ہم نے اپنے حصے کی بربادیاں سہہ لی ہیں ! 04-05-2013

kal-ki-baat

ٍّیقین کریں کہ مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ آج کے بعد جو ہفتہ آئے گا اس ہفتے لوگ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے ووٹ ڈال رہے ہوں گے۔
میں طبعی طور پر خوش فہم آدمی ہوں۔ تصویر کا روشن پہلو سامنے رکھنا میری عادت ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ کوئی منفی سوچ اس وقت تک میرے ذہن کو پراگندہ نہ کرے جب تک مجھے تاریکی میں بھی روشنی کی کرن نظر آرہی ہو۔ اگر موجودہ حالات کے تناظر میں میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ عمران خان کی تحریک مجھے روشنی کا ایک مینار نظر آرہی ہے۔ لیکن ماضی میں امیدوں کے چراغ اتنی تیزی کے ساتھ بجھے ہیں کہ جب تک 11مئی کا سورج اندھیروں میں گم نہیں ہوجاتا اور اُن اندھیروں سے روشنی کا وہ سیلاب نہیں پھوٹتا جس کے انتظار میں شاید پوری قوم ہی ہے اس وقت تک بہت سارے ” خوف “ اوروسوسے ذہن میں ابھرتے رہیں گے۔
یہ خوف کسی معمولی ذہنی اذیت کا حامل نہیں کہ کہیں ہمیں پھر اس ” دورِ خرابی “ کا ” ری پلے “ اگلے پانچ سال تک پھر نہ دیکھنا پڑے جس کا سامناکرنے کی سکّت اس قوم کے شاید کسی بھی فرد میں نہیں۔
اور خوف ایک یہ بھی ہے کہ میاں نوازشریف ایک بار پھر کہیں اپنا ایجنڈا قوم پر مسلط کرنے میں کامیاب نہ ہوجائیں۔ اگر ہمیں پھر1990ءکی دہائی میں جانا پڑا تو کیا ہوگا ؟ تاریخ دانی سے جو تھوڑی بہت فہم مجھے ملی ہے وہ یہ کہتی ہے کہ اس مرتبہ میاں صاحب صرف ایک ” سیف الرحمان “ پر قناعت نہیں کریں گے۔ وہ اپنے ساتھ اپنی مرضی کا آرمی چیف ’ اپنی مرضی کا چیف جسٹس اور اپنی مرضی کا نظام ِکار لائیں گے ۔ اپنا اور اپنے خاندان کا شمار ” ٹاٹا “ ’ ” برلا “ ’ ” امبانی “ اور مِتل“ کی صف میں کرانا اُن کا ایک ایساخواب ہے جس سے نہ تو وہ جان چھڑا سکتے ہیں اور نہ جس کی تکمیل ” اقتدار ِ کامل “ کے بغیر ہو سکتی ہے۔
اگر11مئی 2013ءکے انتخابات کے نتیجے میں کوئی ڈیڈلاک قائم ہوتا ہے تو اسے میں اس ” خبر “ سے بہتر صورتحال سمجھوں گا کہ ماضی کے عفریتوں نے پھر ملک و قوم پر اپنا شکنجہ کس لیاہے۔
میں آج دو دعائیں کررہا ہوں۔
ایک یہ کہ روشنی کا مینار محض ایک خواب نہ رہے اور حقیقت بن جائے۔
اور دوسری یہ کہ 11مئی 2013ءکے روز کسی بہتر آپشن کے لئے ہمارے دروازے بند نہ ہوں۔
ہم نے اپنے حصے کی بربادیاں سہہ لی ہیں!

Scroll To Top