میاں نواز شریف سرجیکل سٹرائک سے کہیں بہتر چوائس ہے

aaj-ki-baat-new

عمران خان نے یہ کہہ کر کوئی سنسنی خیز انکشاف نہیں کیا کہ میاں نواز شریف جب اقتدار میں نہیں ہوتے تو کھل کر پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔ میاں صاحب پہلی ہی بار جب اقتدار سے الگ ہوئے تو انہیں اندازہ ہو گیا کہ پاک فوج کے ہوتے ہوئے وہ نہ تو زیادہ دیر تک اپنی من مانیاں کر پائیں گے اور نہ ہی پاکستان پر نسلی ”شریف راج“ قائم رکھا جاسکے گا۔ میاں صاحب کو اپنے تجربے سے یہ علم تو تھا ہی کہ فوج کی سرپرستی سے اقتدار کے دروازے کس قدر آسانی کے ساتھ کھل جاتے ہیں مگر جب انہیں جنرل آصف نواز جنجوعہ اور پھر جنرل عبدالوحید کاکڑ سے پالا پڑا تو وہ یہ جان گئے کہ فوج اگر کسی کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچا سکتی ہے تو اسے وہاں سے نکالنے کی قدرت بھی رکھتی ہے۔ چنانچہ ان کے اندر اس خواہش نے جنم لیا کہ وہ کسی ایسے شخص کو فوج کی کمان دے دیں اور دیتے رہا کریں جو آنکھیں بند کر کے احکامات کی بجا آوری کرتا ہو اور جو در پردہ مسلم لیگ نون کا ایک وفادار کارکن بھی ہو۔
نہ تو جنرل آصف نواز، نہ ہی جنرل عبدالوحید کاکڑاور نہ ان کے بعد پاک فوج کی کمان سنبھالنے والے جنرلزاس قسم کے خمیر کے بنے ہوئے تھے۔۔
چنانچہ درپردہ فوج کے خلاف سازشیں کرتے رہنا میاں صاحب کا شعار بن گیا۔ ایک بات اُن کی سمجھ میں آگئی تھی کہ مغرب میں مارشل لاءاور فوجی حکمرانی کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا ۔ وہ یہ بھی جان گئے تھے کہ عالمی سطح پر فوج پر سول اتھارٹی کی بالادستی کو اچھی حکمرانی کی ایک لازمی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
چنانچہ وہ شروع سے ہی اس بیانیے کی طرف راغب ہو گئے کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے پاک فوج کو سول اتھارٹی کے احکامات کا مکمل طور پر پابند بنانا لازمی ہے اور چونکہ وہ جمہوریت کی مضبوطی کے علمبردار ہیں ، اس لئے فوج انہیں پسند نہیں کرتی ۔
یہی وہ بیانیہ تھا جو انہیں بھارتی حکمرانوں کے قریب لے گیا۔ اس بیانیے کے ساتھ ساتھ ایک اور بیانیہ بھی درپردہ میاں صاحب کی سیاست کا جزولاینفک بنا رہا کہ مسئلہ کشمیر اب مسئلہ نہیں رہابلکہ پاک ۔ بھارت تعلقات کی بہتری اور برصغیر میں دیر پا امن کے راستے میں ایک رکاوٹ بن گیا ہے۔۔
ان دو بیانیوں کی ملی جلی کشش تھی جس نے بھارت کی انتہا پسند ہندتوا پرست جماعت بی جے پی کو بھی میاں صاحب کی طرف کھینچ لیا۔ پہلے واجپائی میاںصاحب کے عشق میں گرفتار ہوئے۔ پھر مودی میاں صاحب پر فریفتہ ہوگئے۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ اس کی ترجیحات وہ نہیں رہیں جو سرد جنگ کے زمانے میں تھیں۔ اب اس کی خارجہ پالیسی میں چین کو ” رقیب اول“ بلکہ دشمن اول کا درجہ حاصل ہے اور اس نے چین کے مقابلے کے لئے اس خطے میں بھارت کو امریکی مفادات کا کماندار بنانے کا فیصلہ جارج بش کے زمانے میں ہی کر لیا تھا۔ بھارت اور امریکہ دونوں کے لئے پاکستان میں ایک طاقتور فوج کا وجود ان کے دور رس مقاصد کے لئے زہرِقاتل کا درجہ رکھتا ہے۔ ۔ چنانچہ دونوں کی نظروں میں میاں صاحب ”ایک قیمتی اثاثے“ کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔ واشنگٹن اور نیو دہلی میں یکساں طور پر یہ سوچ مقبول ہے کہ اگر کوئی شخص پاکستان کو ” ایٹمی ہتھیاروں“ سے پاک کر سکتا ہے تو وہ میاں نواز شریف ہے۔ جہاں تک سرجیکل سٹرائکس کے ذریعے پاکستان کی ایٹمی قوت کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی کا تعلق ہے یہ کبھی کاغذوں سے باہر نہیں نکل پائے گی۔ تل ابیب اور نیو دہلی دونوں پاکستان کی ایٹمی ”پہنچ “ میں ہیں۔۔۔ اگر پاکستان کے خلاف کوئی ایسی ویسی کارروائی کی گئی تو MADیعنیMutually Assured Destruction(لازمی باہمی تباہی) کا مسلمہ اصول نافذ ہو جائے گا۔۔۔
میاں نواز شریف سرجیکل سٹرائک سے کہیں بہتر چوائس ہیں۔

Scroll To Top