اب پرانی قبروں میں دفن مردے بھی محفوظ نہیں ! 07-05-2013

kal-ki-baat
وہ زمانہ گیا جب آدمی کے الفاظ اور اعمال بہت دور تک اس کا تعاقب نہیں کرتے تھے۔تعاقب تو تب بھی کرتے تھے لیکن انسانی حافظے کی عمر بہت لمبی نہیں ہوا کرتی۔اس لئے اکثر ہمارے حکمران اپنے الفاظ اور اعمال کے نتائج کا سامنا کرنے کے ہر امتحان سے بچ نکلا کرتے تھے۔ موجودہ دور میں میڈیا نے پرانی قبروں میں دفن مرُدوں کے لئے بھی ممکن نہیں رہنے دیا کہ وہ معاشرے کی نظروں سے ہمیشہ کے لئے اوجھل ہوجائیں۔
موجودہ انتخابی مہم کے دوران ایسے اشتہارات بھی چلے ہیں جن میں ایک بڑی سیاسی جماعت کا دکھائی دینے والا چہرہ ویسا دکھائی نہیں دے رہا جیسا چہرہ وہ آج سامنے لا رہی ہے۔
اس ضمن میں مثال میں ٹی وی کے ان دو اشتہارات کی دوں گا جن میں ایک میں میاں شہبازشریف جسٹس عبدالقیوم کو ایک مخصوص قسم کا انصاف حاصل کرنے کے لئے ہدایات دیتے دکھائی اور سنائی دے رہے ہیں اور دوسرے میں یہی جسٹس قیوم نوازشریف کے گزشتہ عہدِ حکومت کے مرد آہن سیف الرحمان کو ” مطلوبہ “ نوعیت کے فیصلے صادر کرنے کی یقین دہانیاں کرا رہے ہیں۔ یہ 1990ءکی دہائی کے آخری ایام کی بات ہے جب ” مشہور زمانہ “ جسٹس قیوم لاہور ہائی کورٹ میں تھے اور لاہور اور اسلام آباد دونوںشہروں میں شریف برادران کے منہ سے نکلنے والے الفاظ قانون کادرجہ رکھتے تھے۔
اُن دونوں ٹی وی کمرشلز کے علاوہ کچھ اخباری خبروں کے تراشے بھی چند اخباری اشتہارات میں پیش کئے گئے ہیں جو شریف دور کے ” جمہوری مزاج “ کی نہایت بھیانک تصویر پیش کرتے ہیں۔
پی پی پی کے پاس اپنا امیج بیچنے کے لئے کچھ ہو یا نہ ہو اس نے اپنی اشتہاری مہم میں نون لیگ کی قیادت کو اس کا حقیقی چہرہ ضرور دکھادیا ہے۔بہت سارے تلخ حقائق اُن لوگوں کی یادوں میں یقینا تازہ ہو گئے ہوں گے جن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ایسے ” شاندار تعمیری اور اخلاقی کردار“ کی حامل قیادت کی رخصتی پر 1999ءمیں عوام نے گھی کے چراغ کیوں جلائے تھے۔

Scroll To Top