کیا ابن خلدون کو اپنی قبر سے اٹھنا پڑے گا ؟ 08-05-2013

kal-ki-baat
مثل مشہور ہے کہ دولت کے ہر بڑے انبار کے پیچھے ایک بڑا جرم ہوتاہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں آدمی کو دوسری تمام آزادیوں کے ساتھ بزنس کرنے اور دولت کمانے کی آزادی بھی حاصل ہوتی ہے ۔ اور مغربی تہذیب میں اس آزادی کا استعمال بھی دوسری آزادیوں کی طرح آزادانہ طور پر ہوتاہے۔ لیکن مغرب میں ایسا کم ہی دکھائی دیتا ہے کہ دولت کمانے میںمصروف لوگ براہِ راست خود اقتدار بھی اپنے ہاتھوں میں لے لیںاور رکھیں۔ وہاں کے بڑے بڑے سرمایہ دار اپنی مرضی یا پسند کے حکمران سامنے لاتے ہیں اور انہیں کامیاب کرانے کے لئے اپنے وسائل خرچ کرتے ہیں۔ آپ یہ بات تصور بھی نہیں کرسکتے کہ امریکی سیاست میں کوئی میاں نوازشریف پیدا ہو۔ یعنی کوئی ایسا شخص سامنے آئے جو ایک کاروباری سلطنت کا سربراہ بھی ہو اور جس نے حکومت کی سربراہی بھی اپنے ہاتھوں میں لے رکھی ہو۔ اِس لحاظ سے دیکھاجائے تو امریکہ ابن خلدون کے اس اصول پر کاربند نظر آتاہے کہ جس مملکت یا معاشرے میں دولت کمانے کی امنگ اور حکومت کرنے کا اختیار ایک ہی شخص یا طبقے کے ہاتھوں میں آجائے اسے تباہی سے بچایا نہیں جاسکتا۔
یورپ میں صرف اٹلی کی مثال دی جاسکتی ہے جہاں سابق وزیراعظم برلسکونی کی صورت میں ایک میاںنوازشریف سامنے آیا۔ برلسکونی نے بھی متعدد مرتبہ اٹلی میں حکومت بنائی اور چلائی۔ جہاں تک میاںنوازشریف کا تعلق ہے وہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ اس خواب کے پیچھے اپنی کاروباری سلطنت کو کس حد تک پھیلانے اور فروغ دینے کا خواب ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن اگر 12مئی 2013ءکو یہ خواب ٹوٹا ہوا بکھرا پڑا نظر نہ آیا ` تو پھر ابن خلدون کو اپنی قبر سے اٹھ کر اہلِ پاکستان سے مخاطب ہونا ہوگا۔
” کیا تم نے یہ ملک ایک سرمایہ دار خاندان کے خوابوں کی تکمیل کے لئے بنایا تھا ؟
کیا تمہارے مقدر میں تاریخ سے کوئی سبق حاصل کرنا لکھا ہی نہیں ؟ “
ایمان کی ایک کیفیت وہ ہوتی ہے جب آدمی ہر خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ جس عمران خان کو میں جانتا ہوں اور جتنا جانتا ہوں وہ ایک ایسے شخص کا نام ہے جس نے خوف کی تمام زنجیریں توڑ کر اپنے آپ کو اس کلمہ کی پناہ میں دے رکھا ہے جس کا ورد وہ لبرٹی میں جائے حادثے سے نیم بیہوشی کی حالت میں ہسپتال کی طرف جاتے ہوئے کررہے تھے۔
لا الہٰ الا اللہ محمد رسول اللہ
عمران خان کے ساتھ میرے تعلق میرے رشتے اور میری دوستی کی بنیاد یہی کلمہ ہے۔
ایک ڈیڑھ برس قبل تک میں عمران خان کی تقریباً تمام سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہوا کرتا تھا۔ بارہا ایک ساتھ سفر بھی کیا۔ بہت سارے جلسوں میں بھی ان کے ساتھ رہا۔ میں اکثر ان سے کہا کرتا تھا۔
”خاں صاحب۔ آپ کی زندگی اس قوم کے لئے ا یک سرمایہ کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کی حفاظت کرنا سیکھیں۔“
اوران کا ایک ہی جواب ہوتا تھا۔
”جس رب نے زندگی دی ہے وہی اب اس کی حفاظت بھی کرے گا۔ اگر میری زندگی سے قدرت کو کچھ حاصل کرنا مقصود ہے تو جب تک میں اپنی منزل نہیں پالیتا میں زندہ رہوں گا۔“
ان کا یہ جواب مجھے لاجواب کردیتا تھا۔ کیوں کہ یہی جملہ کچھ عرصہ قبل ان کے ساتھ ایک گفتگو میں، میں نے ادا کیا تھا۔
بے شک زندگی دینے والا ہی زندگی کی حفاظت کرتا ہے۔
اگر آپ کو بھی اس سجدے کی غلامی عزیزہے جو آدمی کو ہزاروں سجدوں سے آزاد کرادیتا ہے، تو 11مئی2013کے روز اپنا فرض اور اپنا قرض ادا کرنے کے لئے گھر سے ضرور نکلیں۔
یہ سچ ہے کہ عمران خان کے لئے آپ کا ووٹ اس سجدے کے لئے ووٹ ہوگا جو آدمی کو دیگر تمام سجدوں سے آزادی دلادیتا ہے۔

Scroll To Top