پی ٹی آئی کا 100دنوں کیلے 6نکاتی ایجنڈا

zaheer-babar-logo

پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات 2018 کے بعد حکومت کے قیام کی صورت میں پہلے 100 روز کے لیے 6 نکاتی ایجنڈے کا اعلان کردیا جس میں طرزِ حکومت کی تبدیلی اولین ترجیح قرار پائی ہےئ۔پی ٹی آئی کے زیرِ اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی رہنماوں نے پی ٹی آئی کی ترجیحات میں سے طرزِ حکومت کی تبدیلی کو سرِ فہرست قرار دیا۔دراصل پاکستان تحریک انصاف کے 6 نکاتی ایجنڈے میں طرز حکومت کی تبدیلی کے علاوہ معیشت کی بحالی، زرعی ترقی اور پانی کا تحفظ، سماجی خدمات میں انقلاب، پاکستان کی قومی سلامتی کی ضمانت نمایاں ہیں۔
درحقیقت اس تلخ سچائی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ ملک میں آنے والی گزشتہ دو حکومتوں یعنی پی پی پی اور پی ایم ایل این نے 270 کھرب روپے کے قرضے لیے جوملکی تاریخ کی بدترین مثال کہے جاسکتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سمیت کوئی بھی جماعت اقتدار میں الیکشن میں کامیاب ہونے کی صورت میں اقتدار میں آئی تو اسے سول سروس میں اصلاحات اور پولیس میں میرٹ کی بالادستی لانا ہوگی ۔ بے روزگاری کا خاتمہ بھی بڑا چیلج ہے ادھر سچائی یہ ہے کہ ملک کی کم وبیش آدھی آبادی غربت کی شرح سے نیچے زندگی گزار رہی۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں کیا جارہا ہے جو عالمی موسیماتی تبدیلیوں سے متاثر ہے یعنی پاکستان میں گلوبل وارمنگ کا خطری بدستور موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ملک سے جنگلات کا تیزی سے خاتمہ ہورہا ، گرمی بڑھ رہی ہے چنانچہ اب اس کے لیے درخت لگانے سمیت کئی اقدمات اٹھانے ہونگے۔
خوش آئند ہے کہ پاکستان تحریک انصاف فاٹا کا خبیر پختوانخواہ میں انصمام کے لیے میدان عمل میںموجود ہے۔ یقینا پی ٹی آئی کے اس موقف کے نتیجے میں اس کی سیاسی حمایت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کا موقف ہے کہ الیکشن میں جیتنے کی صورت میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کیلئے قانون سازی کی جائے گی ، مذید یہ قبائلی علاقوں میں تعمیر و ترقی کے بڑے منصوبوں کا آغاز کیا جائے گا ۔ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے حوالے سے جامع منصوبہ رکھتی ہے۔ مثلا پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں وسیع پیمانے پر سیاسی مفاہمت کی کوششیں شروع کی جائے گی اور صوبے کا احساسِ محرومی ختم کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو بااختیار بنایا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کا یہ کہنا بھی اہم ہے کہ گوادر میں جاری ترقیاتی عمل میں مقامی آبادی کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدمات اٹھائے جائیں گے۔
عمران خان نے لاہور میں اپنے گیارہ نکات میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا بھی زکر کیا ۔ حقیقت میں جنوبی پنجاب میں بسنے والے 3 کروڑ 50 لاکھ افراد کو غربت کی دلدل سے نکالنے اور صوبوں کے مابین انتظامی توازن قائم کرنے کے بنیادی مقاصد کے تحت صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کے لیے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جانا لازم ہوچکا۔وطن عزیز میں شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے احتساب کے عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ اس میں شک نہیںکہ قومی احتساب بیورو کو خود مختاری دئیے بغیر حالات میں نمایاں بہتری کا امکان نہیں۔ وطن عزیز میں خرابیاں پیدا ہونے میں کئی دیگر عوامل کارفرما رہے وہی اس کی ایک وجہ احتساب کا قابل اعتبار نظام نہ ہوناہے۔ طاقتور اور بااثر لوگ پاکستان سے دولت لوٹ کر باآسانی دوسرے ملکوں میںمنتقل کرنے میں ملوث ہیں۔ لازم ہے کہ وطن عزیز کی چوری شدہ قومی دولت کی وطن واپسی کے لے خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی اور بازیاب کی گئی دولت غربت میں کمی لانے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں استعمال کی جائے ۔
کسی بھی حقیقی جمہوری ملک میں یہ سوچنا بھی محال ہے کہ وہاں مقامی حکومتوںکا نظام نہ ہو مگر وطن عزیز میں الٹی گنگا بہہ رہی ۔پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت کئی ایسی جماعتیں موجود ہیں جو کسی طور پر بلدیاتی نظام لانے کے حق میں نہیں۔ مگر پاکستان تحریک انصاف کہہ چکی کہ وہ ملک میں بلدیاتی نظام فعال کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ پی ٹی آئی کے بعقول پختونخوا کے طرز کے بہتر بلدیاتی نظام کو پورے ملک میں لایا جائے گا، جس کے ذریعے اختیارات اور وسائل کی گاوں کی سطح تک منتقلی کی راہ ہموار کی جائے گی۔ ملک میں رائج نظام پر عام آدمی اسے لیے اعتبار کرنے کو تیار نہیں کہ اس کی مشکلات حل نہیں ہورہیں۔ پانی ، بجلی اور گیس کے ساتھ تعلیم اور صحت کے مسائل کا حل نہ ہونا ایسی مشکل ہے جس کا کروڈوں پاکستانی آئے روز سامنا کررہے۔ بدقسمتی کے ساتھ ملکی ایلیٹ یہ سمجھ رہی کہ عام پاکستانی مسائل کے حل کے بغیر اس کی جانب متوجہ رہیگا مگر حقیقت میں ایسا نہیں۔
دوسری جانب ملکی سیاست میں پولیس اور پٹوار کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دراصل ان ہی دو محکموں کے زریعہ ووٹروں کو قابو کرنے کی بدترین روایت جاری وساری ہے۔اگر پاکستان تحریک انصاف ممکنہ طور پر اقتدار میں ان دونوں محکموں کو عوامی مفاد میں کام پر لگا دیتے ہیں تو یقینا ڈرامائی تبدیلی آسکتی ہے۔ وطن عزیز کا ایک اور مسلہ مقدمات میں تاخیر کا بھی ہے۔ خبیر تا کراچی یہ شکوہ کیا جاتا ہے کہ سالوں مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوا۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وہ زیر التوا مقدمات کے خاتمے کا بندوبست کریں گی یعنی ایک برس کی مدت کے اندر تمام مقدمات کے تیز تر اور شفاف ترین فیصلوں کے لیے متعلقہ ہائی کورٹس کی مشاورت سے خصوصی طور پر جوڈیشل ریفارمز پروگرام کا آغاز کیا جائے گا۔

Scroll To Top