سوال گندم جواب چنا

zaheer-babar-logo

اس میںکوئی شک وشبہ نہیں رہا کہ سابق وزیر اعظم سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت بدعنوانی کے مقدمات کو جمہوریت کے خلاف سازش ثابت کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ میاں نوازشریف ایک طرف عدلیہ کو نشانے پر رکھئے ہوئے ہیں تو دوسری جانب دفاعی اداروں کو وزارت عظمی سے محرومی کا سبب قرار دیتے ہیں۔ مثلا ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں نوازشریف کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی میں فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندوں کا شامل ہونا درست نہ تھا۔ بعقول ان کے کہ 70 سالہ سول ملٹری جھگڑے کا بھی ان کے خلاف بنائی گئی جے آئی ٹی کی کارروائی پر اثر ہوا ۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق بریگیڈیئر نعمان سعید ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی کا حصہ تھے اور ڈان لیکس کی وجہ سے سول ملٹری تناو میں اضافہ ہوا۔“
ایک طرف میاں نوازشریف قومی اداروں کے خلاف الزام تراشی کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دے رہے تو دوسری طرف میاں شہبازشریف کی صدرات میں مسلم لیگ ن ان کے اس بیانیہ سے فاصلے رکھنے پر مجبور ہے۔ میاں نوازشریف کے ممبئی حملوں کے فورا بعد بلائی جانے والی قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مسلم لیگ ن کے قائد کی بیان کی جس طرح مذمت کی وہ ریکارڈ پر ہے۔سابق وزیر اعظم کو شائد اندازہ نہیںکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی فورسز نے جو قربانیاں دی ہیں عوام کی اکثریت ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ کراچی سے خبیر تک ملک کے کونے میں پولیس کے ساتھ فوج بھی اپنی جانوں کا نذارنہ پیش کررہی۔
حیرت انگیزطور پر تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے سیاست میںرہنے والے میاں نوازشریف یہ حقیقت نہیں سمجھ پار ہے کہ عوام کی قابل زکر تعداد ان کے طرز حکمرانی سے متاثر نہیں ہوئی۔ ماضی کے واقعات تو ایک طرف اب دوہزار تیرہ سے لے کر دوہزار اٹھارہ تک جس طرح پی ایم ایل این بالعموم اور ان کی ذات بالخصوص آشکار ہوئی وہ کسی طور پر حوصلہ افزا نہیں۔ باشعور پاکستانی یہ سوال پوچھ رہا کہ اگر ملک کی سب سے تجربہ کار جماعت لوگوں کو پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت پوری نہیں کرسکی تو دیگر سے کیا توقع رکھی جائے۔
ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ ایسے میں جب عام انتخابات سر پر ہیں ،مسلم لیگ ن کا بیانیہ پارٹی کے لیے شدید مشکلات پیدا کررہا ہے ۔ چند دن قبل ہی قومی اسمبلی میں پی ایم ایل این کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی میاں نوازشریف کے بیانات سے نالاں نظر آئے ۔ان کے بعقول حلقے کے لوگ ان سے سابق وزیر اعظم کے بیانات سے متعلق سوال کررہے ہیں۔یقینا یہ ملک وملت کی بدقسمتی ہے کہ نمایاں سیاسی شخصیات مسائل کم کرنے کی بجائے انھیں بڑھانے میںکردار ادا کررہیں۔ اپنے انفرادی اور گروہی مفاد کا تو سوچا جارہا مگر ملک وملت کا مفاد عملا پس پشت ڈالا جارہا۔
حالیہ مردم شماری میں ملک کی آبادی 20 کروڈ سے تجاوز کرچکی مگر شہریوں کی اکثریت اچھی زندگی کے حصول سے محروم ہیں۔ چند سال قبل دو وفاقی وزراء اسحاق ڈار اور احسن اقبال خود تسلیم کرچکے کہ کم وبیش چالیس فیصد سے زائد پاکستانی خطے غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ سوال پوچھا جانا چاہے کہ گذشتہ پانچ سالوں میں حکمران جماعت نے اس کے خاتمہ کے لیے کیا اقدمات اٹھائے۔
میاں نوازشریف سے احتساب عدالت نے 100 سے زائد سوالوں کے جواب پوچھے مگر وہ ان سے آدھے سوالوں کے جواب دے پائے مگر جو جوابات دئیے گے وہ بھی متعلقہ نہ تھے۔ مثلا جب ان سے لندن جائیداد سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ سوال ان سے متعلقہ نہیں ہے بہتر ہے کہ یہ سوال حسن اور حسین نواز سے پوچھا جائے۔میاں نوازشریف کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی طرف سے اکٹھے کیے گئے شواہد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کا کہا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے۔
سابق وزیر اعظم جے آئی ٹی کے اراکین اور ان کے طریقہ کار پر تنقید کرتے رہے مگر اپنے خلاف ہونے والے الزامات سے متلق ٹھو س شوائد یا گواہ پیش نہ کرسکے۔سابق وزیراعظم لندن میں اپنی جائیدادوںکے لیے پیسے کا ثبوت دینے کی بجائے سول ملٹری تعلقات کو آگے کرنے کی پالیسی پر عمل پیراءہیں۔ ادھر حدیبیہ اور گلف سٹیل ملز کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کے قیام میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔“
میاں نوازشریف کو سمجھ لینا چاہے کہ اپنے بچوں حسن اور حسین پر تمام زمہ داری ڈالنے سے مسلہ نہیں حل ہونے والا۔ جس دور میں لندن فلیٹس خریدے گے اس وقت ان کے دونوں صاحبزادوں کی عمریں اتینی نہیں تھی کہ وہ اربوں روپے کما کر کاروبار کرسکتے۔اب نوازشریف کی جانب سے سوالوں کے جوابات یہ ثابت کرنے کے لیے بہت کافی ہیںکہ لندن میں جائیداد مشکوک رقم سے خریدی گی۔ الیکشن کی آمد ہے آمد ہے دوسری جانب مقدمہ کا فیصلہ بھی اب زیادہ دور نہیں۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ عام انتخاب کے موقعہ پر میاں نوازشریف کا ملزم سے مجرم بن جانا پی ایم ایل این کی سیاست کو عارضی طور پر ہی سہی متاثر ضرور کرسکتا ہے۔

Scroll To Top