کو فروغ دیا جارہا۔ سیاست پر معیشت غالب آرہی جس کی وجہ سے سفارتکاری کو آگے بڑھنے کا موقعہ مل رہا۔ جدید دنیا میں ایسی ایک بھی مثال موجودنہیں جہاںجنگ وجدل کے نتیجے میں بہتری کی کوئی صورت نظر آئی ہو۔ اس پس منظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا جس میں ویزے میں نرمی اور کرکٹ کی بحالی شامل ہے۔
ادھر جنرل ریٹائر اسد درانی نے بھارتی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور اور ان کے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کے مابین ہونے والی ملاقات ایک نئی سمت کا آغاز تھا جسے دونوں ممالک کی بیوروکریسی نے پنپنے نہیں دیا۔ان کے بعقول دہشت گردی کے خلاف مشترکہ میکانزم کے قیام کا معاہدہ دونوں ممالک کے لیے بڑی کامیابی ہوتا لیکن افسوس ایسا ہو نہ سکا۔“
درحقیقت پڑوسی ملک میں قومی سلامتی مشیر برائے وزیراعظم اجیت دووال جیسے لوگ امن کے دشمن کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کا زکر آنے پر ان کے ہر لفظ سے پاکستان دشمنی کی بو آتی ہے جو ہرگز اطمنیان بخش نہیں۔ ایک تاثر یہ ہے کہ ان دنوں بھارت میں اجیت دووال کی پذائری اس لیے ہے کہ نئی دہلی میں نریندر مودی برسر اقتدار ہے اگر مودی کی جگہ کوئی اعتدال پسند شخصیت برسر اقتدار ہوتی تو شائد حالات یہ نہ ہوتے۔
بھارت کے امن پسند حلقوں کو محض تماشائی کا کردار ادا کرنے کی بجائے آگے بڑھ کر اس انتہاپسندی کا مقابلہ کرنا ہوگا جو سیکولر ملک ہونے کی دعویدار ریاست کو جنونیت کی راہ پر ڈال چکا۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ امن میں محض پاکستان کا فائدہ ہی نہیں بلکہ یہ خود بھارت ہی نہیں جنوبی ایشیاءسے بڑھ کر عالمی امن کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔ بھارت میں غربت کی چکی میں پسنے والے افراد لاکھوں نہیںکروڈوں تک جا پہنچے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں بھی خود حکومت اس کو تسلیم کرچکی کہ کروڈوں شہری خطے غربت سے نیچے زندگی گزار ررہے ہیں۔ جہاں کروڈوں خاندانوں کو پیٹ بھر کر کھانا میسر نہ ہو وہاں ایک دوسرے کو مٹانے کی خواہش جہالت کے سوا کچھ نہیں۔
یقینا پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ تقسیم ہند سے کے کر اب تک دونوں ملکوں میں چار باضابطہ جنگوں کے علاوہ سینکڑوں نہیں ہزاروں بار کنڑول لائن اور ورکنگ باونڈری پر جھڑپیں ہوچکیں۔ مشرقی پاکستان کی علحیدگی میںجہاں ہماری ہمالیہ سے بڑی غلطیاں تھیں وہی بھارت کا گھناونا کردار بھی کم نہ تھا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ چند سال نریندر مودی بنگہ دیش جاکر اس بار کا فخر سے اقرار کرچکے کہ پاکستان کے دوٹکڑے کرنے میں بھارت نے نمایاں کردار ادا کیا۔
دراصل ایک دوسرے سے تیزی سے قریب آتی اس دنیا میں انتہاپسندی جہاں معاشرے کو تباہ برباد کررہی وہی اس کے اثرات علاقائی اور عالمی سطح پر مرتب ہورہے۔نائن الیون کے بعد اقوام عالم دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ تو ہوئیں مگر ان کی توجہ بڑی حد تک مسلمان شدت پسند گروہوں تک ہی محدود ہے۔ ہندو ، یہودی ، بدھ مت حتی کہ ان عیسائی گروہوں کی جانب مغربی دنیا فوکس کرنے کو تیار نہیں جو دہشت گردی کی مسلمہ تعریف پر پورے اترتے ہیں۔
درحقیقت عالمی سطح پر قیام امن کی خواہش اس وقت تک بے معنی ہے جب تک انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے۔ یقینا اگر بین الاقوامی سطح پر بھارت پر دباورکھا جاتا تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔ بدقسمتی سے قوموں کے معاشی مفادات اخلاقی اصولوں پر بالادستی حاصل کرچکے یہی سب ہے کہ کہیں بھی بھارت اور اسرائیل جیسے طاقتور ملکوں کو پالیساں بدلنے پر مجبور نہیںکیا جارہا ۔ اب پاکستان اور بھارت میں بسنے والوں کو خود آگے بڑھ کر قیام امن کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور را کے سابق چیف کی جانب سے دونوں ملکوں کو قریب لانے کی کوشش قابل تحیسن ہے جس کے مثبت اثرات آنے والے ماہ وسال میں کسی نہ کسی شکل میں سامنے آسکتے ہیں۔

Scroll To Top