خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تمہیں نہ تو تلوار کی اور نہ ہی بجلی کے کرنٹ کی ضرورت پڑرہی ہے جانِ نواز۔۔۔“

huma-tan-goshہمہ تن گوش کی ڈائری

شائیں شائیں کا شور ہماری بیانک بیٹریوں کو بری طرح ڈسٹرب کررہا تھا۔۔۔ اوپر فضا کا موسم پاکستان کے سیاسی موسم جیسا ہی لگ رہا تھا۔۔۔ ہم فریکوئنسی تبدیل کرکے مولانا فضل الرحمان کی طرف رخ کرنے کا ارادہ ہی کررہے تھے کہ شور اچانک رک گیا اور مریم بی بی کی بڑی صاف آواز سنائی دی ۔۔۔
” ابا حضور۔۔۔میرا تاریخ کا مطالعہ واجبی سا ہی ہے مگر مطلب کی بات میں پڑھ لیا کرتی ہوں۔۔۔ اس ضمن میں جگنوآپا میری رہنمائی دل کھول کر کرتی ہیں۔۔۔ میں نے انہیں آنٹی کہنا بند کردیا ہے کیوں کہ وہ ناراض ہوتی ہیں۔۔۔ ان کا خیال ہے کہ اپنے ٹی وی پروگرام میں وہ مجھ سے بس ذرا سی ہی کم دلکش نظر آتی ہوں گی۔۔۔“
”اچھا اچھا۔۔۔ تم بات کرو۔۔۔ کیا کہہ رہی تھیں شہبازشریف والے معاملے میں۔۔۔؟ “ یہ میاں صاحب کی آواز تھی۔۔۔
” ابا حضور ۔۔۔ مجھے سلطان کا نام صحیح طور پر یاد نہیں آرہا۔۔۔ غالباً سلطان مراد دوم تھا یا پھر کوئی اور۔۔۔ مگر اس نے ترکی کے آئین میں ایک بڑی دور اندیشانہ شق شامل کردی تھی۔۔۔“ یہ مریم کی آواز تھی۔۔۔
” سلطانوں کا کوئی آئین نہیں ہوا کرتا بیٹی۔۔۔ وہ خود چلتا پھرتا آئین ہوتے ہیں۔۔۔ بولو کیا شق شامل کی تھی۔۔۔؟“ میا ں صاحب نے کہا۔۔۔
” یہ اس زمانے کی بات ہے جب ترکی کو بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔۔۔ ایک تو ولی عہد ہوا کرتا تھا جو دارالحکومت میں بیٹھ کر کاروبار سلطنت چلاتا تھا۔۔۔ دوسرے شہزادوں کو صوبوں کی حکومتیں دے دی جاتی تھیں۔۔ ان شہزادوں میں سے کوئی نہ کوئی ضرور باہر کی کسی طاقت کے ساتھ ساز باز کرکے سلطان یا پھر ولی عہد کے خلاف بغاوت کردیا کرتا تھا۔۔۔“
” تم کہنا کیا چاہ رہی ہو۔۔۔؟ باہر کی طاقتوں کے ساتھ تعلقات ہمارے ہیں۔۔۔ شہباز کو تو روڈ ، پُل ، میٹرو اور اورنج ٹرین وغیرہ بنانے سے ہی فرصت نہیں۔۔۔“ یہ میاں صاحب کی آواز تھی۔۔۔
” ابا حضور ۔۔۔ چچا صاحب کی پانچوں ہی گھی میں ہیں۔۔۔ آپ کو کیا پتہ کہ ان کے فرزندوں اور داماد وغیرہ نے کتنی کتنی کمپنیاں بنا رکھی ہیں اور ان کمپنیوں کے خفیہ کھاتوں میں کتنا مال جاچکا ہے اور جارہا ہے ۔۔۔؟“
” مجھے سب پتہ ہے بیٹی۔۔۔ مگر تمہیں سوچنا یہ چاہئے کہ سارا مال تمہارے دادا جان کے ہی خاندان میں آرہا ہے۔۔۔ بہرحال تم کس شِق کی بات کررہی تھیں۔۔۔؟“ یہ میاں صاحب کی آواز تھی۔۔۔
