نگران وزیر اعظم کی نامزدگی:تعطل برقرار، نوبت الیکشن کمیشن تک جائے گی

  • وزیر اعظم ، اپوزیشن لیڈر ملاقات بے نتیجہ ختم ، شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے مزید وقت مانگ لیا جو کسی سابق جج یا بیوروکریٹ کی تعیناتی نہیں چاہتے
  • اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں نگران وزیراعظم کے انتخاب کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جاتا ہے اور اگر کمیٹی بھی کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جاتا ہے

الیکشن کمیشن

اسلام آباد(این این آئی)نگراں وزیراعظم کے انتخاب کےلئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات بے نتیجہ ختم ہوگئی۔منگل کو وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات وزیراعظم آفس اسلام آباد میں ہوئی، جس کے دوران نگراں وزیراعظم کے ناموں پر غور کیا گیا، تاہم کسی نام پر اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ملاقات کے بعد خورشید شاہ وزیراعظم ہاو¿س سے چلے گئے اور کہا کہ نگراں وزیراعظم کے نام کے انتخاب کےلئے (آج) بدھ یا (کل )جمعرات کو وزیراعظم سے دوبارہ ملاقات ہوگی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کسی سابق جج یا بیوروکریٹ کے نام پر اتفاق نہیں چاہتے اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے تیسری بار نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے وقت مانگا ہے۔اس سے قبل 18 مئی کو بھی وزیراعظم کے چیمبر میں ہونے والی ملاقات کے دوران وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان نگراں وزیراعظم کے نام پر مشاورت کی گئی تھی ۔ذرائع کے مطابق نگراں وزیراعظم کےلئے حکومت کے تجویز کردہ 3 ناموں میں جسٹس (ر) ناصر الملک ،جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی اور ڈاکٹر شمشاد اختر شامل ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے ذکاءاشرف اور جلیل عباس جیلانی کے نام سامنے آئے تاہم تحریک انصاف نے ذکاءاشرف کا نام مسترد کردیا۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی کا نام تجویز کیا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین اور معروف صنعت کار عبدالرزاق داو¿د کے نام بھی سامنے آچکے ہیں تاہم امریکا میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نگراں وزیر اعظم کی دوڑ سے باہر ہو گئیں اور حکومت اور اپوزیشن کے تجویز کردہ ناموں میں ان کا نام شامل نہیں ۔یاد رہے کہ موجودہ حکومت کی آئینی مدت 31 مئی 2018 کو ختم ہو جائے گی جس کے بعد نگراں حکومت آئندہ انتخابات تک اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔مروجہ طریقہ کار کے مطابق نگراں وزیراعظم کے انتخاب کےلئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی طرف سے نام سامنے آتے ہیں اور کسی ایک نام پر اتفاق ہونے پر اسے نگراں وزیراعظم نامزد کردیا جاتا ہے۔پہلے مرحلے میں کسی نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں نگراں وزیراعظم کے انتخاب کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جاتا ہے اور اگر کمیٹی بھی کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جاتا ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن تجویز کردہ ناموں میں سے کسی ایک موزوں شخص کا انتخاب بطور نگراں وزیراعظم کرتا ہے۔

Scroll To Top