”وہ دور دُور نہیں جس کا خواب ہم نے دیکھا ہے“ یہ الفاظ عمران خان کے ہیں

aaj-ki-baat-newتاریخ افراد بدلتے اور بناتے ہیں۔ ایسے افراد جنہیں رجالِ تقدیر کہا جاتا ہے۔ میں یہاں پیغمبروں کا نام نہیں لوں گا۔ میں یہاں آقائے دو جہاں سرور کائنات ﷺ کا بھی نام نہیں لوں گا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ” باطلِ شکن“ تھے۔ میں یہاں عام آدمیوں کی بات کروں گا۔ میں یہاں صلاح الدین ایوبیؒ ؒکی بات کروں گا۔ میں یہاں نیپولین بونا پارٹ کی بات کروں گا۔ میں یہاں ولادی میرلینن کی بات کروں گا۔ میں یہاں ماﺅزے تنگ کی بات کروں گا ۔ میں یہاں محمد علی جنا حؒ کی بات کروں گا۔ میں یہاں ایڈولف ہٹلرکی بات کروں گا۔ میں یہاں مہاتیر محمد کی بات کروں گا۔ میں یہاں رجب اردگان کی بات کروں گا۔ اور میں بات ذوالفقار علی بھٹو کی بھی کروں گا جنہوں نے تن تنہا ایک پورے دور کے خدوخال تبدیل کرکے رکھ دیئے۔۔۔

یہ سب لوگ افراد تھے۔ کوئی بہت بڑا تھا۔ کوئی کم بڑا تھا۔ کسی کا دوسرے کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ سب اکیلے اٹھے۔ اور اکیلے میدان میں کود پڑے۔ کسی نے نہیں دیکھا کہ ان کے ساتھ کون ہے کون نہیں ہے۔ کسی نے اپنے ساتھیوں کی جانچ پڑتال نہیں کی۔ جو آیا ان کے قافلے کا حصہ بن گیا۔ میں یہاں محمد علی جناحؒ کی مثال دوں گا جو رہتی دنیا تک ہمارے بابائے قوم اور قائداعظم ؒ رہیں گے۔ ان کے ساتھی کون تھے۔؟ وہی یونینسٹ جنہوں نے کبھی تصورِ پاکستان کا مذاق اڑایا تھا۔ وہی ممدوٹ وہی دولتانے۔ وہی سیاسی سکّے جنہیں قائداعظم ؒ نے کھوٹا قرار دیا تھا۔ یقینا ان میں لیاقت علی خان اورعبدالرب نشتر جیسے صاف ستھرے لوگ بھی تھے مگر جیسے ہی جناح ؒ دنیا سے گئے یہ صاف ستھرے لوگ ایک بوسیدہ نظام میں جذب ہوگئے۔
میرا ایمان ہے کہ اگر قدرت ہمارے قائد ؒ کو زندگی کے مزید چند برس دیتی تو ان کی جیب کے کھوٹے سکّے روحِ قائد کے سانچے میں ڈھل کر قومی خزانے کا حصہ بنتے۔ ایک فرد پورے معاشرے کو تبدیل کرڈالنے کی اہلیت رکھا کرتا ہے۔
خدا کرے کہ عمرا ن خان ویسا ہی ایک فرد ہو۔
میرا یقین ہے کہ وہ ویسا ہی ہے۔
یہ بات میں باہمی قرب کی بنیاد پر کہہ سکتاہوں۔ ہم نے برُے وقتوں میں کافی وقت ساتھ گزارا ہے۔ خوب دل کھول کر باتیں کی ہیں ۔ بحثیں کی ہیں۔ ہم ایک دنیا کے آدمی نہیں۔ مگر خواب ہمارے ایک جیسے ہیں۔ وہ بات ریاستِ مدینہ کی کرتے ہیں۔ میںبات پورے وجود کی صداقتوں کے ساتھ واپس اُس دور میں جانے کی کرتا ہوں جس میں آنحضرت ﷺ نے مدینہ کے رئیس اعظم عبداللہ ابن ابی کے ساتھ گلے لگنے کے لئے جس شخص کا انتخاب کیا تھا وہ ایک حبشی غلام بلال ؓ تھا۔ ہمار ے اکابرین میں اس شخص کا مرتبہ کس قدر بلند ہے !
مجھے عمران خان کے خوابوں کی صداقت کا اسی قدر یقین ہے جس قدر یقین مجھے اس بات کا ہے کہ میرا نام غلام اکبر ہے۔
اس میں کمزوریاں ہوں گی۔ ہیں۔
مگر وہ ایک سچا انسان ہے۔
وہ عقلِ کُل نہیں۔ مگر وہ جتنی عقل رکھتا ہے اتنی عقل آدمی کو بہت آگے لے جانے کے لئے کافی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس بات سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ اس کے دائیں کون ہے۔ اور بائیں کون ہے۔ دائیں بائیں ۔۔۔ آگے پیچھے لوگ آتے جاتے رہا کرتے ہیں۔ اصل اہمیت اس ” کوہِ گراں“ کی ہوتی ہے۔ جو درمیان میں کھڑا ہو۔
کبھی کبھی مجھے صرف اِس بات کا ڈر لگتا ہے کہ ” نمک کی کان میں جاکر نمک شد “ والی ضرب المثل کی مصداق کہیں عمران خان بھی اس نظام کا حصہ نہ بن جائے جسے بدلنے کے لئے وہ نکلا ہے۔۔۔ لیکن میرے اس ڈر کا جواب گزشتہ روز خان نے ایک بار پھر ان الفاظ میں دیا۔۔۔
” وہ دور دُور نہیں جس کا خواب ہم نے دیکھا ہے “

Scroll To Top