” بغاوتوں کوروکنے کے لئے سلطان نے ولی عہد کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہے تو پیدائش کے وقت ہی اپنے ہر بھائی کی جان لے سکتا ہے ۔۔۔“ یہ مریم کی آواز تھی۔۔۔
کچھ دیر سناٹا رہا ۔۔۔ پھر میاں صاحب بولے۔۔۔” ابا جان نے مجھے ایسا کوئی اختیار نہیں دیا تھا۔۔۔ ویسے بھی شہباز نے کبھی میری نافرمانی نہیں کی۔۔۔“
” نافرمانی تو عباس چچا نے بھی نہیں کی تھی ابا حضور۔۔۔پھر بھی انہیں بجلی کا کرنٹ لگ گیا ۔۔۔“ یہ مریم کی آواز تھی۔۔۔
” بات تم سوچ سمجھ کر کیا کرو۔۔۔ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔۔۔ ویسے دنیا کی یہ پہلی موت تو نہیں تھی جو بجلی کا کرنٹ لگنے سے ہوئی تھی۔۔۔“
” بس یہی فرق ہے ابا حضور ۔۔۔ سفاک عثمانی ولی عہد بقول جگنو آپا کے ، تلوار سے گلا کاٹا کرتے تھے۔۔۔ بجلی کا کرنٹ اس زمانے میں ہوتا تب بھی اس سے کام نہ لیا جاتا۔۔۔“ یہ مریم بی بی تھیں۔۔۔
” میں تمہاری اس پریشانی کو درست نہیں سمجھتا کہ شہباز بغاوت کرنے والا ہے۔۔۔“ میاں صاحب نے کہا۔۔۔
” میں یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ چچا جان بھولے بھالے سید ھے سادے چھوٹے بھائی ہیں جو سارے کام اللہ تعالیٰ اور اپنے بڑے بھائی کی رضا مندی کے لئے کررہے ہیں۔۔۔ میری مقبولیت نے اُن کی اور اُن کے نالائق بیٹوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔۔۔“
’ ’اگر شہباز کے بیٹے بھی تمہار ے بھائیوں کی طرح نالائق ہوتے تو ہمارے خاندان کا بوریا بستر کبھی کا گول ہوچکا ہوتا۔۔۔“ یہ میاں صاحب کی آواز تھی۔۔۔
” میرے بھائیوں نے تو میرے حق میں دستبردار ہونا تھا ابا حضور ۔۔۔ اس لئے نالائق پیدا ہوئے۔۔۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے ۔۔۔“ یہ مریم بی بی تھیں۔۔۔
” ہاں بیٹی۔۔۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تمہیں نہ تو تلوار کی اور نہ ہی بجلی کے کرنٹ کی ضرورت پڑرہی ہے جانِ نواز۔۔۔“ میاں صاحب بولے۔۔۔
”مگر مجھے معجزے کی ضرور ضرورت ہے ابا حضور۔۔۔ کچھ حماقتیں آپ سے سر زد ہوئی ہیں۔۔۔ کچھ میں نے کی ہیں۔۔۔ اور کچھ کچھ مجھے یقین ہے کہ چچا شہبازاور چوہدری نثار اندر سے ہمارے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔۔۔ “ یہ مریم کی آواز تھی۔۔۔
” یہ تمہاری۔۔۔ “ میاں صاحب نے آگے کیا کہا ، ہم نہیں جانتے ۔۔۔ شائیں شائیں کے شور نے ہمارا بیانک رابطہ پھر توڑ دیا۔۔۔
راوی ہمہ تن گوش۔۔۔راقم غلام اکبر۔۔۔

Scroll To Top