حسن ،حسین کے مفرور ہونے کو میرے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا: نوازشریف کا دفاع

  • حسن اور حسین اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں،قطری خط کی تصدیق کرتا ہوں،قطری خاندان کے ساتھ کاروبار میں خود شریک نہیں رہا،دبئی اسٹیل ملز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے علاوہ مجھے باقی معاملات کا پتہ نہیں،سابق وزیر اعظم
  • کیپیٹل ایف زیڈ ای سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا کہ یہ دستاویزات قانون شہادت کے تحت قابل قبول نہیں، واجد ضیا نے بیان رکارڈ کراتے ہوئے یہ دستاویز مذموم مقاصد کے تحت پیش کی، اس دستاویز کا عائد کی گئی فرد جرم سے تعلق نہیں

شریف خاندان

اسلام آباد( آن لائن) سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں مسلسل دوسرے روز اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ قطری خاندان کے ساتھ کاروبار میں خود شریک نہیں رہا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کی، اس موقع پر نامزد ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود رہے۔ سماعت کے دوران نواز شریف نے اپنا بیان قلمبند کرانے کے دوران قطری خطوط کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ خطوط کی تصدیق خود حمد بن جاسم نے سپریم کورٹ کو خط لکھے اور وہ بیان دینے کو بھی تیار تھے لیکن جے آئی ٹی نے ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ واجد ضیا کا سارا بیان رائے پر مبنی تھا جو جے آئی ٹی نے خود بنایا، جے آئی ٹی کی رائے قابل قبول شہادت نہیں اور واجد ضیاء کے اخذ کردہ نتائج بھی قابل قبول شہادت نہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ قطری خاندان کے ساتھ سرمایہ کاری اور ایون فیلڈ کی سیٹلمنٹ سے میرا کوئی تعلق نہیں،نواز شریف نے کہا کہ واجد ضیاء کے مطابق حمد بن جاسم میرے کہنے پر شامل تفتیش نہیں ہوئے جو بھونڈا الزام ہے جبکہ واجد ضیاء نے کہا جے آئی ٹی نے فیصلہ کیا کہ کسی کو بھی سوالنامہ نہیں بھیجا جائے گا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ دوران جرح واجد ضیاء نے تسلیم کیا کہ جرمی فری مین کو سوالنامہ بھجوایا گیا، یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ واجد ضیاء قابل اعتبار گواہ نہیں، وہ ملزمان کو کیس میں ملوث کرنے کے لئے جعلسازی بھی کر سکتے تھے۔کیپیٹل ایف زیڈ ای سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا کہ یہ دستاویزات قانون شہادت کے تحت قابل قبول نہیں، واجد ضیا نے بیان رکارڈ کراتے ہوئے یہ دستاویز مذموم مقاصد کے تحت پیش کیں، اس دستاویز کا عائد کی گئی فرد جرم سے تعلق نہیں۔نواز شریف نے کہا کہ کمپنی کے قرض اور لین دین کے معاملات سے بھی کوئی تعلق نہیں، متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف کا خط کسی ایم ایل اے کے جواب میں آیا تو معلوم نہیں۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عرب امارات کی وزارت انصاف کے خط کو کبھی ریکارڈ پر بطور شواہدنہیں لایا گیا اس لیے اسے بطور شہادت استعمال نہیں کیا جاسکتا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ جافزا کے فارم 9 اور ملازمت کا ریکارڈ قابل قبول شہادت نہیں اور قانون شہادت کہتا ہے کہ اسکرین شاٹ قابل قبول شہادت نہیں۔دبئی اسٹیل ملز سے متعلق نواز شریف نے کہا کہ دبئی اسٹیل ملز کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے علاوہ مجھے باقی معاملات کا پتہ نہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ گلف اسٹیل کے 80 فیصد شئیرز کی فروخت 1980 کے معاہدے میں کبھی شامل نہیں رہا اور گلف اسٹیل مل کی فروخت اور ٹرانزیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ موزیک فونسیکا کے نیلسن اور نیسکول سے متعلق نواز شریف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کے پیش کردہ موزیک فونسیکا کے 2012 کے خط کو پرائمری دستاویز نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ یہ خط مروجہ قوانین کے تحت مصدقہ نہیں، واجد ضیاء کی دستاویز کا متن شہادت کے طور پر پڑھنا ملزم کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کے اختر راجا کزن ہیں جن کا عدالت میں دیا گیا بیان جانبدارانہ تھا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ جیرمی فری مین کے 5 جنوری 2017 کے خط میں ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق کی گئی جس نے کومبر گروپ اور نیلسن نیسکول ٹرسٹ کی تصدیق کی۔ نوا زشریف نے کہا جیرمی فری مین کے پاس ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپی آفس میں موجود تھی لیکن اختر راجا اور جے آئی ٹی نے ٹرسٹ ڈیڈ کی کاپیاں لینے کی کوشش نہیں کی، اختر راجا کو معلوم ہونا چاہیے کہ فوٹو کاپی پر فرانزک معائنے کا کوئی تصور موجود نہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اختر راجا نے جلد بازی میں دستاویزات خود ساختہ فرانزک ماہر کو ای میل کے ذریعے بھجوائیں اور یہ بھی حقیقت ہے فرانزک ماہر نے فوٹو کاپی پر معائنے کے لیے ہچکچاہٹ ظاہر کی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اختر راجہ نے نیب کی 3رکنی ٹیم کی رابرٹ ریڈلے سے ڈھائی گھنٹے ملاقات کرائی، رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں، ا±س کے پاس اصل دستاویز ہی نہیں تھی جب کہ سپریم کورٹ میں پہلے جمع کرائی گئی ڈیڈ میں غلطی سے پہلا صفحہ مکس ہوگیا تھا اور اختر راجا نے اس واضح غلطی کی نشاندہی بھی نہیں کی۔ اپنے بیٹوں کے بارے میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ حسن اور حسین بالغ ہیں اور اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں، یہ درست ہے کہ حسن اور حسین اس عدالت کی طرف سے اشتہاری قرار دیے گئے اور ان کا اشتہاری قرار دیا جانا میرے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا،سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے ملزم کے بیان قلمبند کیے جانے کے طریقے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ 6 دن کی لکھی ہوئی کہانی پڑھ کر سناتے رہیں، 342 کے بیان کی منشاء یہ ہے کہ ملزم بیان قلمبند کرائے جس کے دوران قانونی نکات پر وکیل سے مدد لی جاسکتی ہے۔اس موقع پر جج محمد بشیر نے کہا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں وہ بتائیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میرا اعتراض عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا جائے۔نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ میں اس بیان پر قائم ہوں، یہ بیان میں نے خود وکیل خواجہ حارث کی مشاورت سے تیار کیا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ میں زیادہ دیر تک پڑھتا رہوں تو گلے میں مسئلہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے خواجہ صاحب کو پڑھنے کا کہا، نیب کو اس پر اعتراض کرنا تھا تو گزشتہ روز کرلیتے۔نیب پراسیکیوٹر کے اعتراض کے بعد نواز شریف نے خود بیان پڑھنا شروع کیا۔ایون فیلڈ ریفرنس کی مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی اور نواز شریف کل مزید 5 سوالات کے جواب دیں گے، سابق وزیراعظم کا بیان مکمل ہونے کے بعد مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر اپنا بیان قلمبند کرائیں گے۔

Scroll To Top